ٹیگ کے محفوظات: بنانے

میں ست رنگی پھول بنانے والا ہوں

کوزہ گر کا ہاتھ بٹانے والا ہوں
میں ست رنگی پھول بنانے والا ہوں
دشمن کو بےکار سمجھنے والوں کو
دشمن کے اوصاف بتانے والا ہوں
چاک گریباں دیوانوں کی دعوت پر
وحشت کی تحریک چلانے والا ہوں
ایک اذیت زندہ رہنے والی ہے
میں جس کو تحریر میں لانے والا ہوں
گھر کی دیواروں سے کہنا سو جائیں
میں پہرے پر خواب بٹھانے والا ہوں
ہے کوئی ایسا جو میری امداد کرے
میں شہروں میں امن اگانے والا ہوں
افتخار فلک

زاغ جُتے دیکھے، پس خوردہ کھانے میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
فرق نہ سمجھیں کچھ دھُتکارے جانے میں
زاغ جُتے دیکھے، پس خوردہ کھانے میں
پیڑ بحالِ ضعف بھی ہے مسرور لگا
خشک زبانوں کے پرچم لہرانے میں
پر ٹُوٹے اور ساتھ ہوا نے چھوڑ دیا
سطر بڑھا دو یہ بھی اب افسانے میں
لو اس کو بھی تکڑی تول جو رکھتا تھا
وقت نے دیر نہ کی عادل ٹھہرانے میں
اپنی جگہ امید سے پیروکار سبھی
رہبر محو ہے ماجد، مال بنانے میں
ماجد صدیقی

چیتے مل کر خون سے پیاس بُجھانے نکلے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے
چیتے مل کر خون سے پیاس بُجھانے نکلے
اَب کے ستمگر ، کھوپڑیوں سے ہوں جو مرصّع
اُن میناروں کی بنیاد اُٹھانے نکلے
وہ کہ بہت نازاں تھے مہذّب ہونے پر جو
ہوّے بن کر خلق کو ہیں دہلانے نکلے
یکجا کر کے جتنے کھلونے تھے بارودی
بالغ بچّے ، الٹا کھیل رچانے نکلے
ہم نے جلائے شہروں شہروں جن کے پُتلے
وہ جسموں کی تازہ فصل جلانے نکلے
ہم جانے کس بِرتے پر نم آنکھیں لے کر
سنگ دلوں کو ماجد موم بنانے نکلے
ماجد صدیقی

پھُول مرضی کے کسی کو نہ کھلانے دینا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 92
آگ ہونٹوں پہ نہ دل کی کبھی آنے دینا
پھُول مرضی کے کسی کو نہ کھلانے دینا
چکھنے دینا نہ کبھی لمحۂ موجود کا رس
جب بھی دینا ہمیں تم خواب سُہانے دینا
جس کی تعمیر میں کاوش کا مزہ اُس کو مِلے
تُم نہ بالک کو گھروندا وُہ بنانے دینا
روشنی جس کے مکینوں کو بصیرت بخشے
ایسی کٹیا میں دیا تک نہ جلانے دینا
راندۂ خلق ہے، جو پاس تمہارا نہ کرے
درس اب یہ بھی کسی اور بہانے دینا
سنگ ہو جاؤ گے حق بات ہے جس میں ماجدؔ
ایسی آواز نہ تم شہ کے سرہانے دینا
ماجد صدیقی

کوئی موسم ہو مرا دل ہی دکھانے آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 134
برگ و گل نوچنے، اثمار گرانے آئے
کوئی موسم ہو مرا دل ہی دکھانے آئے
کچھ بتانے سے اگر بادِصبا عاری ہے
بادِ صرصر ہی سماعت کو جلانے آئے
جس پہ جاں وارنے والا ہے زمانہ سارا
وُہ ہم ایسوں کے کہاں ناز اُٹھانے آئے
نام لکھتے تھے سرِ لوحِ شجر جب اُس کا
لوٹ کر پھر نہ وُہ نادان زمانے آئے
آس بھی دشت میں بس ٹُنڈ شجر ہی نکلی
اوٹ میں جس کی بدن ہم تھے چھپانے آئے
کیا کہوں اُن کی نظر بھی تو مرے رخت پہ تھی
تھے بھنور سے جو مری جان بچانے آئے
کر گئے اور ہرے زخم، قفس میں ماجدؔ!
جتنے جھونکے مرا اندوہ گھٹانے آئے
ماجد صدیقی

