ٹیگ کے محفوظات: برائی

بہت دوستوں نے بھلائی برائی دکھائی

رہِ عِشق میں کب دیا کچھ سنائی دکھائی
بہت دوستوں نے بھلائی برائی دکھائی
سمجھتے ہیں اہلِ نظر حسن کی یہ ادائیں
گھڑی دیکھنے کے بہانے کلائی دکھائی
ہماری توجہ بھی اُس دم ذرا منقسم تھی
مداری نے کچھ ہاتھ کی بھی صفائی دکھائی
دوبارہ بھروسہ کیا آزمائے ہوئے پر
بہت آپ نے بھی طبیعت رجائی دکھائی
عجب کیا جو عاشق نے سر پھوڑ کر جان دے دی
عجب کیا جو محبوب نے بے وفائی دکھائی
باصر کاظمی

اور معالج بہم عطائی مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
دی نہیں کرب سے رہائی مجھے
اور معالج بہم عطائی مجھے
ہاں وہی تو ہے حیثیت میری
تھی جو ابلس نے سُجھائی مجھے
ابنِ آدم ہوں مَیں صدف تو نہیں
رزق بخشا ہے کیوں ہوائی مجھے
اُس خدا تک کا میں ہوا منکر
جس نے دی خلق پر خدائی مجھے
گھر کے بد خصلتوں میں بھی ماجِد!
کرنی آئی نہیں بُرائی مجھے
ماجد صدیقی

آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 93
اِس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی
ورنہ اب تلک یوں تھا خواہشوں کی بارش میں
یا تو ٹوٹ کر رویا یا غزل سرائی کی
تج دیا تھا کل جن کو ہم نے تیری چاہت میں
آج ان سے مجبوراً تازہ آشنائی کی
ہو چلا تھا جب مجھ کو اختلاف اپنے سے
تو نے کس گھڑی ظالم میری ہمنوائی کی
ترک کر چکے قاصد کوئے نا مراداں کو
کون اب خبر لاوے شہر آشنائی کی
طنز و طعنہ و تہمت سب ہنر ہیں ناصح کے
آپ سے کوئی پوچھے ہم نے کیا برائی کی
پھر قفس میں شور اٹھا قیدیوں کا اور صیاد
دیکھنا اڑا دیگا پھر خبر رہائی کی
دکھ ہوا جب اس در پر کل فراز کو دیکھا
لاکھ عیب تھے اس میں خو نہ تھی گدائی کی
احمد فراز

گر نہ تھی دل میں تو لب پر تیرے آئی کیوں کر

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 31
تو نے کی غیر سے کل میری بُرائی کیوں کر
گر نہ تھی دل میں تو لب پر تیرے آئی کیوں کر
نہ کہوں گا نہ کہوں گا نہ کہوں گا ہر گز
جا کے اُس بزم میں شامت میری آئی کیوں ‌کر
کھُل گئی بات جب اُن کی تو وہ یہ پوچھتے ہیں
منہ سے نکلی ہوئی ہوتی ہےَپرائی کیوں کر
داد خواہوں سے وہ کہتے ہیں‌کہو ہم بھی تو سنیں
دو گے تم حشر میں سب مل کے دُہائی کیوں کر
وہ یہاں آئیں وہاں‌غیر کا گھر ہو برباد
اس طرح سے ہو صفائی میں‌صفائی کیوں کر
آئینہ دیکھ کے وہ کہنے لگے آپ ہی آپ
ایسے اچھے کی کرے کوئی بُرائی کیوں کر
اُس نے صدقے میں‌کیئے آج ہزاروں آزاد
دیکھئے ہوتی ہے عاشق کی رہائی کیوں کر
داغ کو مہر کہا اشک کو دریا تم نے
اور پھر کرتے ہیں چھوٹوں‌ کی برائی کیوں کر
داغ کل تک تو دعا آپ کی مقبول نہ تھی
آج منہ مانگی مراد آپ نے پائی کیوں‌ کر
داغ دہلوی

سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 118
یاد اُسے انتہائی کرتے ہیں
سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں
پسند آتا ہے دل سے یوسف کو
وہ جو یوسف کے بھائی کرتے ہیں
ہے بدن خوابِ وصل کا دنگل
آؤ زور آزمائی کرتے ہیں
اس کو اور غیر کو خبر ہی نہیں
ہم لگائی بجھائی کرتے ہیں
ہم عجب ہیں کہ اس کو بانہوں میں
شکوہء نارسائی کرتے ہیں
حالتِ وصل میں بھی ہم دونوں
لمحہ لمحہ جدائی کرتے ہیں
آپ جو میری جاں ہیں۔۔میں دل ہوں
مجھ سے کیسے جدائی کرتے ہیں
باوفا ایک دوسرے سے میاں
ہر نفس بے وفائی کرتے ہیں
جو ہیں سرحد کے پار سے آئے
وہ بہت خود ستائی کرتے ہیں
پَل قیامت کے سود خوار ہیں جون
یہ ابد کی کمائی کرتے ہیں
جون ایلیا

زمین ایک خلل ہے مری اکائی میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 87
میں کائنات کے مانند ہوں خدائی میں
زمین ایک خلل ہے مری اکائی میں
میں دل کا اتنا سخی ہوں، خدا معاف کرے
کہ ڈھونڈ سکتا ہوں نیکی، تری برائی میں
یہ جسم شخص لگے روح کے علاقے کا
عجیب لطفِ دو عالم ہے آشنائی میں
رکا ہوا کوئی لمحہ نہ مجھ کو روک سکے
خدا کرے کہ رہوں رات دن رہائی میں
ملا تھا نقدِ سرِ راہ اس کے جلوے کا
گزر بسر ہوئی اپنی اسی کمائی میں
میں روز جیتا رہا اور روز مرتا رہا
مرا بھی نام لکھو کل کی کارروائی میں
آفتاب اقبال شمیم