ٹیگ کے محفوظات: بارور

بِن ترے کیا کیا حسیں موسم گزر جانے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
ندیّوں میں آسمانی رنگ بھر جانے لگے
بِن ترے کیا کیا حسیں موسم گزر جانے لگے
کِھلکھلاہٹ بھی وہی اور تمتماہٹ بھی وہی
پُھول تیرے عارضوں جیسے نکھر جانے لگے
تیری جانب تتلیوں جیسی لئے بے تابیاں
ہو کے پہلے سے زیادہ بارور جانے لگے
تشنۂ حسن اِک نظر، اور اِک دلِ ذی حوصلہ
لے کے ہم بھی ساتھ کیا رختِسفر جانے لگے
تو نہ ہو رنج آشنا جانا ں! ہمارے قرب سے
حق میں تیرے دیکھ !ہم کیا کیا نہ ڈر جانے لگے
ماجد صدیقی

کہ دل بھی چنگیزیِ غمِ جاں کو جیسے تسلیم کر رہا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
یہ کیسا خنجر سا میرے پہلو میں لحظہ لحظہ اُتر رہا ہے
کہ دل بھی چنگیزیِ غمِ جاں کو جیسے تسلیم کر رہا ہے
یہ کونسی عمرِ نوح بخشی گئی ہے مجھ کو کہ عہدِ نو میں
گمان اِک ایک پل پہ جیسے صدی صدی کا گزر رہا ہے
لدا پھندا ہے ہر ایک ساعت اِسی سے آنگن دل و نظر کا
یہی تمّنا کا اک شجر ہے چمن میں جو بارور رہا ہے
دل و نظر کی خموشیوں میں چھنکتے قدموں یہ کون آیا
کہ مثلِ مہتاب نطق میرا، لبوں سے میرے اُبھر رہا ہے
یہ زندگی ہے کہ انتشارِ خرام، ابرِ رواں کا ماجدؔ
یہ کیسا منظر نگاہ میں ہے کہ لحظہ لحظہ بکھر رہا ہے
ماجد صدیقی