ٹیگ کے محفوظات: بجھانے

جھونکے آگ بجھانے آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
ہم پہ کرم فرمانے آئے
جھونکے آگ بجھانے آئے
ہمیں پرانا ٹھہرانے کو
کیا کیا نئے زمانے آئے
خلق، وہ کارآمد بچّہ ہے
شاہ جسے بہلانے آئے
قیس کو جو ازبر تھا،ہم بھی
درس وہی دہرانے آئے
جنہیں بھُلاتے، خود کو بھُولے
لب پہ اُنہی کے، فسانے آئے
اپنی جگہ تھے جو بھی سہانے
دن پھر وہ نہ سہانے آئے
جن کو دیکھ کے تاپ چڑھے وہ
ماجد ہمیں منانے آئے
ماجد صدیقی

چیتے مل کر خون سے پیاس بُجھانے نکلے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے
چیتے مل کر خون سے پیاس بُجھانے نکلے
اَب کے ستمگر ، کھوپڑیوں سے ہوں جو مرصّع
اُن میناروں کی بنیاد اُٹھانے نکلے
وہ کہ بہت نازاں تھے مہذّب ہونے پر جو
ہوّے بن کر خلق کو ہیں دہلانے نکلے
یکجا کر کے جتنے کھلونے تھے بارودی
بالغ بچّے ، الٹا کھیل رچانے نکلے
ہم نے جلائے شہروں شہروں جن کے پُتلے
وہ جسموں کی تازہ فصل جلانے نکلے
ہم جانے کس بِرتے پر نم آنکھیں لے کر
سنگ دلوں کو ماجد موم بنانے نکلے
ماجد صدیقی

ترّستی تھیں نگاہیں منظروں میں ڈوب جانے کو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
وُہ دن بھی تھے لپکنے اور لطفِ خاص پانے کو
ترّستی تھیں نگاہیں منظروں میں ڈوب جانے کو
ہمارے حق میں جو بھی تھی مسافت پینگ جیسی تھی
بہم تھیں فرصتیں ساری ہمیں، جس کے جھُلانے کو
نجانے پٹّیاں آنکھوں پہ لا کر باندھ دیں کیا کیا
اُسی نے جس سے چاہا، راہ کے روڑے ہٹانے کو
ہوئے تھے حرص سے پاگل سبھی، کیا دوڑتا کوئی
لگی تھی شہر بھر میں آگ جو، اُس کے بجھانے کو
نوالے کیا، نہیں خالص یہاں حرفِ تسلی تک
سبھی میں ایک سی افیون ملتی ہے سُلانے کو
چمک جن بھی صداؤں میں ذرا بیداریوں کی تھی
جتن کیا کیا نہ شاہوں نے کئے اُن کے دبانے کو
ہمارے نام ہی بندش جہاں بھی کچھ ملی، لکھ دی
ہمیں سے بَیر تھا ماجدؔ نجانے کیا زمانے کو
ماجد صدیقی

جو گئے ہیں وُہ نہیں لوٹ کے آنے والے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 66
جھڑکے شاخوں سے تہِ خاک سمانے والے
جو گئے ہیں وُہ نہیں لوٹ کے آنے والے
بارشِ سنگ سے دوچار تھا انساں کل بھی
کم نہیں آج بھی زندوں کو جلانے والے
آئے مشکیزۂ خالی سے ہوا دینے کو
تھے بظاہر جو لگی آگ بُجھانے والے
ضُعف کس کس نے نہیں خُلق ہمارا سمجھا
ہم کہ آنکھیں تھے بہ ہر راہ بچھانے والے
صدق جذبوں میں بھی پہلا سا نہیں ہے ماجدؔ
اب نہیں خضر بھی وُہ، راہ دکھانے والے
ماجد صدیقی

بال سا اک شیشے میں آنے لگتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 116
جب بھی مجھ سے دُور وہ جانے لگتا ہے
بال سا اک شیشے میں آنے لگتا ہے
ابر کے اَوج سے جب بھی خاک پہ اترے تو
پانی کیا کیا زور دکھانے لگتا ہے
وقت فرعون بنائے کسی کو کتنا ہی
ایک نہ اک دن وہ بھی ٹھکانے لگتا ہے
دشت میں بھی یہ معجزہ ہم نے دیکھا ہے
جھونکا سا اک پیاس بجھانے لگتا ہے
دکھلائی دے چھاؤں جہاں بھی پرندے کو
چونچ سے اپنے پَر سہلانے لگتا ہے
مارا ہے کیا تیر سخن میں ماجدؔ نے
ہر ہر بات پہ کیوں اترانے لگتا ہے
ماجد صدیقی

