ٹیگ کے محفوظات: باغ

پروانے دیکھتے ہیں تماشائے باغِ داغ

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 32
مانندِ گل ہیں‌ میرے جگر میں‌ چراغِ داغ
پروانے دیکھتے ہیں تماشائے باغِ داغ
مرگِ عدو سے آپ کے دل میں چھپُا نہ ہو
میرے جگر میں اب نہیں ملتا سراغِ داغ
دل میں قمر کے جب سے ملی ہے اسے جگہ
اس دن سے ہو گیا ہے فلک پر دماغِ داغ
تاریکیِ لحد سے نہیں دل جلے کو خوف
روشن رہے گا تا بہ قیامت چراغِ داغ
مولا نے اپنے فضل و کرم سے بچا لیا
رہتا وگرنہ ایک زمانے کو داغِ داغ
داغ دہلوی

پھولا پھرے ہے مرغ چمن باغ باغ ہے

دیوان ششم غزل 1893
کیا منھ لگے گلوں کے شگفتہ دماغ ہے
پھولا پھرے ہے مرغ چمن باغ باغ ہے
وہ دل نہیں رہا ہے نہ اب وہ دماغ ہے
جی تن میں اپنے بجھتا سا کوئی چراغ ہے
قامت سے اس کی سرنگوں رہتے ہیں سرو و گل
خوبی سے اس کی لالۂ صد برگ داغ ہے
یارب رکھیں گے پنبہ و مرہم کہاں کہاں
سوز دروں سے ہائے بدن داغ داغ ہے
مدت ہوئی کہ زانو سے اٹھتا نہیں ہے سر
کڑھنے سے رات دن کے ہمیں کب فراغ ہے
گھر گھر پھرے ہے جھانکتی ہر صبح جو نسیم
پردے میں کوئی ہے کہ یہ اس کا سراغ ہے
صولت فقیری کی نہ گئی مر گئے پہ بھی
اب چشم شیر گور کا میری چراغ ہے
لگ نکلی ہے کسو کی مگر بکھری زلف سے
آنے میں باد صبح کے یاں اک دماغ ہے
نابخردی سے مرغ دل ناتواں پہ میر
اس شوخ لڑکے سے مجھے باہم جناغ ہے
میر تقی میر

اندرونے میں جیسے باغ لگا

دیوان دوم غزل 705
ایک دل کو ہزار داغ لگا
اندرونے میں جیسے باغ لگا
اس سے یوں گل نے رنگ پکڑا ہے
شمع سے جیسے لیں چراغ لگا
خوبی یک پیچہ بند خوباں کی
خوب باندھوں گا گر دماغ لگا
پائوں دامن میں کھینچ لیں گے ہم
ہاتھ گر گوشۂ فراغ لگا
میر اس بے نشاں کو پایا جان
کچھ ہمارا اگر سراغ لگا
میر تقی میر

وہ شہ گلاب میری زندگی کے باغ میں آئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 89
اسی گماں کا سراپا دل و دماغ میں آئے
وہ شہ گلاب میری زندگی کے باغ میں آئے
پڑھوں تو صبح تلک ہچکیوں میں پڑھتا ہی جاؤں
کشید حرف کچھ ایسی مرے ایاغ میں آئے
خلا بھی خالی نہیں ہے ادھر نگاہ کروں تو
پلٹ کے روشنی سی دل کے داغ داغ میں آئے
عذابِ کارِ جہاں سے اُسے نکلنا سکھاؤں
اُسے کہو کہ مرے حجلۂ فراغ میں آئے
میں شب کے طاقچۂ لامکاں میں رکھا گیا ہوں
میری ہی چشم نما روشنی چراغ میں آئے
کرن کی تابِ فزودہ سے جو بنایا گیا ہو
وہ مہر زادہ کہاں آنکھ کے سراغ میں آئے
آفتاب اقبال شمیم

دیا ہم نے نہ دنیا کو، کچھ ایسا تھا دماغ اپنا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 7
کیا خود کو خجل گمنامیوں میں اور سراغ اپنا
دیا ہم نے نہ دنیا کو، کچھ ایسا تھا دماغ اپنا
کوئی آتا نہیں مے خانۂ منظر میں ، تنہا ہی
یہ چشمِ منتظرِ جھلکائے رکھتی ہے ایاغ اپنا
شجر ان کی منڈیریں اور گل ہیں طاقچے ان کے
رُتیں رکھتی ہیں روشن آندھیوں میں بھی چراغ اپنا
ملی وہ بے نیازی فکرِ پیش و بعد سے ہم کو
محاطِ وقت سے باہر پڑے پائے فراغ اپنا
زمیں دریاؤں کی ہو اور بہار افزا نہ ہو کیسے
سدا شاداب رہتا ہے گُل وعدہ سے باغ اپنا
آفتاب اقبال شمیم

بلبل بہت ہے دیکھ کے پھولوں کو باغ باغ

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 38
یا رب نگاہ بد سے چمن کو بچائیو
بلبل بہت ہے دیکھ کے پھولوں کو باغ باغ
آئیں پئیں وہ شوق سے جو اہلِ ظرف ہوں
ساقی بھرے کھڑا ہے مئے لعل سے ایاغ
حالیؔ بھی پڑھنے آئے تھے کچھ بزم شعرو میں
باری تب ان کی آئی کہ گل ہو گئے چراغ
الطاف حسین حالی

کس کو ہے دماغ زندگی کا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 48
ہر داغ ہے داغ زندگی کا
کس کو ہے دماغ زندگی کا
دیتے رہے لو بہار کے زخم
جلتا رہا باغ زندگی کا
کس کس کے جگر کا داغ بن کر
جلتا ہے چراغ زندگی کا
کچھ آپ کی انجمن میں آ کر
ملتا ہے سراغ زندگی کا
پوچھو نہ مآل شوق باقیؔ
دل بن گیا داغ زندگی کا
باقی صدیقی