ٹیگ کے محفوظات: بنائی

زیادہ رہ نہیں سکتا کوئی کسی کی جگہ

قرار پاتے ہیں آخر ہم اپنی اپنی جگہ
زیادہ رہ نہیں سکتا کوئی کسی کی جگہ
بنانی پڑتی ہے ہر شخص کو جگہ اپنی
ملے اگرچہ بظاہر بنی بنائی جگہ
دل و نظر کی جو بچھڑے ہوئے تھے مدت سے
ہوئی ہے آج ملاقات اک پرانی جگہ
ہیں اپنی اپنی جگہ مطمئن جہاں سب لوگ
تصورات میں اپنے ہے ایک ایسی جگہ
یہاں نہ جینے کا وہ لطف ہے نہ مرنے کا
کہا تھا کس نے کہ آ کر رہو پرائی جگہ
گِلہ بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی
وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ
نہیں ہے سہل کوئی جانشینِ قیس ملے
پڑی ہوئی ہے بڑی دیر سے یہ خالی جگہ
کیے ہوئے ہے فراموش تو جسے باصرِؔ
وہی ہے اصل میں تیرا مقام تیری جگہ
باصر کاظمی

نگاہِ شوق جب تصویر ان کی کھینچ لائی ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 133
انھیں پردے کی اب سوجھی ہے اب صورت چھپائی ہے
نگاہِ شوق جب تصویر ان کی کھینچ لائی ہے
وہ یکتا حسن میں ہو کر کہیں آگے نہ بڑھ جائیں
خدا بننے میں کیا ہے جب کہ قبضہ میں خدائی ہے
خبر بھی ہے زمانہ اب سلامت رہ نہیں سکتا
جوانی تجھ پہ او ظالم قیامت بن کے آئی ہے
یہی دن تھے یہی عالم تھا بجلی ٹوٹ پڑنے کا
چمن کی خیر ہو یا رب ہنسی پھولوں کو آئی ہے
ہمارا آشیاں دیکھو بلندیِ فلک دیکھو
کہاں سے چار تنکے پھونکنے کو برق آئی ہے
یہاں تک پڑ چکے ہیں وقت مایوسِ تمنا پر
تری تصویر کو رودادِ شامِ غم سنائی ہے
اڑا لے ہم غریبوں کا مذاق آخر کو زر والے
ترے رونے پہ اے شبنم ہنسی پھولوں کو آئی ہے
تم اپنا حسن دیکھو اپنی فطرت پہ نظر ڈالو
گریباں دیکھ کر کہتے ہو کیا صورت بنائی ہے
قمر ان کو تو مستحکم ہے وعدہ شب کو آنے کا
نہ جانے کیوں اداسی شام سے تاروں پہ چھائی ہے
قمر جلالوی

تیرے ساتھ تری یاد آئی، تو کیا سچ مچ آئی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 202
تو بھی چپ ہے، میں بھی چپ ہوں، یہ کیسی تنہائی ہے
تیرے ساتھ تری یاد آئی، تو کیا سچ مچ آئی ہے
شاید وہ دن پہلا دن تھا، پلکیں بوجھل ہونے کا
مجھ کو دیکھتے ہی اس کی انگڑائی شرمائی ہے
اس دن پہلی بار ہوا تھا مجھ کو رفاقت کا احساس
جب اس کے ملبوس کی خوشبو گھر پہنچانے آئی ہے
حسن سے عرضِ شوق نہ کرنا حسن کو زک پہنچانا ہے
ہم نے عرضِ شوق نہ کر کے حسن کو زک پہنچائی ہے
ہم کو اور تو کچھ نہیں سوجھا البتہ اس کے دل میں
سوزِ رفاقت پیدا کر کے اس کی نیند اڑائی ہے
ہم دونوں مل کر بھی دلوں کی تنہائی میں بھٹکیں گے
پاگل کچھ تو سوچ یہ تو نے کیسی شکل بنائی ہے
عشقِ پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیل چڑھے
کیاری میں پانی ٹھیرا ہے، دیواروں پر کائی ہے
حسن کے جانے کتنے چہرے، حسن کے جانے کتنے نام
عشق کا پیشہ حسن پرستی، عشق بڑا ہرجائی ہے
آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آ نکلا تھا
جوں ہی دروازہ کھولا ہے اس کی خوشبو آئی ہے
ایک تو اتنا حبس ہے پھر میں سانسیں روک کے بیٹھا ہوں
ویرانی نے جھاڑو دے کر گھر کی دھول اڑائی ہے
جون ایلیا

