ٹیگ کے محفوظات: باربر

لوگ اٹھائے ہوئے پتھر آئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 183
ہم کہیں آئنہ لے کر آئے
لوگ اٹھائے ہوئے پتھر آئے
دل کے ملبے میں دبا جاتا ہوں
زلزلے کیا مرے اندر آئے
جلوہ، جلوے کے مقابل ہی رہا
تم نہ آئنے سے باہر آئے
دل سلاسل کی طرح بجنے لگا
جب ترے گھر کے برابر آئے
جن کے سائے میں صبا چلتی تھی
پھر نہ وہ لوگ پلٹ کر آئے
شعر کا روپ بدل کر باقیؔ
دل کے کچھ زخم زباں پر آئے
باقی صدیقی