ٹیگ کے محفوظات: بدر

اور شور اٹھے جن گلیوں سے وہ گلیاں خون سے تر کر دو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
جو حق میں تمہارے بند رہیں وہ لب گنجینۂ زر کر دو
اور شور اٹھے جن گلیوں سے وہ گلیاں خون سے تر کر دو
جو سادہ منش ہیں ان سب کو تم دین کے نام پہ دھوکا دو
جو کھولے ڈھول کا پول اُسے اسلام آباد بدر کر دو
جو رات وطن پر چھائی ہے تم سب کے بھاگ جگانے کو
کچھ جگنو چھوڑ کے وعدوں کے اُس میں اعلانِ سحر کر دو
جو کھیت ترستے ہیں نم کو اُن کھیتوں کے اِک کونے کو
خِفّت کے عرق سے تر کر کے وقفِ تشہیرِ ہُنر کر دو
جو ہاتھ اُٹھیں وہ کٹ جائیں جو آنکھ اٹھے وہ پھوٹ بہے
ہر چلتی سانس کچلنے کو پیمانۂ فتح و ظفر کر دو
ہاں پیڑ پہ بیٹھی چڑیوں پر، کاہے کو کرو تم وار بھلا
ہاں ان کا شور دبانے کو شاہو! تو بیِخ شجر کر دو
ماجد صدیقی

بچّوں سا ہمیں آئے اظہارِ ہُنر کرنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 59
جگنو سے سرِمژگاں دہکا کے سحر کرنا
بچّوں سا ہمیں آئے اظہارِ ہُنر کرنا
کوندا سا دلا دینا آنکھوں کی چمک جیسا
ہونٹوں کو تبّسم سے ہمرنگِ شرر کرنا
جاں ہو کہ خیالوں کی بے نام سی بستی وُہ
تم زیرِ نگیں اپنے اِک ایک نگر کرنا
کر ڈالیں تمنّا کو دل ہی سے الگ، لیکن
شاہوں سا ہمیں آئے کب شہر بدر کرنا
ہیں جتنی خراشیں بھی دی ہیں یہ اِسے کس نے
اِس شیشۂ دل پر بھی بھولے سے نظر کرنا
ہم لوگ ہیں وُہ ماجدؔ بالائے زمیں جِن کے
لِکھا ہے نصیبوں میں کولہو کا سفر کرنا
ماجد صدیقی

مٹی ہیں تو پھر شہر بدر ہم نہیں ہوتے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 260
خوشبو کی طرح گرم سفر ہم نہیں ہوتے
مٹی ہیں تو پھر شہر بدر ہم نہیں ہوتے
پل بھر کا تماشا ہے سو دیکھو ہمیں اس بار
ایک آئنے میں بار دگر ہم نہیں ہوتے
کیا ابر گریزاں سے شکایت ہو کہ دل میں
صحرا ہی کچھ ایسا ہے کہ تر ہم نہیں ہوتے
لے جاؤ تم اپنی مہ و انجم کی سواری
ہر شخص کے ہمراہ سفر ہم نہیں ہوتے
مدت سے فقیروں کا یہ رشتہ ہے فلک سے
جس سمت وہ ہوتا ہے اُدھر ہم نہیں ہوتے
عرفان صدیقی

دار ورسن کی منزل پر کچھ بخت آور آباد ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 506
صدیوں کے آسیب زدہ دیوار ودر آباد ہوئے
دار ورسن کی منزل پر کچھ بخت آور آباد ہوئے
دریا تیرے ساحل تو جاگیر ہیں تیری گاؤں کا کیا
گاؤں ادھر برباد ہوئے تو گاؤں ادھر آباد ہوئے
خواب سنانے والوں کا اب دیس میں رہنا جرم ہوا
سات سمندر پار کہیں جا شہر بدر آباد ہوئے
شام کی بھیگی نرم ہوا نے لہروں سے سرگوشی کی
اور پرندوں کے کچھ جوڑے ساحل پر آباد ہوئے
جب بھی اپنے گاؤں گئے ہم ، بند مکاں کا دروازہ
پوری تیس برس تک دیکھا آخر گھر آباد ہوئے
عمر گزاری جا سکتی تھی خاک نگر منصور مگر
عرش پہ ہونگے ہم آوارہ گرد اگر آباد ہوئے
منصور آفاق

