ٹیگ کے محفوظات: بسی

جگنوؤں سی اپنی اپنی روشنی ہے اور ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
وسعتِ تِیرہ شبی ، تنہا روی ہے اور ہم
جگنوؤں سی اپنی اپنی روشنی ہے اور ہم
کیمیا گر تو ہمیں کندن بنا ڈالے مگر
آنچ بھر کی ایسا ہونے میں کمی ہے اور ہم
بھیڑیوں کی دھاڑ کو سمجھیں صدائے رہنما
خوش گماں بھیڑوں سی طبعی سادگی ہے اور ہم
کیا سلوک ہم سے کرے یہ منحصر ہے زاغ پر
گھونسلے کے بوٹ سی نا آگہی ہے اور ہم
ہاں یہی وہ فصل ہے پکنے میں جو آتی نہیں
زخمِ جاں کی روز افزوں تازگی ہے اور ہم
ناگہانی آندھیوں میں جو خس و خاشاک کو
جھیلنی پڑتی ہے وہ بے چارگی ہے اور ہم
ناخدا کو ناؤ سے دیکھا ہو جیسے کُودتے
دم بہ دم ماجد کچھ ایسی بے بسی ہے اور ہم
ماجد صدیقی

جگنوؤں سی اپنی اپنی روشنی ہے اور ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
وسعتِ تِیرہ شبی ، تنہا روی ہے اور ہم
جگنوؤں سی اپنی اپنی روشنی ہے اور ہم
کیمیا گر تو ہمیں کندن بنا ڈالے مگر
آنچ بھر کی ایسا ہونے میں کمی ہے اور ہم
بھیڑیوں کی دھاڑ کو سمجھیں صدائے رہنما
خوش گماں بھیڑوں سی طبعی سادگی ہے اور ہم
کیا سلوک ہم سے کرے یہ منحصر ہے زاغ پر
گھونسلے کے بوٹ سی نا آگہی ہے اور ہم
ہاں یہی وہ فصل ہے پکنے میں جو آتی نہیں
زخمِ جاں کی روز افزوں تازگی ہے اور ہم
ناگہانی آندھیوں میں جو خس و خاشاک کو
جھیلنی پڑتی ہے وہ بے چارگی ہے اور ہم
ناخدا کو ناؤ سے دیکھا ہو جیسے کُودتے
دم بہ دم ماجد کچھ ایسی بے بسی ہے اور ہم
ماجد صدیقی

کل کے اوراق میں لیجیے ہم نے بھی، فیصلہ لکھ دیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 47
دھونس، دھن، دھاندلی کا جو ٹھہرا، وُہی فیصلہ لکھ دیا
کل کے اوراق میں لیجیے ہم نے بھی، فیصلہ لکھ دیا
قصر محفوظ تھے، بے اماں جھونپڑے، راکھ کیونکر ہوئے
حق میں غفلت کے، تھی جو شہِ وقت کی، فیصلہ لکھ دیا
تھا اندھیروں پہ قابو نہ اپنا کبھی، پھر بھی اِتنا کیا
حبسِ بے جا میں دیکھی جہاں روشنی، فیصلہ لکھ دیا
جور کے جبر کے، جس قدر سلسلے تھے، وہ بڑھتے گئے
آنے پائی نہ جب، اُن میں کچھ بھی کمی، فیصلہ لکھ دیا
ہاتھ فریاد کے، اُٹھنے پائے نہ تھے اور لب سِل گئے
دیکھ کر ہم نے ماجدؔ، یہی بے بسی، فیصلہ لکھ دیا
ماجد صدیقی

