ٹیگ کے محفوظات: بستی

کبھی چراغ بھی جلتا ہے اس حویلی میں ؟

خزاں کے چاند نے پوچھا یہ جُھک کے کھڑکی میں
کبھی چراغ بھی جلتا ہے اس حویلی میں ؟
یہ آدمی ہیں کہ سائے ہیں آدمیت کے
گزر ہُوا ہے مرا کس اُجاڑ بستی میں !
جُھکی چٹان‘ پھسلتی گرفت‘ جُھولتا جسم
میں اب گرا ہی گرا تنگ و تار گھاٹی میں
زمانے بھر سے نرالی ہے آپ کی منطِق
ندی کو پار کیا کس نے الٹی کشتی میں
جلائے کیوں ! اگر اتنے ہی قیمتی تھے خطوط
کریدتے ہو عبث راکھ اب انگیٹھی میں
عجب نہیں جو اُگیں یاں درخت پانی کے
کہ اشک بوئے ہیں شب بھر کسی نے دھرتی میں
مری گرفت میں آ کر نِکل گئی تِتلی
پروں کے رنگ مگر رہ گئے ہیں مُٹھّی میں
چلو گے ساتھ مرے‘ آگہی کی سرحد تک؟
یہ رہ گزار اترتی ہے گہرے پانی میں
میں اپنی بے خبری سے‘ شکیبؔ‘ واقف ہوں
بتاؤ پیچ ہیں کتنے تمھاری پگڑی میں
شکیب جلالی

میں گِر کے اُٹھتا رَہا یَہاں تَک کہ ساری بَستی نے ہار مانی

مِری خودی کے نَشے سے آخر خُمارِ ہَستی نے ہار مانی
میں گِر کے اُٹھتا رَہا یَہاں تَک کہ ساری بَستی نے ہار مانی
اَمیرِ شہر اَب تُو کہہ چُکا ہے تَو ایک میری بھی بات سُن لے
تِری شِکَم پَروَری سے کَب میری فاقہ مَستی نے ہار مانی
ہَر ایک خواہِش نے خُود کو تَرجیح دینا چاہی تھی مُجھ پَہ لیکِن
مِرے اُصولوں کے سامنے اُس کی خُود پَرَستی نے ہار مانی
لِباسِ مَظلوم میں ہو ظالِم بُہَت مِثالیں مِلیں گی اِس کی
کَہیِں بھی تاریخ میں نَہیِں ہے کہ چیِرہ دَستی نے ہار مانی
کَبھی پَہاڑوں کی چوٹیوں نے نَظَر بھی ڈالی نہ اُس پَہ جُھک کَر
بَلَندِیوں کی بَلا سے ضامنؔ اَگَر نَہ پَستی نے ہار مانی
ضامن جعفری

بے یار و دیار اب تو ہیں اس بستی میں وارد

دیوان پنجم غزل 1605
کیا کہیے ہوئے مملکت ہستی میں وارد
بے یار و دیار اب تو ہیں اس بستی میں وارد
کچھ ہوش نہ تھا منبر و محراب کا ہم کو
صد شکر کہ مسجد میں ہوئے مستی میں وارد
میر تقی میر

باز خواہ خوں ہے میرا گو اسی بستی کے بیچ

دیوان اول غزل 193
ساتھ ہو اک بے کسی کے عالم ہستی کے بیچ
باز خواہ خوں ہے میرا گو اسی بستی کے بیچ
عرش پر ہے ہم نمد پوشان الفت کا دماغ
اوج دولت کا سا ہے یاں فقر کی پستی کے بیچ
ہم سیہ کاروں کا ہنسنا وہ ہے میخانے کی اور
آگئے ہیں میر مسجد میں چلے مستی کے بیچ
میر تقی میر

دھار گرتی تھی تو رہ جاتی تھی قلفی بن کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 581
اون بھیڑوں کی فقط ساتھ تھی گرمی بن کے
دھار گرتی تھی تو رہ جاتی تھی قلفی بن کے
شب زدوں کیلئے کرنوں بھری نظمیں لکھوں
ظالموں سے میں لڑوں دیس کا فوجی بن کے
کرچیاں شہر میں اڑتی ہوئی دیکھوں اس کی
جو مجھے دیکھتا پھرتا تھا بلندی بن کے
گفتگو اس کی ترو تازہ مجھے رکھتی ہے
ملنے آتی ہے ہمیشہ وہ تسلی بن کے
شہر میں پھرتا ہے دھیما سا وہی گرد و غبار
جو گزر آیا ہے صحراؤں سے آندھی بن کے
کوئی سمجھائے اسے چھوڑ دے پیچھا میرا
روز آجاتی ہے قسمت کی جو سختی بن کے
ڈوبتے جاتے ہیں پانی کے تلاطم مجھ میں
پھیلتا جاتا ہوں دریاؤں میں خشکی بن کے
طے شدہ وقت پہ ہر روز جگا دیتا ہے
مجھ میں موجود ہے گھڑیال خرابی بن کے
ڈھونڈے ماخد ہیں کئی قبروں کے کتبے پڑھ کر
یعنی تاریخ لکھی عہد کی طبری بن کے
میری بربادی کی سامان کئے جاتے ہیں
دیکھتا رہتا ہوں لوگوں کو میں بستی بن کے
ان میں کتنے ہیں جو آئندہ بھی ہونگے موجود
دفن مٹی میں ہوئے لوگ جو ماضی بن کے
جس کے رنگوں سے جلے قوسِ قزح بھی منصور
کرتی ہے میرا تعاقب وہی تتلی بن کے
منصور آفاق

دیکھنے کو جمع ہے ترسی ہوئی بستی اسے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 546
نیم عریاں کر گئی ہے رقص کی مستی اسے
دیکھنے کو جمع ہے ترسی ہوئی بستی اسے
جیسے حرکت کا بہاؤ، جیسے پانی کا مزاج
کھینچتی ہے اپنی جانب اس طرح پستی اسے
ایک ہی بیڈ روم میں رہتے ہوئے اتنا فراق
چوم لینا چاہیے اب تو زبردستی اسے
کھینچ لایا میرے پہلو کی سنہری دھوپ میں
شامِ شالا مار کا باغیچہء وسطی اسے
اس سیہ پاتال میں ہیں سورجوں کی بستیاں
زینہ در زینہ کہے، بجھتی ہوئی ہستی اسے
منصور آفاق

کہیں غربت برستی ہے کہیں حسرت برستی ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 45
سرِ راہِ عدم گورِ غریباں طرفہ بستی ہے
کہیں غربت برستی ہے کہیں حسرت برستی ہے
تری مسجد میں واعظ، خاص ہیں اوقات رحمت کے
ہمارے میکدے میں رات دن رحمت برستی ہے
خمارِ نشّہ سے نگاہیں ان کی کہتی ہیں
یہاں کیا کام تیرا، یہ تو متوالوں کی بستی ہے
جوانی لے گئی ساتھ اپنے سارا عیش مستوں کا
صراحی ہے نہ شیشہ ہے نہ ساغر ہے نہ مستی ہے
ہمارے گھر میں جس دن ہوتی ہے اس حور کی آمد
چھپر کھٹ کو پری آ کر پری خانے سے کستی ہے
چلے نالے ہمارے یہ زبان حال سے کہہ کر
ٹھہر جانا پہنچ کر عرش پر، ہمّت کی پستی ہے
امیر اس راستے سے جو گزرتے ہیں وہ لٹتے ہیں
محلہ ہے حسینوں کا، کہ قزاقوں کی بستی ہے؟
امیر مینائی