عکس در عکس ہے کیا چیز، نظر ہو تو کہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 292
آئینہ کون ہے کچھ اپنی خبر ہو تو کہوں
عکس در عکس ہے کیا چیز، نظر ہو تو کہوں
اُس تجلی پہ کوئی نظم کوئی تازہ غزل
مہرباں قوسِ قزح بار دگر ہو تو کہوں
درد کے طے یہ مراحل تو ہوئے ہیں لیکن
قطرہ پہ گزری ہے کیا، قطرہ گہر ہو تو کہوں
ہمسفر میرا پتہ پوچھتے کیا ہو مجھ سے
کوئی بستی، کوئی چوکھٹ، کوئی در ہو تو کہوں
کوئی شہ نامہء شب، کوئی قصیدئہ ستم
معتبر کوئی کہیں صاحبِ زر ہو تو کہوں
قیس صحرا میں مجھے ساتھ تو لے جائے گا
آتشِ غم کا کوئی زادِ سفر ہو تو کہوں
کیسے لگتی ہے مجھے چلتی ہوئی بادِ سحر
کبھی برفائی ہوئی رات بسر ہو تو کہوں
یہ پرندے تو ہیں گل پوش رتوں کے ساتھی
موسمِ زرد میں آباد شجر ہو تو کہوں
کون بے چہرگیِ وقت پہ تنقید کرے
سر بریدہ ہے یہ دنیا، مرا سر ہو تو کہوں
رات آوارہ مزاجی کا سبب پوچھتی ہے
کیا کروں کوئی ٹھکانہ کوئی گھر ہو تو کہوں
کشتیاں کیوں بھری آتی ہیں بجھے گیتوں سے
کیا ہے اس پار مجھے کوئی خبر ہو تو کہوں
ایک ہی پیڑ بہت ہے ترے صحرا میں مجھے
کوئی سایہ سا، کوئی شاخِ ثمر ہو تو کہوں
دہر پھولوں بھری وادی میں بدل سکتا ہے
بامِ تہذیب پہ امکانِ سحر ہو تو کہوں
زندگی رنگ ہے خوشبو ہے لطافت بھی ہے
زندہ رہنے کا مرے پاس ہنر ہو تو کہوں
میں تماشا ہوں تماشائی نہیں ہو سکتا
آئینہ خانہ سے کوئی مجھے ڈر ہو تو کہوں
سچ کے کہنے سے زباں آبلہ لب ہوتی ہے
سینہء درد میں پتھر کا جگر ہو تو کہوں
میری افسردہ مزاجی بھی بدل سکتی ہے
دل بہاروں سے کبھی شیر و شکر ہو تو کہوں
تُو بجھا سکتی ہے بس میرے چراغوں کو ہو ا
کوئی مہتاب ترے پیشِ نظر ہو تو کہوں
رائیگانی کا کوئی لمحہ میرے پاس نہیں
رابطہ ہجر کا بھی زندگی بھر ہو تو کہوں
پھر بلایا ہے کسی نیلے سمندر نے مجھے
کوئی گرداب کہیں کوئی بھنور ہو تو کہوں
پھر تعلق کی عمارت کو بنا سکتا ہوں
کوئی بنیاد کہیں کوئی کھنڈر ہو تو کہوں
عید کا چاند لے آیا ہے ستم کے سائے
یہ بلائیں ہیں اگر ماہِ صفر ہو تو کہوں
اس پہ بھی ترکِ مراسم کی قیامت گزری
کوئی سسکاری کوئی دیدئہ تر ہو تو کہوں
ایک مفروضہ جسے لوگ فنا کہتے ہیں
"یہ تو وقفہ ہے کوئی ، ان کو خبر ہو تو کہوں
کتنے جانکاہ مراحل سے گزر آئی ہے
نرم و نازک کوئی کونپل جو ثمر ہو تو کہوں
یہ محبت ہے بھری رہتی ہے بھونچالوں سے
جو اُدھر ہے وہی تخریب اِدھر ہو تو کہوں
مجھ کو تاریخ کی وادی میں سدا رہنا ہے
موت کے راستے سے کوئی مفر ہو تو کہوں
آسماں زیرِ قدم آ گئے میرے لیکن
قریہء وقت کبھی زیر و زبر ہو تو کہوں
ختم نقطے کا ابھی دشت نہیں کر پایا
خود کو شاعر کبھی تکمیلِ ہنر ہو تو کہوں
اہل دانش کو ملا دیس نکالا منصور
حاکمِ شہر کوئی شہر بدر ہو تو کہوں
زندگی ایسے گزر سکتی نہیں ہے منصور
میری باتوں کا کوئی اس پہ اثر ہو تو کہوں
پوچھتے کیا ہو ازل اور ابد کا منصور
ان زمانوں سے کبھی میرا گزر ہو تو کہوں
منصور آفاق