عشق ہے فقر ہے جدائی ہے

دیوان پنجم غزل 1779
ان بلائوں سے کب رہائی ہے
عشق ہے فقر ہے جدائی ہے
دیکھیے رفتہ رفتہ کیا ہووے
ہم بھی چلنے کو ہیں کہ آئی ہے
استخواں کانپ کانپ جلتے ہیں
عشق نے آگ یہ لگائی ہے
دل کو کھینچے ہے چشمک انجم
آنکھ ہم نے کہاں لڑائی ہے
اس صنائع کا اس بدائع کا
کچھ تعجب نہیں خدائی ہے
نہ تو جذب رسا نہ بخت رسا
کیونکے کہیے کہ واں رسائی ہے
ہے تصنع کہ اس کے لب ہیں لعل
سب نے اک بات یہ بنائی ہے
کیا کہوں خشم عشق سے جو مجھے
کبھو جھنجھلاہٹ آہ آئی ہے
ایسا چہرے پہ ہے نہوں کا خراش
جیسے تلوار منھ پہ کھائی ہے
میں نہ آتا تھا باغ میں اس بن
مجھ کو بلبل پکار لائی ہے
آئی اس جنگ جو کی گر شب وصل
شام سے صبح تک لڑائی ہے
اور کچھ مشغلہ نہیں ہے ہمیں
گاہ و بے گہ غزل سرائی ہے
توڑ کر آئینہ نہ جانا یہ
کہ ہمیں صورت آشنائی ہے
میر تقی میر

سخت کدورت بیچ میں آئی صبح تلک نہ صفائی ہوئی

دیوان پنجم غزل 1725
رات کو تھا کعبے میں میں بھی شیخ حرم سے لڑائی ہوئی
سخت کدورت بیچ میں آئی صبح تلک نہ صفائی ہوئی
تہمت رکھ مستی کی مجھ پر شیخ شہر کنے لایا
وہ بھی بگڑا حد سے زیادہ سن کر بات بنائی ہوئی
شیشہ ان نے گلے میں ڈلوا شہر میں سب تشہیر کیا
ہائے سیہ رو عاشق کی عالم میں کیا رسوائی ہوئی
کیسی ہی شکلیں سامنے آویں مژگاں وا اودھر نہ کروں
حور و پری پر آنکھ نہیں پڑتی ہے کسو سے لگائی ہوئی
حوصلہ داری کیا ہے اتنی قدرت کچھ ہے خدا ہی کی
عالم عالم جہاں جہاں جو غم کی ہم میں سمائی ہوئی
دیکھ کے دست و پاے نگاریں چپکے سے رہ جاویں نہ کیوں
منھ بولے ہے یارو گویا مہندی اس کی رچائی ہوئی
دل میں درد جگر میں طپیدن سر میں شور آشفتہ دماغ
کیا کیا رنج اٹھائے گئے ہیں جب سے ان سے جدائی ہوئی
ہفتم چرخ سے اودھر ہوکر عرش کو پہنچی میری دعا
اور رسائی کیا ہوتی ہے گوکہ کہیں نہ رسائی ہوئی
دود دل سوزان محبت محو جو ہو تو عرش پہ ہو
دور بجھے گی یعنی جاکر عشق کی آگ لگائی ہوئی
یہ یہ بلائیں سر پر ہیں تو آج موئے کل دوسرا دن
یاری ہوئی بیماری ہوئی درویشی ہوئی تنہائی ہوئی
اتنی لگوہیں چشم کسو کی قہر قیامت آفت ہے
تم نے دیکھی نہیں ہے صاحب آنکھ کوئی شرمائی ہوئی
جب موسم تھا وا ہونے کا تب تو شگفتہ ٹک نہ ہوا
اب جو بہت افسردہ ہوا ہے دل ہے کلی مرجھائی ہوئی
اس کی طرف جو لی ہم نے ہے اپنی طرف سے پھرا عالم
یعنی دوستی سے اس بت کی دشمن ساری خدائی ہوئی
ہم قیدی بھی موسم گل کے کب سے توقع رکھتے تھے
دیر بہار آئی اب کے پر اسیروں کی نہ رہائی ہوئی
کہنا جو کچھ جس سے ہو گا سامنے میر کہا ہو گا
بات نہ دل میں پھر گئی ہو گی منھ پہ میرے آئی ہوئی
میر تقی میر