پھر یاد گئے زمانے آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 157
آنکھوں میں شرر سجانے آئے
پھر یاد گئے زمانے آئے
نخوت ہی بھلے جتانے آئے
آئے وہ کسی بہانے آئے
وہ لکّۂ ابر اِس بدن کی
کب پیاس بھلا بجھُانے آئے
احباب جتا کے عجز اپنا
دل اور مرا دکھانے آئے
تھا چارۂ درد جن کے بس میں
ڈھارس بھی نہ وہ بندھانے آئے
چھُوتے ہی سرِ شجر ثمر کو
ہر شخص ہمیں اُڑانے آئے
بالک سے، تمہارے دل کو ماجدؔ!
ہے کون جو تھپتھپانے آئے
ماجد صدیقی

ورنہ ازبر ہیں ہوا کو بھی فسانے میرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
ایک وُہ شخص ہی احوال نہ جانے میرے
ورنہ ازبر ہیں ہوا کو بھی فسانے میرے
مَیں نہ خوشبُو نہ کرن، رنگِ سحر ہوں نہ صبا
کون آتا ہے بھلا ناز اُٹھانے میرے
ہاں وُہی دن کہ مرے حکم میں تھا تیرا بدن
جانے کب لوٹ کے آئیں وُہ زمانے میرے
چشم و رُخسار، وہ چہرہ، وہ نظرتاب اُبھار
ہیں وُہی شوق کی تسبیح کے دانے میرے
ضرب کس ہاتھ کی جانے یہ پڑی ہے اِن پر
چُور ہیں لُطف کے سب آئنہ خانے میرے
اُس نے تو آگ دکھا کر مجھے پُوچھا بھی نہ پھر
آیا ہوتا وہ الاؤ ہی بجھانے میرے
جب سے کھویا ہے وُہ مہتاب سا پیکر ماجدؔ
سخت سُونے میں نگاہوں کے ٹھکانے میرے
ماجد صدیقی

آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ

احمد فراز ۔ غزل نمبر 2
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لئے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ
کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ
تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لئے آ
پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو
رسم و رہِ دنیا ہی نبھانے کے لئے آ
کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لئے آ
اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروم
اے راحت جاں مجھ کو رلانے کے لئے آ
اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لئے آ
احمد فراز

جانے کس شہر گئے شہر بسانے والے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 553
ناچنے والے وہ درویش وہ گانے والے
جانے کس شہر گئے شہر بسانے والے
بامِ تالاب پہ آباد کتابیں اور ہم
کیا ہوئے شمس وہ تبریز سے آنے والے
اب کہاں غالب و اقبال، کہاں فیض و فراز
رہ گئے ہم ہی فقط راکھ اڑانے والے
لفظ زندہ رہے شہ نامہء فردوسی کے
طاقِ نسیاں ہوئے ایران بنانے والے
کیا ہوئے درد کسی یاد کے مہکے مہکے
رات کے پچھلے پہر آ کے جگانے والے
اپنی صورت ہی نظر آنی تھی چاروں جانب
دیکھتے کیسے ہمیں آئنہ خانے والے
غزوئہ آتشِ نمرود ہو یا آتشِ دل
ہم ہمیشہ رہے بس آگ بجھانے والے
یہ شکاری نہیں حاسد ہیں ، ہماری زد میں
دیکھ کر حسنِ چمن شور مچانے والے
عشق کیا تجھ سے کیا جرم کیا ہے ہم نے
اب تو دہلیز تلک آگئے تھانے والے
اب کہاں شہرِ خموشاں میں ہم ایسے منصور
مردہ قبروں پہ چراغوں کو جلانے والے
منصور آفاق

کسی کے خون کی بو راستوں سے آنے لگی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 171
شفق کی آگ کہانی کوئی سنانے لگی
کسی کے خون کی بو راستوں سے آنے لگی
ملی ہے ایک زمانے کو روشنی جن سے
ہوائے دہر وہی مشعلیں بجھانے لگی
تھا جس خیال پہ قائم حیات کا ایواں
اسی خیال سے تلخی دلوں میں آنے لگی
سحر کے آئنے کا کوئی اعتبار نہیں
کلی تو دیکھ کے عکس اپنا مسکرانے لگی
میں اپنے دل کے بھنور سے نکل نہیں سکتا
تمہاری بات تو کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگی
گلوں کے منہ میں زمانے نے آگ رکھ دی ہے
بہار اپنا ہی خوں پی کے لڑکھڑانے لگی
نسیم گزری ہے زنداں سے اس طرح باقیؔ
شکست دل کی صدا دور دور جانے لگی
باقی صدیقی