ٹیگ کے محفوظات: بارگراں

یا محبت کہہ کے یہ بارگراں میں لے گیا

دیوان سوم غزل 1056
دین و دل کے غم کو آساں ناتواں میں لے گیا
یا محبت کہہ کے یہ بارگراں میں لے گیا
خاک و خوں میں لوٹ کر رہ جانے ہی کا لطف ہے
جان کو کیا جو سلامت نیم جاں میں لے گیا
سرگذشت عشق کی تہ کو نہ پہنچا یاں کوئی
گرچہ پیش دوستاں یہ داستاں میں لے گیا
عرصۂ دشت قیامت باغ ہوجائے گا سب
اس طرح سے جو یہ چشم خوں فشاں میں لے گیا
ذکر دل جانے کا وہ پرکینہ سن کہنے لگا
یہ سناتے ہو کسے کیا مہرباں میں لے گیا
یک جہاں مہر و وفا کی جنس تھی میرے کنے
لیکن اس کو پھیر ہی لایا جہاں میں لے گیا
ریختہ کاہے کو تھا اس رتبۂ اعلیٰ میں میر
جو زمیں نکلی اسے تا آسماں میں لے گیا
میر تقی میر

اس جہنم میں کوئی باغ جناں ہے کہ نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 397
اپنی بستی میں کہیں امن و اماں ہے کہ نہیں
اس جہنم میں کوئی باغ جناں ہے کہ نہیں
حلقہ زن ہوکے درِ دل پہ پکارے کوئی
زندگی تیرے لئے بارگراں ہے کہ نہیں
جس میں شہزادیاں سوئی تھیں بوقت تقسیم
اب وہ بستی میں تری اندھا کنواں ہے کہ نہیں
جو کسی کو بھی برہنہ نہیں ہونے دیتا
آسماں پر وہ سیہ پوش دھواں ہے کہ نہیں
خانۂ خاک تو آباد بتانِ زر سے
آسماں پر بھی کہیں تیرا مکاں ہے کہ نہیں
میرے جیسوں کو بتاتا ہے جو رستے کا پتہ
اُس ستارے کا کہیں نام و نشاں ہے کہ نہیں
منصور آفاق