ٹیگ کے محفوظات: بدی

اور ہاں یکبارگی کی جائے گی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 150
تم سے جانم عاشقی کی جائے گی
اور ہاں یکبارگی کی جائے گی
کر گئے ہیں کوچ اس کوچے کے لوگ
اب تو بس آوارگی کی جائے گی
تم سراپا حُسن ہو، نیکی ہو تم
یعنی اب تم سے بدی کی جائے گی
یار اس دن کو کبھی آنا نہیں
پھول جس دن وہ کلی کی جائے گی
اس سے مِل کر بے طرح روؤں گا میں
ایک طرفہ تر خوشی کی جائے گی
ہے رسائی اس تلک دل کا زیاں
اب تو یاراں نارسی کی جائے گی
آج ہم کو اس سے ملنا ہی نہیں
آج کی بات آج ہی کی جائے گی
ہے مجھے احساس کم کرنا ہلاک
یعنی اب تو بے حسی کی جائے گی
جون ایلیا

لاگو ہو میرے جی کا اتنی ہی دوستی کر

دیوان دوم غزل 817
اب تنگ ہوں بہت میں مت اور دشمنی کر
لاگو ہو میرے جی کا اتنی ہی دوستی کر
جب تک شگاف تھے کچھ اتنا نہ جی رکے تھا
پچھتائے ہم نہایت سینے کے چاک سی کر
قصہ نہیں سنا کیا یوسفؑ ہی کا جو تونے
اب بھائیوں سے چندے تو گرگ آشتی کر
ناسازی و خشونت جنگل ہی چاہتی ہے
شہروں میں ہم نہ دیکھا بالیدہ ہوتے کیکر
کچھ آج اشک خونیں میں نے نہیں چھپائے
رہ رہ گیا ہوں برسوں لوہو کو اپنے پی کر
کس مردنی کو اس بن بھاتی ہے زندگانی
بس جی چکا بہت میں اب کیا کروں گا جی کر
حرف غلط کو سن کر درپے نہ خوں کے ہونا
جو کچھ کیا ہے میں نے پہلے اسے سہی کر
دن رات کڑھتے کڑھتے میں بھی بہت رکا ہوں
جو تجھ سے ہوسکے سو اب تو بھی مت کمی کر
رہتی ہے سو نکوئی رہتا نہیں ہے کوئی
تو بھی جو یاں رہے تو زنہار مت بدی کر
تھی جب تلک جوانی رنج و تعب اٹھائے
اب کیا ہے میر جی میں ترک ستمگری کر
میر تقی میر