شوقِ بزم آرائی بھی تیری کمی کا جبر ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 85
خوش مزاجی مجھ پہ میری بے دلی کا جبر ہے
شوقِ بزم آرائی بھی تیری کمی کا جبر ہے
کون بنتا ہے کسی کی خود ستائی کا سبب
عکس تو بس آئینے پر روشنی کا جبر ہے
خواب خواہش کا، عدم اثبات کا، غم وصل کا
زندگی میں جو بھی کچھ ہے سب کسی کا جبر ہے
اپنے رد ہونے کا ہر دم خوف رہتا ہے مجھے
یہ مری خود اعتمادی خوف ہی کا جبر ہے
کارِ دنیا کے سوا کچھ بھی مرے بس میں نہیں
میری ساری کامیابی بے بسی کا جبر ہے
میں کہاں اور بے ثباتی کا یہ ہنگامہ کہاں
یہ مرا ہونا تو مجھ پر زندگی کا جبر ہے
یہ سخن یہ خوش کلامی در حقیقت ہے فریب
یہ تکلم روح کی بے رونقی کا جبر ہے
شہرِ دل کی راہ میں حائل ہیں یہ آسائشیں
یہ مری آسودگی کم ہمتی کا جبر ہے
جس کا سارا حُسن تیرے ہجر ہی کے دم سے تھا
وہ تعلق اب تری موجودگی کا جبر ہے
جبر کی طابع ہے ہر کیفیتِ عمرِ رواں
آج کا غم جس طرح کل کی خوشی کا جبر ہے
کچھ نہیں کھلتا مرے شوقِ تصرف کا سبب
شوقِ سیرابی تو میری تشنگی کا جبر ہے
جو سخن امکان میں ہے وہ سخن ہے بے سخن
یہ غزل تو کچھ دنوں کی خامشی کا جبر ہے
عرفان ستار

کہ میں محروم ہوتا جا رہا ہوں روشنی سے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 68
بتاتا ہے مجھے آئینہ کیسی بے رُخی سے
کہ میں محروم ہوتا جا رہا ہوں روشنی سے
کسے الزام دوں میں رائگاں ہونے کا اپنے
کہ سارے فیصلے میں نے کیے خود ہی خوشی سے
ہر اک لمحہ مجھے رہتی ہے تازہ اک شکایت
کبھی تجھ سے، کبھی خود سے، کبھی اس زندگی سے
مجھے کل تک بہت خواہش تھی خود سے گفتگو کی
میں چھپتا پھر رہا ہوں آج اپنے آپ ہی سے
وہ بے کیفی کا عالم ہے کہ دل یہ چاہتا ہے
کہیں روپوش ہو جاؤں اچانک خامشی سے
سکونِ خانۂ دل کے لیے کچھ گفتگو کر
عجب ہنگامہ برپا ہے تری لب بستگی سے
تعلق کی یہی صورت رہے گی کیا ہمیشہ
میں اب اُکتا چکا ہوں تیری اس وارفتگی سے
جو چاہے وہ ستم مجھ پر روا رکھے یہ دنیا
مجھے یوں بھی توقع اب نہیں کچھ بھی کسی سے
ترے ہونے نہ ہونے پر کبھی پھر سوچ لوں گا
ابھی تو میں پریشاں ہوں خود اپنی ہی کمی سے
رہا وہ ملتفت میری طرف پر اُن دنوں میں
خود اپنی سمت دیکھے جا رہا تھا بے خودی سے
کوئی خوش فکر سا تازہ سخن بھی درمیاں رکھ
کہاں تک دل کو بہلائوں میں تیری دل کشی سے
کرم تیرا کہ یہ مہلت مجھے کچھ دن کی بخشی
مگر میں تجھ سے رخصت چاہتا ہوں آج ہی سے
وہ دن بھی تھے تجھے میں والہانہ دیکھتا تھا
یہ دن بھی ہیں تجھے میں دیکھتا ہوں بے بسی سے
ابھی عرفانؔ آنکھوں کو بہت کچھ دیکھنا ہے
تمہیں بے رنگ کیوں لگنے لگا ہے سب ابھی سے
عرفان ستار

