ٹیگ کے محفوظات: بارہا

دل کہاں کہ گم کیجیے؟ ہم نے مدعا پایا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 107
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجیے؟ ہم نے مدعا پایا
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا
دوست دارِ دشمن ہے! اعتمادِ دل معلوم
آہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا
سادگی و پرکاری، بے خودی و ہشیاری
حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا
غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل
خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا
حال دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنی
ہم نے بار ہا ڈھونڈھا، تم نے بارہا پایا
شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا
مرزا اسد اللہ خان غالب

دیکھا نہ بدگمان ہمارا بھلا پھرا

دیوان دوم غزل 712
یاں اپنی آنکھیں پھر گئیں پر وہ نہ آ پھرا
دیکھا نہ بدگمان ہمارا بھلا پھرا
آیا نہ پھر وہ آئینہ رو ٹک نظر مجھے
میں منھ پر اپنے خاک ملے جا بہ جا پھرا
کیا اور جی رندھے کسو کا تیرے ہجر میں
سو بار اپنے منھ سے جگر تو گیا پھرا
اللہ رے دلکشی کہیں دیکھا جو گرم ناز
جوں سایہ اس کے ساتھ ملک پھر لگا پھرا
سن لیجو ایک بار مسافر ہی ہو گیا
بیمار عشق گور سے گو بارہا پھرا
کہہ وہ شکستہ پا ہمہ حسرت نہ کیونکے جائے
جو ایک دن نہ تیری گلی میں چلا پھرا
طالع پھرے سپہر پھرا قلب پھر گئے
چندے وہ رشک ماہ جو ہم سے جدا پھرا
پر بے نمک ہے ملنے کی اس وقت میں تلاش
بارے وہ ربط و دوستی سب کا مزہ پھرا
آنسو گرا نہ راز محبت کا پاس کر
میں جیسے ابر برسوں تئیں دل بھرا پھرا
بے صرفہ رونے لگ گئے ہم بھی اگر کبھو
تو دیکھیو کہ بادیہ سارا بہا پھرا
بندہ ہے پھر کہاں کا جو صاحب ہو بے دماغ
اس سے خدائی پھرتی ہے جس سے خدا پھرا
خانہ خراب میر بھی کتنا غیور تھا
مرتے موا پر اس کے کبھو گھر نہ جا پھرا
میر تقی میر

انجمن انجمن رہا تنہا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 67
دل نے ایک ایک دکھ سہا تنہا
انجمن انجمن رہا تنہا
ڈھلتے سایوں میں تیرے کوچے سے
کوئی گزرا ہے بارہا تنہا
تیری آہٹ قدم قدم اور میں
اس معیّت میں بھی رہا تنہا
کہنہ یادوں کے برف زاروں سے
ایک آنسو بہا، بہا تنہا
ڈوبتے ساحلوں کے موڑ پہ دل
اک کھنڈر سا رہا سہا، تنہا
گونجتا رہ گیا خلاؤں میں
وقت کا ایک قہقہہ تنہا
مجید امجد