ٹیگ کے محفوظات: برہنہ

برہنہ

فرنگی جریدوں کے اوراقِ رنگیں

پہ ہنستی، لچکتی، دھڑکتی لکیریں

کٹیلے بدن، تیغ کی دھار جیسے!

لہو رس میں گوندھے ہوئے جسم، ریشم کے انبار جیسے!

نگہ جن پہ پھسلے، وہ شانے وہ بانہیں

مدوّر اٹھانیں، منوّر ڈھلانیں

ہر اک نقش میں زیست کی تازگی ہے

ہر اک رنگ سے کھولتی آرزوؤں کی آنچ آ رہی ہے!

خطوطِ برہنہ کے ان آئنوں میں

حسیں پیکروں کے یہ شفاف خاکے

کہ جن کے سجل روپ میں کھیلتی ہیں

وہ خوشیاں جو صدیوں سے بوجھل کے اوجھل رہی ہیں!

انہیں پھونک دے گی یہ بےمہر دنیا

فرنگی جریدوں کے اوراقِ رنگیں

کو اک بارحسرت سے تک لو

پھر ان کو حفاظت سے اپنے دلوں کے مقفل درازوں میں رکھ لو!

مجید امجد

جاری رہا ہے دشت کا جلسہ فراق میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 331
پڑھتا رہا ہوں قیس کا نوحہ فراق میں
جاری رہا ہے دشت کا جلسہ فراق میں
دو موم بتیاں تھیں ، ستارے تھے فرش پر
اک دیکھنے کی چیز تھا کمرہ فراق میں
میں باندھ باندھ دیتا تھا کھونٹے سے اپنا آپ
وحشت کامجھ پہ ایسا تھا غلبہ فراق میں
جس میں بھری ہو نیند سے مری سلگتی آنکھ
دیکھا نہیں ہے میں نے وہ عرصہ فراق میں
شاید مرا لباس تھا وہ دلربا وصال
میں دیکھتا تھا خود کو برہنہ فراق میں
منصوراُس چراغِ بدن سے وصال کا
آسیب بن گیا تھا ارادہ فراق میں
منصور آفاق