ٹیگ کے محفوظات: برشگال

اور لمبی خیال کی گھڑیاں

مختصر ہیں وصال کی گھڑیاں
اور لمبی خیال کی گھڑیاں
آپ تھے ہم تھے اور تنہائی
وہ بھی تھیں کیا کمال کی گھڑیاں
آگ بھڑکا گئیں مرے دل کی
موسمِ برشگال کی گھڑیاں
چڑھتے سورج تُو اب تو آنکھیں کھول
سر پہ آئیں زوال کی گھڑیاں
ہر نیا سال ہم سے کہتا ہے
خوب تھیں پچھلے سال کی گھڑیاں
باصر کاظمی

جڑیں کاٹتے ہیں وبال آسمانی

تہِ خاک خواب و خیال آسمانی
جڑیں کاٹتے ہیں وبال آسمانی
مرے من پہ طاری مرے تن پہ جاری
محبت زمینی، دھمال آسمانی
ہمیں گرمئ روز و شب سے بچا لے
زمیں پر بچھا! برشگال آسمانی
پریشان ہو کر نہ دیکھو مجھے تم
نہیں دے رہا میں مثال آسمانی
زمیں بوس ہونے کو تیار ہوں میں
کہاں تک چلے گا تو چال آسمانی؟
قدم ڈولنے تک خبرگیر لمحے
مرے دل سے کانٹا نکال آسمانی!
شبِ قدر کے قدرداں جانتے ہیں
فلک تیرا جاہ و جلال آسمانی
افتخار فلک