ٹیگ کے محفوظات: بظاہر

کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 44
ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو
کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تو
مری مثال کہ اک نخل خشک صحرا ہوں
ترا خیال کہ شاخ چمن کا طائر تو
میں جانتا ہوں کہ دنیا تجھے بدل دے گی
میں مانتا ہوں کہ ایسا نہیں بظاہر تو
ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہے
یہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تو
فضا اداس ہے، رت مضمحل ہے، میں چپ ہوں
جو ہو سکے تو چلا آ کسی کی خاطر تو
فراز تو نے اسے مشکلوں میں ڈال دیا
زمانہ صاحب زر اور صرف شاعر تو
احمد فراز

یہ الگ بات بظاہر تجھے چھوڑ آیا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 283
دل نہیں مانتا میں پھرتجھے چھوڑ آیا ہوں
یہ الگ بات بظاہر تجھے چھوڑ آیا ہوں
پاؤں پتھر تھے پہاڑوں کی طرح لگتے ہیں
سچ یہی ہے تری خاطر تجھے چھوڑ آیا ہوں
تُو جہاں بھول گیا تھا مجھے رکھ کر جاناں
میں اسی جگہ پہ آخر تجھے چھوڑ آیا ہوں
تُو جہنم کی گلی میں مجھے چھوڑآیا تھا
میں تو جنت میں مسافر تجھے چھوڑ آیا ہوں
جتنا ممکن تھا ترا ساتھ دیا ہے لیکن
آخرش میں بھی اے کافر تجھے چھوڑ آیا ہوں
منصور آفاق

ہو گا کسی کے ہاتھ سے آخر بنا ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 60
آئے نظر جو روحِ مناظر بنا ہوا
ہو گا کسی کے ہاتھ سے آخر بنا ہوا
یہ کون جا رہا ہے مدینے سے دشت کو
ہے شہر سارا حامی و ناصر بنا ہوا
پر تولنے لگا ہے مرے کینوس پہ کیوں
امکان کے درخت پہ طائر بنا ہوا
یہ اور بات کھلتا نہیں ہے کسی طرف
ہے ذہن میں دریچہ بظاہر بنا ہوا
آغوشِ خاک میں جسے صدیاں گزر گئیں
پھرتا ہے وہ جہاں میں مسافر بنا ہوا
فتویٰ دو میرے قتل کا فوراً جنابِ شیخ
میں ہوں کسی کے عشق میں کافر بنا ہوا
کیا قریہء کلام میں قحط الرجال ہے
منصور بھی ہے دوستو شاعر بنا ہوا
منصور آفاق