ٹیگ کے محفوظات: بلایا

اب دیکھئے شکایتِ بیجا نہ کیجئے

کس نے کہا تھا حسن کا دیوانہ کیجئے
اب دیکھئے شکایتِ بیجا نہ کیجئے
یا غیر سے بھی کیجئے محفل میں احتیاط
یا مجھ کو انجمن میں بلایا نہ کیجئے
ناکام ہو چکی رَوِشِ عجز و انکسار
اب اُن سے عرضِ حال دلیرانہ کیجئے
سرکار مانئے تو کٹھن ہے رہِ حیات
کافی سفر طویل ہے تنہا نہ کیجئے
اے دل نگاہِ ناز بڑی مہرباں ہے آج
کیوں انتظارِ ساقی و پیمانہ کیجئے
پوچھا تھا اُن سے ہجر میں کیونکر ہوئی بسر
مُنہ پھیر کر کہا کہ ستایا نہ کیجئے
چھُٹ جائے پھر نہ دامنِ صبر و رضا کہیں
گر ہو سکے تو خواب میں آیا نہ کیجئے
کمسن ہیں سنگ دل نہیں سمجھے نہ ہوں گے بات
دامانِ صبر ہاتھ سے چھوڑا نہ کیجئے
ضامنؔ وہ لے کے بھول گئے دل تو کیا ہُوا
ہے مقتضائے ظرف تقاضا نہ کیجئے
ضامن جعفری

یہ جو تونے سر دیوار جلایا ہے مجھے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 297
کیا کسی جشن کا عنوان بنایا ہے مجھے
یہ جو تونے سر دیوار جلایا ہے مجھے
میں تنک سایہ ہوں پھر بھی کوئی مصرف ہو گا
اُس نے کچھ سوچ کے صحرا میں اُگایا ہے مجھے
میں وہ دولت ہوں جو مل جائے ضرورت کے بغیر
جس نے پایا ہے مجھے اس نے گنوایا ہے مجھے
مدتوں بعد ہوا لائی ہے پیغام اُس کا
راستہ بھول چکا ہوں تو بلایا ہے مجھے
جس سمندر نے ڈبویا تھا سفینہ میرا
اس کی ہی موج نے ساحل سے لگایا ہے مجھے
پھر ملا دے اسی مٹی میں یہ حق ہے اس کو
اُس نے آکر اِسی مٹی سے اُٹھایا ہے مجھے
عرفان صدیقی