ٹیگ کے محفوظات: بجاں

اپنا گماں ہوں میں یا میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 104
جانے یہاں ہوں میں یا میں
اپنا گماں ہوں میں یا میں
میری دوئی ہے میرا زیاں
اپنا زیاں ہوں میں یا میں
جانے کون تھا وہ یارو
جانے کہاں ہوں میں یا میں
ہر دم اپنی زد پر ہوں
جا سے اماں ہوں میں یا میں
میں جو ہوں اک حیرت کا سماں
کیا وہ سماں ہوں میں یا میں
کون ہے مجھ میں شعلہ بجاں
شعلہ بجاں ہوں میں یا میں
آگ، مرے ہونے کی آگ
تیرا دھواں ہوں میں یا میں
جون ایلیا

تلخ ہے میری زندگی، تلخ زباں رہوں گا میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 103
تیرا زیاں رہا ہوں میں، اپنا زیاں رہوں گا میں
تلخ ہے میری زندگی، تلخ زباں رہوں گا میں
تیرے حضور، تجھ سے دور، جلتی رہے گی زندگی
شعلہ بجاں رہا ہوں میں، شعلہ بجاں رہوں گا میں
تجھ کو تباہ کر گئے، تیری وفا کے ولولے
یہ مرا غم ہے میرا غم، اس میں تپاں رہوں گا میں
حیف نہیں ہے دیکھ بھال میری نصیب میں ترے
یعنی متاعِ بردہ ءِ کم نظراں رہوں گا میں
جاز کی دھن اداس ہے، دل بھی بہت اداس ہے
جانے کہاں بسے گی تو، جانے کہاں رہوں گا میں
ہم ہیں جدا جدا مگر، فن کی بساطِ رنگ پر
رقص کناں رہے گی تو، زمزمہ خواں رہوں گا میں
جون ایلیا