ٹیگ کے محفوظات: بلب

بے وجہ غضب رہنے کا پوچھیں جو سبب ہم

دیوان دوم غزل 858
محرم سے کسو روبرو ہوں کاشکے اب ہم
بے وجہ غضب رہنے کا پوچھیں جو سبب ہم
تدبیریں کریں اپنے تن زار و زبوں کی
افراط سے اندوہ کی ہوں آپ میں جب ہم
تو لاگو نہ ہو جی کا تو ناچار ہیں ورنہ
اس جنس گراں مایہ سے گذرے نہیں کب ہم
یک سلسلہ ہے قیس کا فرہاد کا اپنا
جوں حلقۂ زنجیر گرفتار ہیں سب ہم
کس دن نہ ملا غیر سے تو گرم علی الرغم
رہتے ہیں یوں ہی لوٹتے انگاروں پہ شب ہم
مجمع میں قیامت کے اک آشوب سا ہو گا
آنکلے اگر عرصے میں یوں نالہ بلب ہم
کیا معرفت اس سے ہوئی یاروں کو نہ سمجھے
اب تک تو نہیں پاتے ہیں کچھ یار کے ڈھب ہم
گہ نوچ لیا منھ کو گہے کوٹ لی چھاتی
دل تنگی ہجراں سے ہیں مغلوب غضب ہم
آغاز محبت میں تمامی ہوئی اپنی
اے واے ہوئے خاک بسر راہ طلب ہم
تربت سے ہماری نہ اٹھی گرد بھی اے میر
جی سے گئے لیکن نہ کیا ترک ادب ہم
میر تقی میر

ہر روز دل کو سوز ہے ہر شب تعب ہے اب

دیوان دوم غزل 772
جیسا مزاج آگے تھا میرا سو کب ہے اب
ہر روز دل کو سوز ہے ہر شب تعب ہے اب
سدھ کچھ سنبھالتے ہی وہ مغرور ہو گیا
ہر آن بے دماغی و ہر دم غضب ہے اب
دوری سے اس کی آہ عجب حال میں ہیں لوگ
کچھ بھی جو پاس وہ نہ کرے تو عجب ہے اب
طاقت کہ جس سے تاب جفا تھی سو ہوچکی
تھوڑی سی کوفت میں بھی بہت سا تعب ہے اب
دریا چلا ہے آج تو بوس و کنار کا
گر جی چلاوے کوئی دوانہ تو ڈھب ہے اب
جاں بخشیاں جو پیشتر از خط کیا کیے
ان ہی لبوں سے خلق خدا جاں بلب ہے اب
رنجش کی وجہ آگے تو ہوتی بھی تھی کوئی
روپوش ہم سے یار جو ہے بے سبب ہے اب
نے چاہ وہ اسے ہے نہ مجھ کو ہے وہ دماغ
جانا مرا ادھر کو بشرط طلب ہے اب
جاتا ہوں دن کو ملنے تو کہتا ہے دن ہے میر
جو شب کو جایئے تو کہے ہے کہ شب ہے اب
میر تقی میر

چپکے ہی چپکے ان نے ہمیں جاں بلب کیا

دیوان دوم غزل 732
اس بد زباں نے صرف سخن آہ کب کیا
چپکے ہی چپکے ان نے ہمیں جاں بلب کیا
طاقت سے میرے دل کی خبر تجھ کو کیا نہ تھی
ظالم نگاہ خشم ادھر کی غضب کیا
یکساں کیا نہیں ہے ہمیں خاک رہ سے آج
ایسا ہی کچھ سلوک کیا ان نے جب کیا
عمامہ لے کے شیخ کہیں میکدے سے جا
بس مغبچوں نے حد سے زیادہ ادب کیا
اس رخ سے دل اٹھایا تو زلفوں میں جا پھنسا
القصہ اپنے روز کو ہم نے بھی شب کیا
ظاہر ہوا نہ مجھ پہ کچھ اس ظلم کا سبب
کیا جانوں خون ان نے مرا کس سبب کیا
کچھ آگے آئے ہوتے جو منظور لطف تھا
ہم جی سے اپنے جاچکے تم قصد تب کیا
بچھڑے تمھارے اپنا عجب حال ہو گیا
جس کی نگاہ پڑ گئی ان نے عجب کیا
برسوں سے اپنے دل کی ہے دل میں کہ یار نے
اک دن جدا نہ غیر سے ہم کو طلب کیا
کی زندگی سو وہ کی موئے اب سو اس طرح
جو کام میر جی نے کیا سو کڈھب کیا
میر تقی میر