لفظ مُنہ پر کوئی تو آنے دو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
گنگُ جذبوں کو چہچہانے دو
لفظ مُنہ پر کوئی تو آنے دو
پھینک کر اب کے آخری پتّا
کھیل کو رُخ نیا دلانے دو
سیج پر شاخِ آرزُو سے گری
پتّیاں تُم مجھے بچھانے دو
وقت کے جلترنگ سے نہ ڈرو
اِس کو یہ ساز اب بجانے دو
جن پہ سُورج کبھی نہیں اُبھرا
وُہ اُفق اب کے جگمگانے دو
یہ اعادہ ہی بچپنے کا سہی
کُچھ گھروندے مگر بنانے دو
اشک دے گا پتہ ضرور اپنا
خاک میں یہ نمی سمانے دو
ماجد صدیقی

ہم تو سیدھے لوگ ہیں یارو، وہی پرانے والے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 69
ہمیں نہیں آتے یہ کرتب نئے زمانے والے
ہم تو سیدھے لوگ ہیں یارو، وہی پرانے والے
ان کے ہوتے کوئی کمی ہے راتوں کی رونق میں؟
یادیں خواب دکھانے والی، خواب سہانے والے
کہاں گئیں رنگین پتنگیں، لٹو، کانچ کے بنٹے؟
اب تو کھیل بھی بچوں کے ہیں دل دہلانے والے
وہ آنچل سے خوشبو کی لپٹیں بکھراتے پیکر
وہ چلمن کی اوٹ سے چہرے چھب دکھلانے والے
بام پہ جانے والے جانیں اس محفل کی باتیں
ہم تو ٹھہرے اس کوچے میں خاک اڑانے والے
جب گزرو گے ان رستوں سے تپنی دھوپ میں تنہا
تمہیں بہت یاد آئیں گے ہم سائے بنانے والے
تم تک شاید دیر سے پہنچےمرا مہذب لہجہ
پہلے ذرا خاموش تو ہوں یہ شور مچانے والے
ہم جو کہیں سو کہنے دنیا، سنجیدہ مت ہونا
ہم تو ہیں ہی شاعر بات سے بات بنانے والے
اچھا؟ پہلی بار کسی کو میری فکر ہوئی ہے؟
میں نے بہت دیکھے ہیں تم جیسے سمجھانے والے
ایسے لبالب کب بھرتا ہے ہر امید کا کاسہ؟
مجھ کو حسرت سے تکتے ہیں آنے جانے والے
سفاکی میں ایک سے ہیں سب، جن کے ساتھ بھی جاؤ
کعبے والے اِس جانب ہیں، وہ بت خانے والے
میرے شہر میں مانگ ہے اب تو بس ان لوگوں کی ہے
کفن بنانے والے یا مردے نہلانے والے
گیت سجیلے بول رسیلے کہاں سنو گے اب تم
اب تو کہتا ہے عرفان بھی شعر رلانے والے
عرفان ستار

جاگا تو میں خود اپنے ہی سرہانے بیٹھا تھا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 10
خواب میں کوئی مجھ کو آس دلانے بیٹھا تھا
جاگا تو میں خود اپنے ہی سرہانے بیٹھا تھا
یونہی رکا تھا دم لینے کو، تم نے کیا سمجھا؟
ہار نہیں مانی تھی بس سستانے بیٹھا تھا
خود بھی لہو لہان ہُوا دل، مجھے بھی زخم دیئے
میں بھی کیسے وحشی کو سمجھانے بیٹھا تھا
لاکھ جتن کرنے پر بھی کم ہُوا نہ دل کا بوجھ
کیسا بھاری پتھر میں سرکانے بیٹھا تھا
تارے کرنوں کی رتھ پر لائے تھے اُس کی یاد
چاند بھی خوابوں کا چندن مہکانے بیٹھا تھا
نئے برس کی خوشیوں میں مشغول تھے سب، اور میں
گئے برس کی چوٹوں کو سہلانے بیٹھا تھا
وہ تو کل جھنکار سے پرکھ لیا اُس گیانی نے
میں تو پیتل کے سکۤے چمکانے بیٹھا تھا
دشمن جتنے آئے ان کے خطا ہوئے سب تیر
لیکن اپنوں کا ہر تیر نشانے بیٹھا تھا
قصوں کو سچ ماننے والے، دیکھ لیا انجام؟
پاگل جھوٹ کی طاقت سے ٹکرانے بیٹھا تھا
مت پوچھو کتنی شدت سے یاد آئی تھی ماں
آج میں جب چٹنی سے روٹی کھانے بیٹھا تھا
اپنا قصور سمجھ نہیں آیا جتنا غور کیا
میں تو سچے دل سے ہی پچھتانے بیٹھا تھا
عین اُسی دم ختم ہوئی تھی مہلت جب عرفان
خود کو توڑ چکا تھا اور بنانے بیٹھا تھا
عرفان ستار

