ٹیگ کے محفوظات: برگد

کہ اُس کی فہم سے باہر ہے کل کی ابجد تک

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 35
وُہ اپنے جزو میں کھویا گیا ہے اس حد تک
کہ اُس کی فہم سے باہر ہے کل کی ابجد تک
کھڑی ہیں روشنیاں دست بستہ صدیوں سے
حرا کے غار سے لے کر گیا کے برگد تک
اُٹھے تو اُس کے فسوں سے لہک لہک جائے
نظر پہنچ نہ سکے اُس کی قامت و قد تک
پتہ چلا کہ حرارت نہیں رہی دل میں
گزر کے آگ سے آئے تھے اپنے مقصد تک
وہی اساس بنا عمر کے حسابوں کی
پہاڑا یاد کیا تھا جو ایک سے صد تک
وہی جو دوش پر اپنے اُٹھا سکا خود کو
نیشبِ فرش سے پہنچا فرازِ مسند تک
آفتاب اقبال شمیم

انتظارِ خوابِ احمد اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 324
نیند کا اک سبز گنبد اور میں
انتظارِ خوابِ احمد اور میں
ذات کی پہچان کا پہلا سفر
منزلِ حیرت کی سرحد اور میں
ساحلِ دل کی ملائم ریت پر
نقشِ پا کی چشم اسود اور میں
لیلیٰ اظہار کے گل پوش لب
نغمۂ اسمِ محمدﷺ اور میں
جذبہ ء تخلیق کی سر جوشیاں
سوچ کا پر نور معبد اور میں
لاکھ روشن کائناتوں کے ا میں
اک شعورِ ذات کی حد اور میں
قریہ ء ادراک کی جلتی زمیں
ایک سایہ دار برگد اور میں
محرمِ لاہوت کی وسعت میں گم
بوعلی، منصور، سرمد اور میں
منصور آفاق