مرنا پڑا ضرور ترے غم میں اب مجھے

دیوان اول غزل 590
دن کو نہیں ہے چین نہ ہے خواب شب مجھے
مرنا پڑا ضرور ترے غم میں اب مجھے
ہنگامہ میری نعش پہ تیری گلی میں ہے
لے جائیں گے جنازہ کشاں یاں سے کب مجھے
ٹک داد میری اہلمحلہ سے چاہیو
تجھ بن خراب کرتے رہے ہیں یہ سب مجھے
طوفاں بجاے اشک ٹپکتے تھے چشم سے
اے ابر تر دماغ تھا رونے کا جب مجھے
دو حرف اس کے منھ کے تو لکھ بھیجیو شتاب
قاصد چلا ہے چھوڑ کے تو جاں بلب مجھے
کچھ ہے جواب جو میں کروں حشر کو سوال
مارا تھا تونے جان سے کہہ کس سبب مجھے
غیراز خموش رہنے کہ ہونٹوں کے سوکھنے
لیکن نہیں ہے یار جھگڑنے کا ڈھب مجھے
پوچھا تھا راہ جاتے کہیں ان نے میر کو
آتا ہے اس کی بات کا اب تک عجب مجھے
میر تقی میر

جلے دھوپ میں یاں تلک ہم کہ تب کی

دیوان اول غزل 441
گئی چھائوں اس تیغ کی سر سے جب کی
جلے دھوپ میں یاں تلک ہم کہ تب کی
پڑی خرمن گل پہ بجلی سی آخر
مرے خوش نگہ کی نگاہ اک غضب کی
کوئی بات نکلے ہے دشوار منھ سے
ٹک اک تو بھی تو سن کسی جاں بلب کی
تو شملہ جو رکھتا ہے خر ہے وگرنہ
ضرورت ہے کیا شیخ دم اک وجب کی
یکایک بھی آ سر پہ واماندگاں کے
بہت دیکھتے ہیں تری راہ کب کی
دماغ و جگر دل مخالف ہوئے ہیں
ہوئی متفق اب ادھر رائے سب کی
تجھے کیونکے ڈھونڈوں کہ سوتے ہی گذری
تری راہ میں اپنے پاے طلب کی
دل عرش سے گذرے ہے ضعف میں بھی
یہ زور آوری دیکھو زاری شب کی
عجب کچھ ہے گر میر آوے میسر
گلابی شراب اور غزل اپنے ڈھب کی
میر تقی میر

لہو آتا ہے جب نہیں آتا

دیوان اول غزل 78
اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
لہو آتا ہے جب نہیں آتا
ہوش جاتا نہیں رہا لیکن
جب وہ آتا ہے تب نہیں آتا
صبر تھا ایک مونس ہجراں
سو وہ مدت سے اب نہیں آتا
دل سے رخصت ہوئی کوئی خواہش
گریہ کچھ بے سبب نہیں آتا
عشق کو حوصلہ ہے شرط ارنہ
بات کا کس کو ڈھب نہیں آتا
جی میں کیا کیا ہے اپنے اے ہمدم
پر سخن تا بلب نہیں آتا
دور بیٹھا غبار میر اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا
میر تقی میر

پہلے تُو تھا مگر اب کوئی نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 399
اور جینے کا سبب کوئی نہیں
پہلے تُو تھا مگر اب کوئی نہیں
صرف اک جاں سے گزرنا ہے مجھے
مجھ سا بھی سہل طلب کوئی نہیں
خواہشِ رزق درندوں کی طرح
جیسے اس شہر کا رب کوئی نہیں
وقت کیفیتِ برزخ میں ہے
کوئی سورج، کوئی شب، کوئی نہیں
ایک تعزیتی خاموشی ہے
شہر میں مہر بلب کوئی نہیں
وصل کی رات بھی تنہا میں تھا
میرے جیسا بھی عجب کوئی نہیں
کیوں گزرتا ہوں وہاں سے منصور
اس گلی میں مرا جب کوئی نہیں
منصور آفاق

امیرِ شہر! چلو جاؤ اب، معافی دو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 224
حرام ہم پہ خیالِ طلب معافی دو
امیرِ شہر! چلو جاؤ اب، معافی دو
فقیرلوگ ابھی کربلا نہیں بھولے
اٹھو یہاں نکل جاؤ سب، معافی دو
وجود جھرجھری کھاتے ہیں بادشاہوں کے
سوال ترش ہیں لیموں بلب ،معافی دو
تم اہلِ زر سے تباہی تمام بستی میں
ہر ایک دکھ کا تمہی ہو سبب معافی دو
نفاذِ دین محمدﷺکہیں نہیں منصور
عجم معاف کرو اے عرب معافی دو
منصور آفاق

یہ شاعری ہے صحبتِ شب سے ماخوذ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 161
ہجراں کے سیہ داغِ طلب سے ماخوذ
یہ شاعری ہے صحبتِ شب سے ماخوذ
ہم چُنتے رہے فرش و فلک کے الہام
ہم دونوں جہانوں کے ادب سے ماخوذ
ہے رات تری زلف دوتا سے نکلی
ہے صبح ترے عارض و لب سے ماخوذ
دھڑکن کی طرح چیخ رہی ہیں کب سے
نظمیں ہیں دلِ مہر بلب سے ماخوذ
ہم رات کے پرودہ نہیں ہیں منصور
ہم خواب ہیں صبحوں کے نسب سے ماخوذ
منصور آفاق