سحر تک سب ان نے ہی کھائی تھی شمع

دیوان پنجم غزل 1645
لیے داغ سر پر جو آئی تھی شمع
سحر تک سب ان نے ہی کھائی تھی شمع
پتنگے کے حق میں تو بہتر ہوئی
اگر موم کی بھی بنائی تھی شمع
نہ اس مہ سے روشن تھی شب بزم میں
نکالا تھا اس کو چھپائی تھی شمع
وہی ساتھ تھا میرے شب گیر میں
کہ تاب اس کے رخ کی نہ لائی تھی شمع
پتنگ اور وہ کیوں نہ باہم جلیں
کہیں سے مگر اک لگ آئی تھی شمع
فروغ اس کے چہرے کا تھا پردہ در
ہوا کیا جو ہم نے بجھائی تھی شمع
تف دل سے میر اک کف خاک ہے
مری خاک پر کیوں جلائی تھی شمع
میر تقی میر

اس لب و لہجے پر بلبل کو اس کے آگے نہ آئی بات

دیوان پنجم غزل 1583
باد صبا نے اہل چمن میں اس چہرے کی چلائی بات
اس لب و لہجے پر بلبل کو اس کے آگے نہ آئی بات
دور تلک قاصد کے پیچھے کچھ کہتا میں جاتا تھا
شوق ستم کش ظالم نے کیا رفتہ رفتہ بڑھائی بات
آگ ہوا آتے ہی میرے لال آنکھیں کر گھور رہا
کیا جانوں سرگوشی میں کیا غیر نے اس سے لگائی بات
لعل کو نسبت ان ہونٹوں سے دینا سب کا تصنع تھا
کچھ بن آئی جب نہ کسو سے تب یہ ایک بنائی بات
غیر سے کچھ کچھ کہتا تھا سو سامنے سے میر آیا میں
پھیر لیا منھ میری طرف سے یعنی مجھ سے چھپائی بات
میر تقی میر

یار گیا مجلس سے دیکھیں کس کس کی اب آئی ہے

دیوان چہارم غزل 1495
حال نہیں ہے دل میں مطلق شور و فغاں رسوائی ہے
یار گیا مجلس سے دیکھیں کس کس کی اب آئی ہے
آنکھیں مل کر کھولیں ان نے عالم میں آشوب اٹھا
بال کھلے دکھلائی دیا سو ہر کوئی سودائی ہے
ڈول بیاں کیا کوئی کرے اس وعدہ خلاف کی دیہی کا
ڈھال کے سانچے میں صانع نے وہ ترکیب بنائی ہے
نسبت کیا ان لوگوں سے ہم کو شہری ہیں دیوانے ہم
ہے فرہاد اک آدم کوہی مجنوں اک صحرائی ہے
ہے پتھر سا چھاتی میں میری کثرت غم کی حیرت سے
کیا کہیے پہلو سے دل کے سخت اذیت پائی ہے
باغ میں جاکر ہم جور ہے سو اور دماغ آشفتہ ہوا
کیا کیا سر پہ ہمارے آ کر بلبل شب چلائی ہے
کیسا کیسا عجز ہے اپنا کیسے خاک میں ملتے ہیں
کیا کیا ناز و غرور اس کو ہے کیا کیا بے پروائی ہے
قصہ ہم غربت زدگاں کا کہنے کے شائستہ نہیں
بے صبری کم پائی ہے پھر دور اس سے تنہائی ہے
چشمک چتون نیچی نگاہیں چاہ کی تیری مشعر ہیں
میر عبث مکرے ہے ہم سے آنکھ کہیں تو لگائی ہے
میر تقی میر

ہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے

دیوان دوم غزل 1047
کوفت سے جان لب پہ آئی ہے
ہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے
لکھتے رقعہ لکھے گئے دفتر
شوق نے بات کیا بڑھائی ہے
آرزو اس بلند و بالا کی
کیا بلا میرے سر پہ لائی ہے
دیدنی ہے شکستگی دل کی
کیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے
ہے تصنع کہ لعل ہیں وے لب
یعنی اک بات سی بنائی ہے
دل سے نزدیک اور اتنا دور
کس سے اس کو کچھ آشنائی ہے
بے ستوں کیا ہے کوہکن کیسا
عشق کی زور آزمائی ہے
جس مرض میں کہ جان جاتی ہے
دلبروں ہی کی وہ جدائی ہے
یاں ہوئے خاک سے برابر ہم
واں وہی ناز و خودنمائی ہے
ایسا موتیٰ ہے زندئہ جاوید
رفتۂ یار تھا جب آئی ہے
مرگ مجنوں سے عقل گم ہے میر
کیا دوانے نے موت پائی ہے
میر تقی میر

