ٹیگ کے محفوظات: بلاتا

وہ ستمگر اس ستم کش کو ستاتا ہے بہت

دیوان ششم غزل 1815
جو کوئی اس بے وفا سے دل لگاتا ہے بہت
وہ ستمگر اس ستم کش کو ستاتا ہے بہت
اس کے سونے سے بدن سے کس قدر چسپاں ہے ہائے
جامہ کبریتی کسو کا جی جلاتا ہے بہت
کیا پس از چندے مری آوارگی منظور ہے
مو پریشاں اب جو شب مجھ پاس آتا ہے بہت
چاہ میں بھی بیشتر جانے سے کم ہوتا ہے وقر
اس لیے جاتا ہوں تب جب وہ بلاتا ہے بہت
گرچہ کم جاتا ہوں پر دل پر نہیں کچھ اختیار
وہ کجی سے سیدھیاں مجھ کو سناتا ہے بہت
بھول جاوے گا سخن پردازی اس کے سامنے
شاعری سے جو کوئی باتیں بناتا ہے بہت
بامزہ معشوق کیا کم ہیں پر اس کو کیا کروں
ناز و انداز اس ہی کا جو مجھ کو بھاتا ہے بہت
وہ نہیں ہجراں میں اس بن خواب خوش آوے مجھے
اب خیال اس کی طرف ہر لحظہ جاتا ہے بہت
کیا کروں کہنے لگا ایدھر نہ آنے پائے وہ
بد کہیں ہنگامہ آرا میر آتا ہے بہت
میر تقی میر

تنہائی کے مکان میں آتا ہے کون شخص

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 197
آسیب میں چراغ جلاتا ہے کون شخص
تنہائی کے مکان میں آتا ہے کون شخص
جی چاہتا ہے اس سے ملاقات کو مگر
اجڑے ہووں کو پاس بٹھاتا ہے کون شخص
چلتا ہے کس کے پاؤں سے رستہ بہار کا
موسم کو اپنی سمت بلاتا ہے کون شخص
جس میں خدا سے پہلے کا منظر دکھائی دے
وہ کافرانہ خواب دکھاتا ہے کون شخص
پھر اک ہزار میل سمندر ہے درمیاں
اب دیکھئے دوبارہ ملاتا ہے کون شخص
برسوں سے میں پڑا ہوں قفس میں وجود کے
مجھ کو چمن کی سیر کراتا ہے کون شخص
منصور صحنِ دل کی تمازت میں بیٹھ کر
ہر روز اپنے بال سکھاتا ہے کون شخص
منصور آفاق