بولتا کوئی کچھ بھی نہیں ہے مگر، ایک زنجیرِ در، خامشی اور میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 37
جاگتے ہیں تری یاد میں رات بھر، ایک سنسان گھر، چاندنی اور میں
بولتا کوئی کچھ بھی نہیں ہے مگر، ایک زنجیرِ در، خامشی اور میں
اک اذیّت میں رہتے ہوئے مستقل، ایک لمحے کو غافل نہیں ذہن و دل
کچھ سوالات ہیں ان کے پیشِ نظر، انتہا کی خبر، آگہی اور میں
تیری نسبت سے اب یاد کچھ بھی نہیں، اُس تعلق کی روداد کچھ بھی نہیں
اب جو سوچوں تو بس یاد ہے اس قدر، ایک پہلی نظر، تشنگی اور میں
کس مسافت میں ہوں دیکھ میرے خدا، ایسی حالت میں تُو میری ہمت بندھا
یہ کڑی رہ گزر، رئگانی کا ڈر،مضمحل بال و پر، بے بسی اور میں
اُس کو پانے کی اب جستجو بھی نہیں، جستجو کیا کریں آرزو بھی نہیں
شوقِ آوارگی بول جائیں کدھر، ہو گئے در بہ در، زندگی اور میں
لمحہ لمحہ اجڑتا ہوا شہرِ جاں، لحظہ لحظہ ہوئے جا رہے ہیں دھواں
پھول پتّے شجر، منتظر چشمِ تر، رات کا یہ پہر، روشنی اور میں
گفتگو کا بہانہ بھی کم رہ گیا، رشتۂ لفظ و معنی بھی کم رہ گیا
ہے یقینا کسی کی دعا کا اثر، آج زندہ ہیں گر، شاعری اور میں
عرفان ستار

وہ شے جو دل میں فراواں ہے بے دلی ہی نہ ہو

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 25
چھلک رہی ہے جو مجھ میں وہ تشنگی ہی نہ ہو
وہ شے جو دل میں فراواں ہے بے دلی ہی نہ ہو
گزر رہا ہے تُو کس سے گریز کرتا ہوا
ٹھہر کے دیکھ لے اے دل کہیں خوشی ہی نہ ہو
ترے سکوت سے بڑھ کر نہیں ہے تیرا سخن
مرا سخن بھی کہیں میری خامشی ہی نہ ہو
میں شہرِ جاں سے اُسی کی طرف ہی لوٹوں گا
یہ اور بات کہ اب میری واپسی ہی نہ ہو
وہ آج مجھ سے کوئی بات کہنے والا ہے
میں ڈر رہا ہوں کہ یہ بات آخری ہی نہ ہو
نہ ہو وہ شخص مزاجاً ہی سرد مہر کہیں
میں بے رُخی جسے کہتا ہوں بے حسی ہی نہ ہو
یہ کیا سفر ہے کہ جس کی مسافتیں گُم ہیں
عجب نہیں کہ مری ابتدا ہوئی ہی نہ ہو
ہر اعتبار سے رہتا ہے با مراد وہ دل
امید جس نے کبھی اختیار کی ہی نہ ہو
عجیب ہے یہ مری لا تعلقی جیسے
جو کر رہا ہوں بسر میری زندگی ہی نہ ہو
یہ شعلگی تو صفت ہے الم نصیبوں کی
جو غم نہ ہو تو کسی دل میں روشنی ہی نہ ہو
کہیں غرور کا پردہ نہ ہو یہ کم سخنی
یہ عجز اصل میں احساسِ برتری ہی نہ ہو
مرے سپرد کیا اُس نے فیصلہ اپنا
یہ اختیار کہیں میری بے بسی ہی نہ ہو
عرفان ستار

