ٹیگ کے محفوظات: بالیاں

پاؤں سے ہواؤں کے، بیڑیاں نہیں کھلتیں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 58
شوقِ رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیں
پاؤں سے ہواؤں کے، بیڑیاں نہیں کھلتیں
پیڑ کو دعا دے کر، کٹ گئی بہاروں سے
پھول اتنے بڑھ آئے کھڑکیاں نہیں کھلتیں
پھول بن کر سیروں میں اور کون شامل تھا
شوخیِ صبا سے تو بالیاں نہیں کھلتیں
حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیے جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں
کوئی موجہ ءِ شیریں چوم کر جگائے گی
سورجوں کے نیزوں سے سیپیاں نہیں کھلتیں
ماں سے کیا کہیں گی دکھ ہجر کا کہ خود پر بھی
اتنی چھوٹی عمروں کی بچیاں نہیں کھلتیں
شاخ شاخ سرگرداں کس کی جستجو میں ہیں
کون سے سفر میں ہیں تتلیاں نہیں کھلتیں
آدھی رات کی چپ میں کس کی چاپ ابھرتی ہے
چھت پہ کون آتا ہے، سیڑھیاں نہیں کھلتیں
پانیوں کے چڑھنے تک حال کہہ سکیں اور پھر
کیا قیامتیں گزریں، بستیاں نہیں کھلتیں
پروین شاکر

ایدھر سے ہیں دعائیں اودھر سے گالیاں ہیں

دیوان سوم غزل 1184
درویشوں سے تو ان نے ضدیں نکالیاں ہیں
ایدھر سے ہیں دعائیں اودھر سے گالیاں ہیں
جبہے سے سینہ تک ہیں کیا کیا خراش ناخن
گویا کہ ہم نے منھ پر تلواریں کھالیاں ہیں
جب لگ گئے جھمکنے رخسار یار دونوں
تب مہر و مہ نے اپنی آنکھیں چھپالیاں ہیں
صبح چمن کا جلوہ ہندی بتوں میں دیکھا
صندل بھری جبیں ہیں ہونٹوں کی لالیاں ہیں
درد و الم ہی میں سب جاتے ہیں روز و شب یاں
دن اشک ریزیاں ہیں شب زار نالیاں ہیں
حیزوں نے ریختے کو ووں ریختی بنایا
جوں ان دنوں میں بالے لڑکوں کی بالیاں ہیں
اجماع بوالہوس کو رکھ رکھ لیا ہے آگے
مت جان ایسی بھیڑیں جی دینے والیاں ہیں
ان گل رخوں کی قامت لہکے ہے یوں ہوا میں
جس رنگ سے لچکتی پھولوں کی ڈالیاں ہیں
وہ دزد دل نہیں تو کیوں دیکھتے ہی مجھ کو
پلکیں جھکالیاں ہیں آنکھیں چرا لیاں ہیں
اس آفتاب بن یاں اندھیر ہورہا ہے
دن بھی سیاہ اپنے جوں راتیں کالیاں ہیں
چلتے ہیں یہ تو ٹھوکر لگتی ہے میر دل کو
چالیں ہی دلبروں کی سب سے نرالیاں ہیں
میر تقی میر

کدوں دھیان چ لیاوندیاں، سانوں ایہہ نخرے والیاں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 93
مُکھاں توں چِٹیاں گوریاں، اندراں توں ماجدُ کالیاں
کدوں دھیان چ لیاوندیاں، سانوں ایہہ نخرے والیاں
سوہنا جیہا اِک مکھ سی، کھنجیا تے اوہدا دکھ سی
دُکھاں نے مِل کے لیاندیاں، راتاں جگاوَن والیاں
ایہہ میں وی نئیں ساں جاندا، اوہ خواب جیہی اک، کون سی
ہوٹھاں تے دِھیمی لہر سی، مکھ تے مشالاں بالیاں
بیٹھے ساں اکھیاں مِیٹ کے، دل سی جویں پچھتاوندا
راتیں وی سُفنے لیائے سن، تاہنگاں دیاں کجھ ڈالیاں
بھخ رہئی سی وانگ انگیاریاں، بانہواں دے وچ ائی آندیاں
ویلے نے اگی چاہڑیا، سونا سی وچ کُٹھیالیاں
بِناں مراداں حاصلاں، سدھراں پیاں تصویریاں
ایس ائی نکھٹو سوچ وچ، اساں نے عمراں گالیاں
کیتی سی کدوں شاعری، ماجد کسے دے پیار وچ
خواباں جہیاں کجھ یاد سن، لفظاں دے روپ چ ڈھالیاں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)