ٹیگ کے محفوظات: بسایا

یا تن آدمی میں دل نہ بنایا ہوتا

دیوان دوم غزل 719
عشق کو بیچ میں یارب تو نہ لایا ہوتا
یا تن آدمی میں دل نہ بنایا ہوتا
دل نہ تھا ایسی جگہ جس کی نہ سدھ لیجے کبھو
اجڑی اس بستی کو پھر تونے بسایا ہوتا
عزت اسلام کی کچھ رکھ لی خدا نے ورنہ
زلف نے تیری تو زنار بندھایا ہوتا
گھر کے آگے سے ترے نعش گئی عاشق کی
اپنے دروازے تلک تو بھی تو آیا ہوتا
جو ہے سو بے خود رفتار ہے تیرا اے شوخ
اس روش سے نہ قدم تونے اٹھایا ہوتا
اب تو صد چند ستم کرنے لگے تم اے کاش
عشق اپنا نہ تمھیں میں نے جتایا ہوتا
دل سے خوش طرح مکاں پھر بھی کہیں بنتے ہیں
اس عمارت کو ٹک اک دیکھ کے ڈھایا ہوتا
دل پہ رکھتا ہوں کبھو سر سے کبھو ماروں ہوں
ہاتھ پائوں کو نہ میں تیرے لگایا ہوتا
کم کم اٹھتا وہ نقاب آہ کہ طاقت رہتی
کاش یک بار ہمیں منھ نہ دکھایا ہوتا
میر اظہار محبت میں گیا جی نہ ترا
ہائے نادان بہت تونے چھپایا ہوتا
میر تقی میر

گھر جلا سامنے پر ہم سے بجھایا نہ گیا

دیوان اول غزل 66
دل کے تیں آتش ہجراں سے بچایا نہ گیا
گھر جلا سامنے پر ہم سے بجھایا نہ گیا
دل میں رہ دل میں کہ معمار قضا سے اب تک
ایسا مطبوع مکاں کوئی بنایا نہ گیا
کبھو عاشق کا ترے جبہے سے ناخن کا خراش
خط تقدیر کے مانند مٹایا نہ گیا
کیا تنک حوصلہ تھے دیدہ و دل اپنے آہ
ایک دم راز محبت کا چھپایا نہ گیا
دل جو دیدار کا قاتل کے بہت بھوکا تھا
اس ستم کشتہ سے اک زخم بھی کھایا نہ گیا
میں تو تھا صید زبوں صید گہ عشق کے بیچ
آپ کو خاک میں بھی خوب ملایا نہ گیا
شہر دل آہ عجب جاے تھی پر اس کے گئے
ایسا اجڑا کہ کسی طرح بسایا نہ گیا
آج رکتی نہیں خامے کی زباں رکھیے معاف
حرف کا طول بھی جو مجھ سے گھٹایا نہ گیا
میر تقی میر