میں خود ہی فلک کا ستایا ہوا ہوں مجھے تم ستانے کی کوشش نہ کرنا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 11
خدا تم کو توفیقِ رحم و کرم دے، مرا دل دکھانے کی کوشش نہ کرنا
میں خود ہی فلک کا ستایا ہوا ہوں مجھے تم ستانے کی کوشش نہ کرنا
بہاروں کی آخر کوئی انتہا ہے کہ پھولوں سے شاخیں جھکی جا رہی ہیں
یہی وقت ہے بجلیاں ٹوٹنے کا، نشیمن بنانے کی کوشش نہ کرنا
میں حالاتِ شامِ الم کہہ رہا ہوں ذرا غیرتِ عشق ملحوظِ خاطر
تمھیں عمر بھر مجھ کو رونا پڑے گا کہیں مسکرانے کی کوشش نہ کرنا
تجھے باغباں پھر میں سمجھا رہا ہوں ہواؤں کے اور کچھ کہہ رہے ہیں
کہیں آگ پھیلے نہ سارے چمن میں مرا گھر جلانے کی کوشش نہ کرنا
دلِ مضطرب سن کہ افسانۂ غم وہ ناراض ہو کر ابھی سو گئے ہیں
جو چونکے تو اک حشر کر دیں گے برپا انھیں تو جگانے کی کوشش نہ کرنا
یہ محفل ہے بیٹھے ہیں اپنے پرائے بھلے کے لئے دیکھو سمجھا رہا ہوں
کہ حرف آئے گا آپ کی آبرو پر یہاں پر رلانے کی کوشش نہ کرنا
تمنائے دیدار رہنے دو سب کی نہیں ہے کسی میں بھی تابِ نظارہ
ابھی طور کا حادثہ ہو چکا ہے تجلی دکھانے کی کوشش نہ کرنا
عدو شب کو ملتے ہیں ہر راستے میں نتیجہ ہی کیا ان کی رسوائیاں ہوں
قمر چاندنی آج پھیلی ہوئی ہے انھیں تم بلانے کی کوشش نہ کرنا
قمر جلالوی

جو مجھ پہ ہنسا کرتے تھے وہ روتے ہیں سرہانے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 6
تاثیر پسِ مرگ دکھائی ہے وفا نے
جو مجھ پہ ہنسا کرتے تھے وہ روتے ہیں سرہانے
کیا کہہ دیا چپکے سے نہ معلوم قضا میں
کوٹ بھی نہ بدلی ترے بیمارِ جفا نے
ہستی مری کیا جاؤں اس بت کو منانے
وہ ضد پہ جو آئے تو فرشتوں کی نہ مانے
اوراقِ گلِ تر جو کبھی کھولے صبا نے
تحریر تھے لاکھوں مری وحشت کے فسانے
رخ دیکھ کہ خود بن گیا آئینے کی صورت
بیٹھا جو مصور تری تصویر بنانے
نالے نہیں کھیل اسیرانِ قفس کے
صیاد کے آ جائیں گے سب ہوش ٹھکانے
ہمسائے بھی جلنے لگے جلتے ہی نشیمن
بھڑکا دیا اور آگ کو پتوں کی ہوا نے
پہلی سی قمر چشمِ عنایت ہی نہیں
رخ پھیر دیا ان کا زمانے کی ہوا نے
قمر جلالوی

