ٹیگ کے محفوظات: باہم

تو اپنا غم کچھ کم کر لے

ہم کو بھی شریکِ غم کر لے
تو اپنا غم کچھ کم کر لے
چاہت کا چراغ نہیں چھپتا
جتنا چاہے مدھم کر لے
شاید کوئی راہ نکل آئے
آ کچھ باتیں باہم کر لے
تُو کون ہے جو تیرے آگے
دنیا اپنا سر خم کر لے
یوں کب تک سوچے گا باصرِؔ
جو کرنا ہے یک دم کر لے
باصر کاظمی

ہر لمحہ لحظہ آن و زماں ہر دم اختلاط

دیوان پنجم غزل 1643
رکھتا ہے میرے دل سے تمھارا غم اختلاط
ہر لمحہ لحظہ آن و زماں ہر دم اختلاط
ہم وے ملے ہی رہتے ہیں مردم کی شکل کیا
ان صورتوں میں ہوتا نہیں باہم اختلاط
شیریں لباں جہاں کے نہیں چھوٹ جانتے
ہوں گو کہ میر صاحب و قبلہ کم اختلاط
میر تقی میر

درویش کتنے ماتم باہم کیا کریں ہیں

دیوان سوم غزل 1218
تکیے میں اپنے دل کا ہم غم کیا کریں ہیں
درویش کتنے ماتم باہم کیا کریں ہیں
جب نام دل کا کوئی لے بیٹھتا ہے ناگہ
منھ دیکھ ہم دگر کا ماتم کیا کریں ہیں
مستوں کی بات کیا ہے جو کوئی اس پہ جاوے
ہم گفتگو نشے میں درہم کیا کریں ہیں
حکم فسانہ سازی پیدا کریں ہیں شب کو
افسوں ہم اس کے اوپر جو دم کیا کریں ہیں
کچھ چال میر جی کی آتی نہیں سمجھ میں
ہم بھی سلوک ان سے اب کم کیا کریں ہیں
میر تقی میر

ہوتا تھا اگلے لوگوں میں بھی باہم اختلاط

دیوان دوم غزل 830
کرتے نہیں ہیں اس سے نیا کچھ ہم اختلاط
ہوتا تھا اگلے لوگوں میں بھی باہم اختلاط
ٹک گرم میں ملوں تو مجھی سے ملے خنک
اوروں سے تو وہی ہے اسے ہر دم اختلاط
ایسا نہ ہو کہ شیخ دغا دیوے ہم نشیں
ابلیس سے کرے ہے کوئی آدم اختلاط
بیگانگی مجھی سے چلی جاتی ہے خصوص
رکھتا ہے یوں تو یار سے اک عالم اختلاط
کس طور اتفاق پڑی صحبت اس سے دیر
ہے میر بے دماغ و قیامت کم اختلاط
میر تقی میر

ہوئے ہیں دل جگر بھی سامنے رستم ہیں یہ دونوں

دیوان اول غزل 365
تری ابرو و تیغ تیز تو ہم دم ہیں یہ دونوں
ہوئے ہیں دل جگر بھی سامنے رستم ہیں یہ دونوں
نہ کچھ کاغذ میں ہے تہ نے قلم کو درد نالوں کا
لکھوں کیا عشق کے حالات نامحرم ہیں یہ دونوں
لہو آنکھوں سے بہتے وقت رکھ لیتا ہوں ہاتھوں کو
جراحت ہیں اگر وے دونوں تو مرہم ہیں یہ دونوں
کسو چشمے پہ دریا کے دیا اوپر نظر رکھیے
ہمارے دیدئہ نم دیدہ کیا کچھ کم ہیں یہ دونوں
لب جاں بخش اس کے مار ہی رکھتے ہیں عاشق کو
اگرچہ آب حیواں ہیں ولیکن سم ہیں یہ دونوں
نہیں ابرو ہی مائل جھک رہی ہے تیغ بھی ایدھر
ہمارے کشت و خوں میں متفق باہم ہیں یہ دونوں
کھلے سینے کے داغوں پر ٹھہر رہتے ہیں کچھ آنسو
چمن میں مہر ورزی کے گل و شبنم ہیں یہ دونوں
کبھو دل رکنے لگتا ہے جگر گاہے تڑپتا ہے
غم ہجراں میں چھاتی کے ہماری جم ہیں یہ دونوں
خدا جانے کہ دنیا میں ملیں اس سے کہ عقبیٰ میں
مکاں تو میر صاحب شہرئہ عالم ہیں یہ دونوں
میر تقی میر

پھر کربلا میں شامِ محرم گزار خیر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 178
جاری ہے پھر حسین کا ماتم گزار خیر
پھر کربلا میں شامِ محرم گزار خیر
پھٹ ہی نہ جائے کوئی یہاں بم گزار خیر
اک چھت تلے ہے فیملی باہم گزار خیر
خودکش دھماکے ہونے لگے ہیں گلی گلی
برپا جگہ جگہ پہ ہے ماتم گزار خیر
پھرتی ہے موت ظلم کے گرد و غبار میں
آیا ہے خاک و خون کا موسم گزار خیر
میرے وطن میں آگ لگی ہے اک ایک کوس
وہ سرنگوں ہے دین کا پرچم گزار خیر
منصور پہ کرم ہو خصوصی خدائے پاک
لگتی نہیں گزرتی شبِ غم گزار خیر
منصور آفاق