ٹیگ کے محفوظات: بدلتا

رُک گیا ہے وہی رستہ میرا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 79
تھا جو مشکل کا مداوا میرا
رُک گیا ہے وہی رستہ میرا
جُرعہِ غم ہے مجھے جُرعۂ مے
ٹوٹتا ہی نہیں نشّہ میرا
خُوب سُلگائی دبی آگ مری
حال پوچھا ہے یہ اچّھا میرا
خشک پتّوں سا وہ بچھڑا مجھ سے
دیکھ کر رنگ بدلتا میرا
عرش اور فرش ملے ہیں باہم
ہے عجب گھر کا یہ نقشہ میرا
مُسکراہٹ مرا غازہ ہی نہ ہو
دیکھئے غور سے چہرہ میرا
ایک باطن بھی ہے ہر ظاہر کا
کیجئے یوں نہ تماشا میرا
دفعتاً جیسے خُدا بن بیٹھا
دیکھ کر ہاتھ وہ پھیلا میرا
امتحاں میں مرے پرچے خالی
اور بڑا سب سے ہے بستہ میرا
چور جو دل میں چُھپا تھا ماجدؔ
کر گیا ہے وہ صفایا میرا
ماجد صدیقی

نیند میں ساری رات چلتا رہا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 27
چاند میری طرح پگھلتا رہا
نیند میں ساری رات چلتا رہا
جانے کس دُکھ سے دل گرفتہ تھا
مُنہ پہ بادل کی راکھ ملتا رہا
میں تو پاؤں کے کانٹے چُنتی رہی
اور وہ راستہ بدلتا رہا
رات گلیوں میں جب بھٹکتی تھی
کوئی تو تھا جو ساتھ چلتا رہا
موسمی بیل تھی مَیں ، سُوکھ گئی
وہ تناور درخت، پَھلتا رہا
سَرد رُت میں ، مُسافروں کے لیے
پیڑ ، بن کر الاؤ ، جلتا رہا
دل ، مرے تن کا پُھول سا بچّہ
پتّھروں کے نگر میں پلتا رہا
نیند ہی نیند میں کھلونے لیے
خواب ہی خواب میں بہلتا رہا
پروین شاکر

اشک کی سرخی زردی چہرہ کیا کیا رنگ بدلتا ہے

دیوان چہارم غزل 1519
عشق کیا ہے جب سے ہم نے دل کو کوئی ملتا ہے
اشک کی سرخی زردی چہرہ کیا کیا رنگ بدلتا ہے
روز وداع لگا چھاتی سے وہ جو خوش پرکار گیا
دل تڑپے ہے جان کھپے ہے سینہ سارا جلتا ہے
گور بغیر آرام گہ اس کو دنیا میں پھر کوئی نہیں
عشق کا مارا آوارہ جو گھر سے اپنے نکلتا ہے
ضعف دماغی جس کو ہووے عشق کے رنج و محنت سے
جی بھی سنبھلتا ہے اس کا پر بعد از دیر سنبھلتا ہے
شورجرس شب گیر کا غافل تیاری کا تنبہ ہے
یعنی آنکھ نہ لگنے پاوے قافلہ صبح کو چلتا ہے
بال نہیں عاشق کے بدن پر ہربن مو سے نکلا دود
بل کر اس کو جلاتے کیا ہو آپھی جلتا بلتا ہے
میرستم کشتہ کی سماجت ہے مشہور زمانے کی
جان دیے بن آگے سے اس کے کب وہ ظالم ٹلتا ہے
میر تقی میر

نیلی چھتری تھام کے تار پہ چلتا آدمی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 85
پاؤں پاؤں ڈولتا، اور سنبھلتا آدمی
نیلی چھتری تھام کے تار پہ چلتا آدمی
آتی جاتی کثرتیں کارگہِ ایّام کی
قالب جیسی روح پہ، جسم بدلتا آدمی
جسم دہکتا کوئلہ پھونک بناتی سانس سے
عمر کے آتش دان کی آگ میں جلتا آدمی
مٹی کے باغات میں تیز ہوا کا شور ہے
گر ہی نہ جائے شاخ سے پھولتا پھلتا آدمی
آفتاب اقبال شمیم