ٹیگ کے محفوظات: بسیار

کم دماغی ہے بہت مجھ کو کہ ہوں بیمار دل

دیوان ششم غزل 1834
چپ رہ اب نالوں سے اے بلبل نہ کر آزار دل
کم دماغی ہے بہت مجھ کو کہ ہوں بیمار دل
ابتداے خبط میں ہوتا تدارک کچھ تو تھا
اب کوئی سنبھلے ہے مجھ سے وحشت بسیار دل
یک توجہ میں رہے ہے سیر اس کی عرش پر
عقل میں آتے نہیں ہیں طرفہ طرفہ کار دل
باغ سے لے دشت تک رکھتے ہیں اک شور عجب
ہم اسیران قفس کے نالہ ہاے زار دل
اس سبک روحی پہ جوں باد سحر در در پھرے
زندگی اب یار بن اپنی ہوئی ہے بار دل
تنگی و وسعت سے اس کی اے عبارت ساز فہم
میر کچھ سمجھے گئے نہ معنی اسرار دل
میر تقی میر

بدزبانی بھی کی ان نے تو کہا بسیار خوب

دیوان ششم غزل 1814
اس مغل زا سے نہ تھی ہر بات کی تکرار خوب
بدزبانی بھی کی ان نے تو کہا بسیار خوب
لگ نہیں پڑتے ہیں لے کر ہاتھ میں شمشیر تیز
بے کسوں کے قتل میں اتنا نہیں اصرار خوب
آخر ان خوباں نے عاشق جان کر مارا مجھے
چاہ کا اپنی نہ کرنا ان سے تھا اظہار خوب
آج کل سے مجھ کو بیتابی و بدحالی ہے کیا
مجھ مریض عشق کے کب سے نہ تھے آثار خوب
کیا کریمی اس کی کہیے جنت دربستہ دی
ورنہ مفلس غم زدوں کے کچھ نہ تھے کردار خوب
مخترع جور و ستم میں بھی ہوا وہ نوجواں
ظلم تب کرتا ہے جب ہو کوئی منت دار خوب
دہر میں پستی بلندی برسوں تک دیکھی ہے میں
جب لٹا پامالی سے میں تب ہوا ہموار خوب
کیا کسو سے آشنائی کی رکھے کوئی امید
کم پہنچتا ہے بہم دنیا میں یارو یار خوب
کہتے تھے افعی کے سے اے میر مت کھا پیچ و تاب
آخر اس کوچے میں جا کھائی نہ تو نے مار خوب
میر تقی میر

اب دماغ اڑتا ہے باتوں میں کہ ہوں بیمار دل

دیوان چہارم غزل 1430
مت کرو شور و فغاں سے طائرو آزار دل
اب دماغ اڑتا ہے باتوں میں کہ ہوں بیمار دل
رنج و غم بھی کھینچنے کے دن تو یارو ہوچکے
اب نہیں جاتی اٹھائی کلفت بسیار دل
میر تقی میر

اب میں ہوں جیسے دیر کا بیمار بدنمود

دیوان چہارم غزل 1378
زردی عشق سے ہے تن زار بدنمود
اب میں ہوں جیسے دیر کا بیمار بدنمود
بے برگی بے نوائی سے ہیں عشق میں نزار
پائیز دیدہ جیسے ہوں اشجار بدنمود
ہرچند خوب تجھ کو بنایا خدا نے لیک
اے ناز پیشہ کبر ہے بسیار بدنمود
ہیں خوشنما جو سہل مریں ہم ولے ترا
خونریزی میں ہماری ہے اصرار بدنمود
پوشیدہ رکھنا عشق کا اچھا تھا حیف میر
سمجھا نہ میں کہ اس کا ہے اظہار بدنمود
میر تقی میر

خوں کیا ہے مدتوں اس میں غم بسیار کو

دیوان سوم غزل 1221
دوست رکھتا ہوں بہت اپنے دل بیمار کو
خوں کیا ہے مدتوں اس میں غم بسیار کو
جز عزیز از جاں نہیں یوسف کو لکھتا یہ کبھو
کیا غرور میرزائی ہے ہمارے یار کو
جب کبھو ایدھر سے نکلے ہے تو اک حسرت کے ساتھ
دیکھے ہے خورشید اس کے سایۂ دیوار کو
بوجھ تو اچھا تھا پر آخر گرو رکھتے ہوئے
وجہ جام مے نہ پایا خرقہ و دستار کو
خوں چکاں شکوے ہیں دل سے تا زباں میری ولے
سی لیا ہے تو کہے میں نے لب اظہار کو
تصفیے سے دل میں میرے منھ نظر آتا ہے لیک
کیا کروں آئینہ ساں میں حسرت دیدار کو
عاشقی وہ روگ ہے جس میں کہ ہوجاتی ہے یاس
اچھے ہوتے کم سنا ہے میر اس آزار کو
میر تقی میر

بکیں گے سر اور کم خریدار ہو گا

دیوان اول غزل 77
محبت کا جب روز بازار ہو گا
بکیں گے سر اور کم خریدار ہو گا
تسلی ہوا صبر سے کچھ میں تجھ بن
کبھی یہ قیامت طرحدار ہو گا
صبا موے زلف اس کا ٹوٹے تو ڈر ہے
کہ اک وقت میں یہ سیہ مار ہو گا
مرا دانت ہے تیرے ہونٹوں پہ مت پوچھ
کہوں گا تو لڑنے کو تیار ہو گا
نہ خالی رہے گی مری جاگہ گر میں
نہ ہوں گا تو اندوہ بسیار ہو گا
یہ منصور کا خون ناحق کہ حق تھا
قیامت کو کس کس سے خوں دار ہو گا
عجب شیخ جی کی ہے شکل و شمائل
ملے گا تو صورت سے بیزار ہو گا
نہ رو عشق میں دشت گردی کو مجنوں
ابھی کیا ہوا ہے بہت خوار ہو گا
کھنچے عہد خط میں بھی دل تیری جانب
کبھو تو قیامت طرحدار ہو گا
زمیں گیر ہو عجز سے تو کہ اک دن
یہ دیوار کا سایہ دیوار ہو گا
نہ مرکر بھی چھوٹے گا اتنا رکے گا
ترے دام میں جو گرفتار ہو گا
نہ پوچھ اپنی مجلس میں ہے میر بھی یاں
جو ہو گا تو جیسے گنہگار ہو گا
میر تقی میر