ٹیگ کے محفوظات: برہمن

میں جو ٹوٹا ، میں جو بکھرا، میں تھا درپن ساجن کا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 18
بول رے جی اب ساجن جی کا مکھڑا ہے کس درپن کا
میں جو ٹوٹا ، میں جو بکھرا، میں تھا درپن ساجن کا
جب تجھ سے ناتا ٹوٹا تو پھر اپنے سے کیا ناتا
پر اب بھی تو اک ناتا ہے، وہ ناتا ہے ان بن کا
میرا دل ہے ساگر ایسا، تم ندیوں کے مان میں ہو
میں بھی اپنی گنگا کا ہوں، میں بھی اپنی گانگن کا
مجھ کو میرے سارے کھلونے لا کے دو میں کیا جانوں
کیسی جوانی، کس کی جوانی، میں ہوں اپنے بچپن کا
بیچ میں آنے والے تو بس بِن کارن ہلکان ہوئے
سید جی تھا سارا کھیل، تمہارا اور برہمن کا
جو بھی ہو گا اس نے کوئی دامن تھام رکھا ہو گا
جانے میرا ہاتھ ہے یارو کس دلبر کے دامن کا
اس جوگن کے روپ ہزاروں، ان میں سے اک روپ ہے تُو
جب سے میں نے جوگ لیا ہے، جوگی ہوں اس جوگن کا
چلمن پیچھے اک چلمن ہے آنکھوں سے آکاش تلک
جو تیری دیکھن میں آیا، تھا وہ جھلکا چلمن کا
کیا بتلاؤں اس سے لڑنے بھڑنے میں جو لِیلا تھی
لڑنا تھا اس من موہن سے میرا کھیل لڑکپن کا
تُو جو دریچے سے آتی ہے کیوں میں تجھ کو آنے دوں
کوئی بگولا لائی ہے کیا تُو، بادِ صبا اس آنگن کا
جون بڑا ہرجائی نکلا، پر وہ تو بیراگی تھا
ایک رسیلی، ایک انیلی، البیلی امروہن کا
جون ایلیا

چمن میں خوش نوایانِ چمن کی آزمائش ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 277
حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے
چمن میں خوش نوایانِ چمن کی آزمائش ہے
قد و گیسو میں ، قیس و کوہکن کی آزمائش ہے
جہاں ہم ہیں ، وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے
کریں گے کوہکن کے حوصلے کا امتحاں آخر
ہنوز اُس خستہ کے نیروئے تن کی آزمائش ہے
نسیمِ مصر کو کیا پیرِ کنعاں کی ہوا خواہی!
اُسے یوسف کی بُوئے پیرہن کی آزمائش ہے
وہ آیا بزم میں ، دیکھو ، نہ کہیو پھر کہ ”غافل تھے“
شکیب و صبرِ اہلِ انجمن کی آزمائش ہے
رہے دل ہی میں تیر @، اچھا ، جگر کے پار ہو ، بہتر
غرض شِستِ بُتِ ناوک فگن کی آزمائش ہے
نہیں کچھ سُبحۂ و زُنّار کے پھندے میں گیرائی
وفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے
پڑا رہ ، اے دلِ وابستہ ! بیتابی سے کیا حاصل؟
مگر پھر تابِ زُلفِ پُرشکن کی آزمائش ہے
رگ و پَے میں جب اُترے زہرِ غم ، تب دیکھیے کیا ہو!
ابھی تو تلخئ کام و دہن کی آزمائش ہے
وہ آویں گے مِرے گھر ، وعدہ کیسا ، دیکھنا ، غالب!
نئے فتنوں میں اب چرخِ کُہن کی آزمائش@ ہے
@ نسخۂ مہرمیں "رہے گر دل میں تیر” @ اصل نسخوں میں آزمایش ہے لیکن ہم نے موجودہ املا کو ترجیح دے کر آزمائش لکھا ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

مرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجانِ گلشن کو

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 140
قفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو
مرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجانِ گلشن کو
نہیں گر ہمدمی آساں، نہ ہو، یہ رشک کیا کم ہے
نہ دی ہوتی خدا یا آرزوئے دوست، دشمن کو
نہ نکلا آنکھ سے تیری اک آنسو اس جراحت پر
کیا سینے میں جس نے خوں چکاں مژگانِ سوزن کو
خدا شرمائے ہاتھوں کو کہ رکھتے ہیں کشاکش میں
کبھی میرے گریباں کو کبھی جاناں کے دامن کو
ابھی ہم قتل گہ کا دیکھنا آساں سمجھتے ہیں
نہیں دیکھا شناور جوئے خوں میں تیرے توسن کو
ہوا چرچا جو میرے پاؤں کی زنجیر بننے کا
کیا بیتاب کاں میں جنبشِ جوہر نے آہن کو
خوشی کیا، کھیت پر میرے، اگر سو بار ابر آوے
سمجھتا ہوں کہ ڈھونڈے ہے ابھی سے برق خرمن کو
وفاداری بہ شرطِ استواری اصلِ ایماں ہے
مَرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو
شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کو
جہاں تلوار کو دیکھا، جھکا دیتا تھا گردن کو
نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا
رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو
سخن کیا کہہ نہیں سکتے کہ جویا ہوں جواہر کے
جگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معدن کو
مرے شاہ سلیماں جاہ سے نسبت نہیں غالب
فریدون و جم و کیخسرو و داراب و بہمن کو
مرزا اسد اللہ خان غالب

کپڑے اتارے ان نے سر کھینچے ہم کفن میں

دیوان دوم غزل 868
مر مر گئے نظر کر اس کے برہنہ تن میں
کپڑے اتارے ان نے سر کھینچے ہم کفن میں
گل پھول سے کب اس بن لگتی ہیں اپنی آنکھیں
لائی بہار ہم کو زور آوری چمن میں
اب لعل نو خط اس کے کم بخشتے ہیں فرحت
قوت کہاں رہے ہے یاقوتی کہن میں
یوسف عزیز دلہا جا مصر میں ہوا تھا
پاکیزہ گوہروں کی عزت نہیں وطن میں
دیر و حرم سے تو تو ٹک گرم ناز نکلا
ہنگامہ ہورہا ہے اب شیخ و برہمن میں
آجاتے شہر میں تو جیسے کہ آندھی آئی
کیا وحشتیں کیا ہیں ہم نے دوان پن میں
ہیں گھائو دل پر اپنے تیغ زباں سے سب کی
تب درد ہے ہمارے اے میر ہر سخن میں
میر تقی میر

ہر اک لخت جگر کے ساتھ سو زخم کہن نکلے

دیوان اول غزل 547
نہ تنہا داغ نو سینے پہ میرے اک چمن نکلے
ہر اک لخت جگر کے ساتھ سو زخم کہن نکلے
گماں کب تھا یہ پروانے پر اتنا شمع روئے گی
کہ مجلس میں سے جس کے اشک کے بھر بھر لگن نکلے
کہاں تک نازبرداری کروں شام غریباں کی
کہیں گرد سفر سے جلد بھی صبح وطن نکلے
جنوں ان شورشوں پر ہاتھ کی چالاکیاں ایسی
میں ضامن ہوں اگر ثابت بدن سے پیرہن نکلے
حرم میں میر جتنا بت پرستی پر ہے تو مائل
خدا ہی ہو تو اتنا بتکدے میں برہمن نکلے
میر تقی میر

اک دل غمخوار رکھتے تھے سو گلشن میں رہا

دیوان اول غزل 73
بیکسانہ جی گرفتاری سے شیون میں رہا
اک دل غمخوار رکھتے تھے سو گلشن میں رہا
پنجۂ گل کی طرح دیوانگی میں ہاتھ کو
گر نکالا میں گریباں سے تو دامن میں رہا
شمع ساں جلتے رہے لیکن نہ توڑا یار سے
رشتۂ الفت تمامی عمر گردن میں رہا
ڈر سے اس شمشیر زن کے جوہر آئینہ ساں
سر سے لے کر پائوں تک میں غرق آہن میں رہا
ہم نہ کہتے تھے کہ مت دیر و حرم کی راہ چل
اب یہ دعویٰ حشر تک شیخ و برہمن میں رہا
درپئے دل ہی رہے اس چہرے کے خال سیاہ
ڈر ہمیں ان چوٹٹوں کا روز روشن میں رہا
آہ کس انداز سے گذرا بیاباں سے کہ میر
جی ہر اک نخچیر کا اس صید افگن میں رہا
میر تقی میر