ٹیگ کے محفوظات: بلاؤ

مجھے اِن آٹھ پہروں سے کبھی باہر بلاؤ نا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 19
کہیں سوتا نہ رہ جاؤں صدا دے کر جگاؤنا
مجھے اِن آٹھ پہروں سے کبھی باہر بلاؤ نا
کھُلی آنکھوں سے کب تک جستجو کا خواب دیکھوں گا
حجابِ ہفت پردہ اپنے چہرے سے اٹھاؤ نا
ستارے پر ستارہ اوک میں بہتا چلا آئے
کسی شب کہکشاں انڈیل کر مجھ کو پلاؤ نا
جو چاہو تو زمانے کا زمانہ واژگوں کر دو
مگر پہلے حدودِ جاں میں ہنگامہ اٹھاؤ نا
سبک دوشِ زیاں کر دیں زیاں اندیشاں دل کی
ذرا اسبابِ دنیا راہِ دنیا میں لٹاؤ نا
لئے جاتے ہیں لمحے ریزہ ریزہ کر کے آنکھوں کو
نہایت دیر سے میں منتظر بیٹھا ہوں ، آؤ نا
آفتاب اقبال شمیم