اللہ رے اثر سب کے تئیں رفتگی آئی

دیوان دوم غزل 961
مطرب سے غزل میر کی کل میں نے پڑھائی
اللہ رے اثر سب کے تئیں رفتگی آئی
اس مطلع جاں سوز نے آ اس کے لبوں پر
کیا کہیے کہ کیا صوفیوں کی چھاتی جلائی
خاطر کے علاقے کے سبب جان کھپائی
اس دل کے دھڑکنے سے عجب کوفت اٹھائی
گو اس رخ مہتابی سے واں چاندنی چھٹکی
یاں رنگ شکستہ سے بھی چھٹتی ہے ہوائی
ہر بحر میں اشعار کہے عمر کو کھویا
اس گوہر نایاب کی کچھ بات نہ پائی
بھیڑیں ٹلیں اس ابروے خم دار کے ہلتے
لاکھوں میں اس اوباش نے تلوار چلائی
دل اور جگر جل کے مرے دونوں ہوئے خاک
کیا پوچھتے ہو عشق نے کیا آگ لگائی
قاصد کے تصنع نے کیا دل کے تئیں داغ
بیتاب مجھے دیکھ کے کچھ بات بنائی
چپکی ہے مری آنکھ لب لعل بتاں سے
اس بات کے تیں جانتی ہے ساری خدائی
میں دیر پہنچ کر نہ کیا قصد حرم پھر
اپنی سی جرس نے کی بہت ہرزہ درائی
فریاد انھیں رنگوں ہے گلزار میں ہر صبح
بلبل نے مری طرز سخن صاف اڑائی
مجلس میں مرے ہوتے رہا کرتے ہو چپکے
یہ بات مری ضد سے تمھیں کن نے بتائی
گردش میں جو ہیں میر مہ و مہر و ستارے
دن رات ہمیں رہتی ہے یہ چشم نمائی
میر تقی میر

پر ہم سے تو تھمے نہ کبھو منھ پر آئی بات

دیوان دوم غزل 784
ہوتی ہے گرچہ کہنے سے یارو پرائی بات
پر ہم سے تو تھمے نہ کبھو منھ پر آئی بات
جانے نہ تجھ کو جو یہ تصنع تو اس سے کر
تس پر بھی تو چھپی نہیں رہتی بنائی بات
لگ کر تدرو رہ گئے دیوار باغ سے
رفتار کی جو تیری صبا نے چلائی بات
کہتے تھے اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے لیک
وہ آگیا تو سامنے اس کے نہ آئی بات
اب تو ہوئے ہیں ہم بھی ترے ڈھب سے آشنا
واں تونے کچھ کہا کہ ادھر ہم نے پائی بات
بلبل کے بولنے میں سب انداز ہیں مرے
پوشیدہ کب رہے ہے کسو کی اڑائی بات
بھڑکا تھا رات دیکھ کے وہ شعلہ خو مجھے
کچھ رو سیہ رقیب نے شاید لگائی بات
عالم سیاہ خانہ ہے کس کا کہ روز و شب
یہ شور ہے کہ دیتی نہیں کچھ سنائی بات
اک دن کہا تھا یہ کہ خموشی میں ہے وقار
سو مجھ سے ہی سخن نہیں میں جو بتائی بات
اب مجھ ضعیف و زار کو مت کچھ کہا کرو
جاتی نہیں ہے مجھ سے کسو کی اٹھائی بات
خط لکھتے لکھتے میر نے دفتر کیے رواں
افراط اشتیاق نے آخر بڑھائی بات
میر تقی میر

صحرا نے پھر خاک اڑائی پانی کی

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 3
ریت پہ جب تصویر بنائی پانی کی
صحرا نے پھر خاک اڑائی پانی کی
خون کی ندیاں بہہ جانے کے بعد کھلا
دونوں کے ہے بیچ لڑائی پانی کی
کشتی کب غرقاب ہوئی معلوم نہیں
آنکھوں نے تصویر بنائی پانی کی
ہم تو خون جلا کر بھوکے رہتے ہیں
کھاتے ہیں کچھ لوگ کمائی پانی کی
اس میں جتنے لوگ بھی اترے ڈوب گئے
کون بتائے اب گہرائی پانی کی
منہ میں اب تک اس کی لذت باقی ہے
جو نمکینی تھی صحرائی پانی کی
میری خاطر خاک میں جو تحلیل ہوئے
یاد آئے تو یاد نہ آئی پانی کی
آج وہ مجھ کو ٹوٹ کے یاد آیا توقیر
آنکھوں میں پھر رت گدرائی پانی کی
توقیر عباس