ٹیگ کے محفوظات: بازو

کون ہے بے قابو مجھ میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 113
کرتا ہے ہا ہُو مجھ میں
کون ہے بے قابو مجھ میں
یادیں ہیں یا بلوا ہے
چلتے ہیں چاقو مجھ میں
لے ڈوبی جو ناؤ مجھے
تھا اس کا چپو مجھ میں
جانے کن کے چہرے ہیں
بے چشم و ابرو مجھ میں
ہیں یہ کس کے تیغ و علم
بے دست و بازو مجھ میں
جانے کس کی آنکھوں سے
بہتے ہیں آنسو مجھ میں
ڈھونڈتی ہے اک آہو کو
اک مادہ آہو مجھ میں
آدم ، ابلیس اور خدا
کوئی نہیں یکسو مجھ میں
میں تو ایک جہنم ہوں
کیوں رہتا ہے تو مجھ میں
جون کہیں موجود نہیں
میرا ہم پہلو مجھ میں
اب بھی بہاراں مژدہ ہے
ایک خزاں خوشبو مجھ میں
جون ایلیا

برات عاشقاں بر شاخ آہو

دیوان ششم غزل 1866
لکھے ہے کچھ تو کج کر چشم و ابرو
برات عاشقاں بر شاخ آہو
گیا وہ ساتھ سوتے لے کے کروٹ
لگا بستر سے پھر اپنا نہ پہلو
اڑے ہے خاک سی سارے چمن میں
پھرا ہے آہ کس کا واں سے گل رو
جدھر پھرتے تھے چنتے پھول ہنستے
ادھر ٹپکے ہیں اب تک میرے آنسو
جدا ہوتے ہی گل خنداں ہوا میر
کیا تھا اس کا گل تکیہ جو بازو
میر تقی میر

کام اپنا اس جنوں میں ہم نے بھی یک سو کیا

دیوان دوم غزل 713
پھریے کب تک شہر میں اب سوے صحرا رو کیا
کام اپنا اس جنوں میں ہم نے بھی یک سو کیا
عشق نے کیا کیا تصرف یاں کیے ہیں آج کل
چشم کو پانی کیا سب دل کو سب لوہو کیا
نکہت خوش اس کے پنڈے کی سی آتی ہے مجھے
اس سبب گل کو چمن کے دیر میں نے بو کیا
کام میں قدرت کے کچھ بولا نہیں جاتا ہے ہائے
خوبرو اس کو کیا لیکن بہت بدخو کیا
جانا اس آرام گہ سے ہے بعینہ بس یہی
جیسے سوتے سوتے ایدھر سے ادھر پہلو کیا
عزلتی اسلام کے کیا کیا پھرے ہیں جیب چاک
تونے مائل کیوں ادھر کو گوشۂ ابرو کیا
وہ اتوکش کا مجھی پر کیا ہے سرگرم جفا
مارے تلواروں کے ان نے بہتوں کو اتو کیا
ہاتھ پر رکھ ہاتھ اب وہ دو قدم چلتا نہیں
جن نے بالش خواب کا برسوں مرا بازو کیا
پھول نرگس کا لیے بھیچک کھڑا تھا راہ میں
کس کی چشم پرفسوں نے میر کو جادو کیا
میر تقی میر

رنگ کچھ ادھورے سے، تھرتھرائے آنسو میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 60
چاپ گرتے پتوں کی، مل رہی ہے خوشبو میں
رنگ کچھ ادھورے سے، تھرتھرائے آنسو میں
میرے پاؤں کے نیچے دلدلیں ہیں سایوں کی
شام آ پڑی شاید پربتوں کے پہلو میں
وصف دیوتاؤں کے، ڈھونڈتے ہو کیا مجھ میں
کون تاب سورج کی، پا سکا ہے جگنو میں
عدل ہے یہ آمر کا، اس طرح اسے سہہ جا
آندھیاں تُلیں جیسے برگ کے ترازو میں
تالیاں بجا کر رو، دیکھ اس تماشے کو
المیے کا ہیرو ہے، مسخرے کے قابو میں
سہہ رہا ہوں برسوں سے یورشیں زمانے کی
لوچ ہے شجر کی سی میرے دست و بازو میں
آفتاب اقبال شمیم

ملک اردو میں پڑ گیا ہو گا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 72
سین ستو میں پڑ گیا ہو گا
ملک اردو میں پڑ گیا ہو گا
گر پڑا ہے افق کے شعلوں میں
دل پکھیرو میں پڑ گیا ہو گا
بے خیالی میں چھو گئے تھے لب
نیل بازو میں پڑ گیا ہو گا
اس طرف جھک گئی ہے سب دنیا
کچھ ترازو میں پڑ گیا ہو گا
ایک گجرے کے ٹوٹ جانے سے
داغ خوشبو میں پڑ گیا ہو گا
ایسا لگتا ہے عمر کا دریا
ایک آنسو میں پڑ گیا ہو گا
کتنی مشکل سے روکی ہے گالی
چھالا تالو میں پڑ گیا ہو گا
ہجر کی رات شور تھا کوئی
درد پہلو میں پڑ گیا ہو گا
شام سے جا گرا تھا کچھ باہر
نور جگنو میں پڑ گیا ہو گا
ہاتھ چھلکا نہیں یونہی منصور
چاند دارو میں پڑ گیا ہو گا
منصور آفاق