کوئی تازہ غزل، پھر کسی نے کہا، پھر کسی کے لیے ایک تازہ غزل

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 22
کوئی نغمہ بُنو، چاندنی نے کہا، چاندنی کے لیے ایک تازہ غزل
کوئی تازہ غزل، پھر کسی نے کہا، پھر کسی کے لیے ایک تازہ غزل
زخمِ فرقت کو پلکوں سے سیتے ہوئے، سانس لینے کی عادت میں جیتے ہوئے
اب بھی زندہ ہو تم، زندگی نے کہا، زندگی کے لیے ایک تازہ غزل
اُس کی خواہش پہ تم کو بھروسہ بھی ہے، اُس کے ہونے نہ ہونے کا جھگڑا بھی ہے
لطف آیا تمہیں، گمرہی نے کہا، گمرہی کے لیے ایک تازہ غزل
ایسی دنیا میں کب تک گزارا کریں، تم ہی کہہ دو کہ کیسے گوارا کریں
رات مجھ سے مری بے بسی نے کہا، بے بسی کے لیے ایک تازہ غزل
منظروں سے بہلنا ضروری نہیں گھر سے باہر نکلنا ضروری نہیں
دل کو روشن کرو، روشنی نے کہا، روشنی کے لیے ایک تازہ غزل
میں عبادت بھی ہوں، میں محبت بھی ہوں، زندگی کی، نمو کی علامت بھی ہوں
میری پلکوں پہ ٹھہری نمی نے کہا، اس نمی کے لیے ایک تازہ غزل
آرزوئوں کی مالا پرونے سے ہیں، یہ زمیں آسماں میرے ہونے سے ہیں
مجھ پہ بھی کچھ کہو، آدمی نے کہا، آدمی کے لیے ایک تازہ غزل
اپنی تنہائی میں رات میں تھا مگن، ایک آہٹ ہوئی دھیان میں دفعتاً
مجھ سے باتیں کرو، خامشی نے کہا، خامشی کے لیے ایک تازہ غزل
جب رفاقت کا ساماں بہم کر لیا، میں نے آخر اسے ہم قدم کر لیا
اب مرے دکھ سہو، ہمرہی نے کہا، ہمرہی کے لیے ایک تازہ غزل
عرفان ستار

یہ میرا طورِ زندگی ہی نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 139
کام کی بات میں نے کی ہی نہیں
یہ میرا طورِ زندگی ہی نہیں
اے اُمید، اے اُمیدِ نو میداں
مجھ سے میّت تیری اُٹھی ہی نہیں
میں جو تھا اِس گلی کا مست خُرام
اس گلی میں میری چلی ہی نہیں
یہ سنا ہے کہ میرے کوچ کے بعد
اُس کی خوشبو کہیں بسی ہی نہیں
تھی جو اِک فاختہ اُداس اُداس
صبح وہ شاخ سے اُڑی ہی نہیں
مجھ میں اب میرا جی نہیں لگتا
اور ستم یہ کے میرا جی ہی نہیں
وہ رہتی تھی جو دل محلے میں
وہ لڑکی مجھے ملی ہی نہیں
جائیے اور خاک اڑائیں آپ
اب وہ گھر کیا کے وہ گلی ہی نہیں
ہائے وہ شوق جو نہیں تھا کبھی
ہائے وہ زندگی جو تھی ہی نہیں
جون ایلیا

رہے آخر تری کمی کب تک

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 81
میں سہوں کربِ زندگی کب تک
رہے آخر تری کمی کب تک
کیا میں آنگن میں چھوڑ دوں سونا
جی جلائے گی چاندنی کب تک
اب فقط یاد رہ گئی ہے تری
اب فقط تری یاد بھی کب تک
میں بھلا اپنے ہوش میں کب تھا
مجھ کو دنیا پُکارتی کب تک
خیمہ گاہِ شمال میں۔۔۔آخر
اس کی خوشبو رچی بسی کب تک
اب تو بس آپ سے گلہ ہے یہی
یاد آئیں گے آپ ہی کب تک
مرنے والو ذرا بتاؤ تو
رہے گی یہ چلا چلی کب تک
جس کی ٹوٹی تھی سانس آخرِ شب
دفن وہ آرزو ہوئی کب تک
دوزخِ ذات باوجود ترے
شبِ فرقت نہیں جلی کب تک
اپنے چھوڑے ہوئے محلوں پر
رہا دورانِ جاں کنی کب تک
نہیں معلوم میرے آنے پر
اسکے کوچے میں لُو چلی کب تک
جون ایلیا