ٹیگ کے محفوظات: بارانی

اُنہی لفظوں کی نگرانی بہت ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 119
جنوں کی جن میں تابانی بہت ہے
اُنہی لفظوں کی نگرانی بہت ہے
خرد کی سلطنت کیسی کہ اِس پر
اِسی اک دل سا زندانی بہت ہے
انا سے دست برداری جہاں ہو
وہاں جینے میں آسانی بہت ہے
ابھی مشکل ہے صحرا سے نکلنا
کہ چھالوں میں ابھی پانی بہت ہے
طلب کا دشت ہے اور بے دلی کی
مزاجوں میں فراوانی بہت ہے
نکھرتی ہے بڑی مُدّت میں ماجدؔ!
زمیں چہرے کی بارانی بہت ہے
ماجد صدیقی

کہ تھی زمینِ تمنّا ہی اپنی بارانی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
کبھی تھا قحط تو درپے کبھی تھی طغیانی
کہ تھی زمینِ تمنّا ہی اپنی بارانی
میں آج رات بھی بے آشیاں گزاروں گا
ہے لاعلاج چمن میں مری تن آسانی
کھلے دروں وہ بصد لطف رات بھر سویا
جسے سپرد مرے گھر کی تھی نگہبانی
بہائے کاوشِ اسلاف کو بھی لے ڈوبی
بہ عہد نو مرے ناموس کی یہ ارزانی
جو مر چکے ہیں قصیدے لبوں پہ اُن کے ہیں
مرے سپرد ہے زندوں کی مرثیہ خوانی
غضب کہ رن میں جو آنکھیں نہ چار کرتے تھے
وہ بھیجتے ہیں مجھے تحفہ ہائے نسوانی
کسی سے کلمۂ تحسیں تو کیا ملے ماجدؔ
ہے تہمتوں کی مرے نام پر فراوانی
ماجد صدیقی