ٹیگ کے محفوظات: بالائی

جامے کا دامن پائوں میں الجھا ہاتھ آنچل اکلائی کا

دیوان چہارم غزل 1328
ترک لباس سے میرے اسے کیا وہ رفتہ رعنائی کا
جامے کا دامن پائوں میں الجھا ہاتھ آنچل اکلائی کا
پاس سے اٹھ چلتا ہے وہ تو آپ میں میں رہتا ہی نہیں
لے جاتا ہے جا سے مجھ کو جانا اس ہرجائی کا
حال نہ میرا دیکھے ہے نہ کہے سے تامل ہے اس کو
محو ہے خود آرائی کا یا بے خود ہے خودرائی کا
ظاہر میں خورشید ہوا وہ نور میں اپنے پنہاں ہے
خالی نہیں ہے حسن سے چھپنا ایسے بھی پیدائی کا
یاد میں اس کی قامت کی میں لوہو رو روسوکھ گیا
آخر یہ خمیازہ کھینچا اس خرچ بالائی کا
بعد مرگ چراغ نہ لاوے گور پہ وہ عاشق کی آہ
جیتے جی بھی داغ ہی تھا میں اس کی بے پروائی کا
چشم وفا اخوان زماں سے سادہ ہو سو رکھے میر
قصہ ہے مشہور زمانہ پہلے دونوں بھائی کا
میر تقی میر

جنگل میں نکل آئے کچھ واں بھی نہ بن آئی

دیوان سوم غزل 1252
تدبیر غم دل کی بستی میں نہ ٹھہرائی
جنگل میں نکل آئے کچھ واں بھی نہ بن آئی
خواہش ہو جسے دل کی دل دوں اسے اور سر بھی
میں نے تو اسی دل سے تصدیع بہت پائی
بے پردہ نہ ہونا تھا اسرار محبت کو
عاشق کشی ہے جب سے ہے عشق کی رسوائی
گھر دل کا بہت چھوٹا پر جاے تعجب ہے
عالم کو تمام اس میں کس طرح ہے گنجائی
گھر بار لٹایا جب تب وہ سہی قد آیا
مفلوک ہوئے اب ہم کر خرچ یہ بالائی
خوبی سے ندان اس کی سب صورتیں یاں بگڑیں
وہ زلف بنی دیکھی سب بن گئے سودائی
کیا عہدہ برآئی ہو اس گل کی دورنگی سے
ہر لحظہ ہے خودرائی ہر آن ہے رعنائی
عاشق کی جسے ہووے کچھ قدر نہیں پیدا
جیتا نہ رہا اب تک مجنوں ہی کو موت آئی
آزار بہت کھینچے اب میر توکل ہے
کھینچی نہ گئی ہم سے ہر ایک کی مرزائی
میر تقی میر