خبر کیوں پوچھتے ہیں مجھ سے لڑکے اس دوانے کی

دیوان سوم غزل 1299
کہو کچھ میر کی وحشت سے ان گلیوں میں آنے کی
خبر کیوں پوچھتے ہیں مجھ سے لڑکے اس دوانے کی
جہاں سے دل کو دیکھو منھ نظر جوں کان طلق آوے
نہ کی کچھ قدر اس نے حیف اس آئینہ خانے کی
ہمیں لیتے ہو آنکھیں موند کر لو تم کہ جنس اپنی
وفا و مہر ہے سو وہ نہیں بابت دکھانے کی
کہو ہو زیرلب کیا دیکھ کر ہم ناتوانوں کو
ہماری جان میں طاقت نہیں باتیں اٹھانے کی
برنگ طائر نوپر ہوئے آوارہ ہم اٹھ کر
کہ پھر پائی نہ ہم نے راہ اپنے آشیانے کی
عجب چوپڑ بچھی ہے ہر زماں اڑتا ہے رنگ اپنا
سمجھ میں چال کچھ آتی نہیں اپنے زمانے کی
اگر طالع کرے یاری تو مریے کربلا جا کر
عبیر اپنے کفن کی خاک ہو اس آستانے کی
غزل اک اور بھی اس گل زمیں میں قصد ہے کہیے
ہوئی ہے اب تو خو آخر ہمیں باتیں بنانے کی
میر تقی میر

نہیں آتیں کیا تجھ کو آنے کی باتیں

دیوان سوم غزل 1189
نہ کر شوق کشتوں سے جانے کی باتیں
نہیں آتیں کیا تجھ کو آنے کی باتیں
سماجت جو کی بوس لب پر تو بولا
نہیں خوب یہ مار کھانے کی باتیں
زبانیں بدلتے ہیں ہر آن خوباں
یہ سب کچھ ہیں بگڑے زمانے کی باتیں
نظر جب کرو زیر لب کچھ کہے ہے
کہو یار کے آستانے کی باتیں
سہی جائے گالی اگر دوستی ہو
بری بھی بھلی ہیں لگانے کی باتیں
ہمیں دیر و کعبے سے کیا گفتگو ہے
چلی جاتی ہیں یہ سیانے کی باتیں
بگڑ بھی چکے یار سے ہم تو یارو
کرو کچھ اب اس سے بنانے کی باتیں
کیا سیر کل میں نے دیوان مجنوں
خوش آئیں بہت اس دوانے کی باتیں
بہت ہرزہ گوئی کی یاں میر صاحب
کرو واں کے کچھ منھ دکھانے کی باتیں
میر تقی میر

جانے کس شہر گئے شہر بسانے والے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 553
ناچنے والے وہ درویش وہ گانے والے
جانے کس شہر گئے شہر بسانے والے
بامِ تالاب پہ آباد کتابیں اور ہم
کیا ہوئے شمس وہ تبریز سے آنے والے
اب کہاں غالب و اقبال، کہاں فیض و فراز
رہ گئے ہم ہی فقط راکھ اڑانے والے
لفظ زندہ رہے شہ نامہء فردوسی کے
طاقِ نسیاں ہوئے ایران بنانے والے
کیا ہوئے درد کسی یاد کے مہکے مہکے
رات کے پچھلے پہر آ کے جگانے والے
اپنی صورت ہی نظر آنی تھی چاروں جانب
دیکھتے کیسے ہمیں آئنہ خانے والے
غزوئہ آتشِ نمرود ہو یا آتشِ دل
ہم ہمیشہ رہے بس آگ بجھانے والے
یہ شکاری نہیں حاسد ہیں ، ہماری زد میں
دیکھ کر حسنِ چمن شور مچانے والے
عشق کیا تجھ سے کیا جرم کیا ہے ہم نے
اب تو دہلیز تلک آگئے تھانے والے
اب کہاں شہرِ خموشاں میں ہم ایسے منصور
مردہ قبروں پہ چراغوں کو جلانے والے
منصور آفاق

ہم کہاں اور ٹھکانے پاتے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 195
تیرے در تک نہیں جانے پاتے
ہم کہاں اور ٹھکانے پاتے
ہر قدم پر ہے نیا ہنگامہ
ہوش میں ہم نہیں آنے پاتے
جلوہ پردہ ہے تو پردہ جلوہ
کیا ترا بھید زمانے پاتے
تم عناں گیر جنوں ہو ورنہ
چور چور آئنہ خانے پاتے
لوگ غربت کا گلہ کرتے ہیں
ہم وطن سے نہیں جانے پاتے
درد ہوتا تو مسلسل ہوتا
دل کو ہم دل تو بنانے پاتے
غم اگر ساتھ نہ دیتا باقیؔ
دشت بھی ہم نہ بسانے پاتے
باقی صدیقی