ٹیگ کے محفوظات: با

مدت سے اسی طرح نبھی جاتی ہے با ہم

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 64
گہ ہم سے خفا وہ ہیں گہے ان سے خفا ہم
مدت سے اسی طرح نبھی جاتی ہے با ہم
کرتے ہیں غلط یار سے اظہارِ وفا ہم
ثابت جو ہوا عشق، کجا یار کجا ہم
کچھ نشۂ مے سے نہیں کم نشۂ نخوت
تقویٰ میں بھی صہبا کا اٹھاتے ہیں مزا ہم
موجود ہے جو لاؤ جو مطلوب ہے وہ لو
مشتاقِ وفا تم ہو طلب گارِ جفا ہم
نے طبعِ پریشاں تھی نہ خاطر متفرق
وہ دن بھی عجب تھے کہ ہم اور آپ تھے باہم
کیا کرتے ہیں، کیا سنتے ہیں، کیا دیکھتے ہیں، ہائے
اس شوخ کے جب کھولتے ہیں بندِ قبا ہم
یہ طرزِ ترنم کہیں زنہار نہ ڈھونڈو
اے شیفتہ یا مرغِ چمن رکھتے ہیں، یا ہم
مصطفٰی خان شیفتہ

سب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 29
اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا
سب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھا
ساری گلی سنسان پڑی تھی بادِ فنا کے پہرے میں
ہجر کے دلان اور آنگن میں بس ایک سایہ زندہ تھا
وہ جو کبوتر اس موکھے میں رہتے تھے کس دیس اڑے
ایک کا نام نوازندہ تھا اور اک کا بازندہ تھا
وہ دوپہر اپنی رخصت کی ایسا ویسا دھوکا تھی
اپنے اندر اپنی لاش اٹھائے میں جھوٹا زندہ تھا
تھیں وہ گھر راتیں بھی کہانی، وعدے اور پھر دن گننا
آنا تھا جانے والے کو، جانے والا زندہ تھا
دستک دینے والے بھی تھے دستک سننے والے بھی
تھا آباد محلہ سارا ہر دروازہ زندہ تھا
پیلے پتوں کی سہ پہر کی وحشت پرسہ دیتی تھی
آنگن میں اک اوندھے گھڑے پر بس ایک کوا زندہ تھا
جون ایلیا

کوئی دن ہی میں خاک سی یاں اڑا دی

دیوان دوم غزل 963
متاع دل اس عشق نے سب جلا دی
کوئی دن ہی میں خاک سی یاں اڑا دی
دلیل اس بیاباں میں دل ہی ہے اپنا
نہ خضر و بلد یاں نہ رہبر نہ ہادی
مزاجوں میں یاس آگئی ہے ہمارے
نہ مرنے کا غم ہے نہ جینے کی شادی
نہ پوچھو کہ چھاتی کے جلنے نے آخر
عجب آگ دل میں جگر میں لگا دی
وفا لوگ آپس میں کرتے تھے آگے
یہ رسم کہن آہ تم نے اٹھا دی
جدا ان غزالان شہری سے ہوکر
پھرے ہم بگولے سے وادی بہ وادی
صبا اس طرف کو چلی جل گئے ہم
ہوا یہ سبب اپنے مرنے کا بادی
وہ نسخہ جو دیکھا بڑھا روگ دل کا
طبیب محبت نے کیسی دوا دی
ملے قصر جنت میں پیر مغاں کو
ہمیں زیر دیوار میخانہ جا دی
نہ ہو عشق کا شور تا میر ہرگز
چلے بس تو شہروں میں کریے منادی
میر تقی میر

پر ہوسکے تو پیارے ٹک دل کا آشنا رہ

دیوان اول غزل 423
جی چاہے مل کسو سے یا سب سے تو جدا رہ
پر ہوسکے تو پیارے ٹک دل کا آشنا رہ
کل بے تکلفی میں لطف اس بدن کا دیکھا
نکلا نہ کر قبا سے اے گل بس اب ڈھپا رہ
عاشق غیور جی دے اور اس طرف نہ دیکھے
وہ آنکھ جو چھپاوے تو تو بھی ٹک کھنچا رہ
پہنچیں گے آگے دیکھیں کس درجہ کو ابھی تو
اس ماہ چاردہ کا سن دس ہے یا کہ بارہ
کھینچا کرے ہے ہر دم کیا تیغ بوالہوس پر
اس ناسزاے خوں کے اتنا نہ سر چڑھا رہ
مستظہر محبت تھا کوہکن وگرنہ
یہ بوجھ کس سے اٹھتا ایک اور ایک گیارہ
ہر مشت خاک یاں کی چاہے ہے اک تامل
بن سوچے راہ مت چل ہر گام پر کھڑا رہ
شاید کہ سربلندی ہووے نصیب تیرے
جوں گرد راہ سب کے پائوں سے تو لگا رہ
اس خط سبز نے کچھ رویت نہ رکھی تیری
کیا ایسی زندگانی جا خضر زہر کھا رہ
حد سے زیادہ واعظ یہ کودنا اچھلنا
کاہے کو جاتے ہیں ہم اے خرس اب بندھا رہ
میں تو ہیں وہم دونوں کیا ہے خیال تجھ کو
جھاڑ آستین مجھ سے ہاتھ آپ سے اٹھا رہ
جیسے خیال مفلس جاتا ہے سو جگہ تو
مجھ بے نوا کے بھی گھر ایک آدھ رات آ رہ
دوڑے بہت ولیکن مطلب کو کون پہنچا
آئندہ تو بھی ہم سا ہوکر شکستہ پا رہ
جب ہوش میں تو آیا اودھر ہی جاتے پایا
اس سے تو میر چندے اس کوچے ہی میں جا رہ
میر تقی میر

گئے گذرے ہیں آخر ایسے کیا ہم

دیوان اول غزل 280
نہ پھر رکھیں گے تیری رہ میں پا ہم
گئے گذرے ہیں آخر ایسے کیا ہم
کھنچے گی کب وہ تیغ ناز یارب
رہے ہیں دیر سے سر کو جھکا ہم
نہ جانا یہ کہ کہتے ہیں کسے پیار
رہیں بے لطفیاں ہی یاں تو باہم
بنے کیا خال و زلف و خط سے دیکھیں
ہوئے ہیں کتنے یہ کافر فراہم
مرض ہی عشق کا بے ڈول ہے کچھ
بہت کرتے ہیں اپنی سی دوا ہم
کہیں پیوند ہوں یارب زمیں کے
پھریں گے اس سے یوں کب تک جدا ہم
ہوس تھی عشق کرنے میں ولیکن
بہت نادم ہوئے دل کو لگا ہم
کب آگے کوئی مرتا تھا کسی پر
جہاں میں کر گئے رسم وفا ہم
تعارف کیا رہا اہل چمن سے
ہوئے اک عمر کے پیچھے رہا ہم
موا جس کے لئے اس کو نہ دیکھا
نہ سمجھے میر کا کچھ مدعا ہم
میر تقی میر