ٹیگ کے محفوظات: بارات

کیا جبر جتانے یہ سیہ رات رُکی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 75
تھی غنچۂ دل میں جو وُہی بات رُکی ہے
کیا جبر جتانے یہ سیہ رات رُکی ہے
کب ریت کی دیوار سے سیلاب ہے ٹھٹکا
فریاد سے کب یورشِ آفات رُکی ہے
ژالہ سا ہر اِک برگ لپکتا ہے زمیں کو
کیسی یہ بھلا باغ میں برسات رُکی ہے
کچھ اور بھی مچلے گی ابھی بُعدِ سحر سے
پلکوں پہ ستاروں کی جو بارات رُکی ہے
عجلت میں رواں، مالِ غنیمت کو سنبھالے
کب موجِ ہوا پاس لئے پات، رُکی ہے
بوندوں نے قفس میں بھی یہی دی ہے تسلی
صیّاد سے کب بارشِ نغمات رُکی ہے
ماجدؔ یہ کرم ہم پہ کہاں موسمِ گل کا
کب ہاتھ میں لینے کو صبا ہات رُکی ہے
ماجد صدیقی

چاند تاروں کی بارات آہستہ چل

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 213
جانِ جاں ہے مرے ساتھ ، آہستہ چل
چاند تاروں کی بارات آہستہ چل
یہ محبت کا رستہ خطرناک ہے
اے دلِ غیر محتاط ، آہستہ چل
اتنی رسوائیاں ٹھیک ہوتی نہیں
اے مرے عشق کی بات ، آہستہ چل
کتنی مشکل سے آئے ہیں وہ بزم میں
کچھ تو وقتِ ملاقات ، آہستہ چل
اس کی لافانی تصویر تخلیق کر
کینوس پہ مرے ہاتھ آہستہ چل
پھر یہ لمحے کہاں دستِ منصور میں
جتنا ممکن ہے اے رات آہستہ چل
منصور آفاق