ٹیگ کے محفوظات: بتایا

نظر میں اس کی میں تو بھی نہ آیا

دیوان ششم غزل 1784
فلک نے پیس کر سرمہ بنایا
نظر میں اس کی میں تو بھی نہ آیا
زمانے میں مرے شور جنوں نے
قیامت کا سا ہنگامہ اٹھایا
بلا تھی کوفت کچھ سوز جگر سے
ہمیں تو کوٹ کوٹ ان نے جلایا
تمامی عمر جس کی جستجو کی
اسے پاس اپنے اک دم بھی نہ پایا
نہ تھی بیگانگی معلوم اس کی
نہ سمجھے ہم اسی سے دل لگایا
قریب دیر خضر آیا تھا لیکن
ہمیں رستہ نہ کعبے کا بتایا
حق صحبت نہ طیروں کو رہا یاد
کوئی دو پھول اسیروں تک نہ لایا
غرور حسن اس کا دس گنا ہے
ہمارا عشق اسے کن نے جتایا
عجب نقشہ ہے نقاش ازل نے
کوئی ایسا نہ چہرہ پھر بنایا
علاقہ میر تھا خنجر سے اس کے
ندان اپنا گلا ہم نے کٹایا
میر تقی میر

یہ کون شگوفہ سا چمن زار میں لایا

دیوان اول غزل 106
اس چہرے کی خوبی سے عبث گل کو جتایا
یہ کون شگوفہ سا چمن زار میں لایا
وہ آئینہ رخسار دم بازپس آیا
جب حس نہ رہا ہم کو تو دیدار دکھایا
کچھ ماہ میں اس میں نہ تفاوت ہوا ظاہر
سو بار نکالا اسے اور اس کو چھپایا
اک عمر مجھے خاک میں ملتے ہوئے گذری
کوچے میں ترے آن کے لوہو میں نہایا
سمجھا تو مجھے مرگ کے نزدیک پس از دیر
رحمت ہے مرے یار بہت دور سے آیا
یہ باغ رہا ہم سے ولے جا نہ سکے ہم
بے بال و پری نے بھی ہمیں خوب اڑایا
میں صید رمیدہ ہوں بیابان جنوں کا
رہتا ہے مرا موجب وحشت مرا سایا
یا قافلہ در قافلہ ان رستوں میں تھے لوگ
یا ایسے گئے یاں سے کہ پھر کھوج نہ پایا
رو میں نے رکھا ہے در ترسا بچگاں پر
رکھیو تو مری شرم بڑھاپے میں خدایا
ٹالا نہیں کچھ مجھ کو پتنگ آج اڑاتے
بہتوں کے تئیں بائو کا رخ ان نے بتایا
ایسے بت بے مہر سے ملتا ہے کوئی بھی
دل میر کو بھاری تھا جو پتھر سے لگایا
میر تقی میر

ہم کو بن دوش ہوا باغ سے لایا نہ گیا

دیوان اول غزل 67
گل میں اس کی سی جو بو آئی تو آیا نہ گیا
ہم کو بن دوش ہوا باغ سے لایا نہ گیا
آہ جو نکلی مرے منھ سے تو افلاک کے پاس
اس کے آشوب کے عہدے سے برآیا نہ گیا
گل نے ہر چند کہا باغ میں رہ پر اس بن
جی جو اچٹا تو کسو طرح لگایا نہ گیا
سرنشین رہ میخانہ ہوں میں کیا جانوں
رسم مسجد کے تئیں شیخ کہ آیا نہ گیا
حیف وے جن کے وہ اس وقت میں پہنچا جس وقت
ان کنے حال اشاروں سے بتایا نہ گیا
منتظر اس کے کرخت ہو گئے بیٹھے بیٹھے
جس کے مردے کو اٹھایا سو لٹایا نہ گیا
خطر راہ محبت کہیں جوں حرف مٹے
جس سے اس طرف کو قاصد بھی چلایا نہ گیا
خوف آشوب سے غوغاے قیامت کے لیے
خون خوابیدئہ عشاق جگایا نہ گیا
میر مت عذر گریباں کے پھٹے رہنے کا کر
زخم دل چاک جگر تھا کہ سلایا نہ گیا
میر تقی میر