ٹیگ کے محفوظات: بادبان

تیور بدل چلے ہیں بہت ، آسمان کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
کیا کیا خم اور ہوں ابھی بازو کمان کے
تیور بدل چلے ہیں بہت ، آسمان کے
جیسے کوئی اُڑائے کبوتر ، بہ روزِ جشن
پُرزے ہوا کے ہاتھ تھے یوں بادبان کے
بہروپ ہی بھرے گا ، کرم بھی وہ گر کرے
نکلا جو گھر سے ، راہزنی ہی کی ٹھان کے
ماجد ہمیں بھی ، دیکھیے جھانسہ دیا ہے کیا
آنچل سا آسمان پہ ،بدلی نے تان کے
ماجد صدیقی

خیمہ مگر اُڑا کسی چڑیا کی جان کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
شاہیں پہ بندھ رہا تھا نشانہ، کمان کا
خیمہ مگر اُڑا کسی چڑیا کی جان کا
آئے گی کب، کہاں سے، نجانے نمِ یقیں
ہٹتا نہیں نظر سے بگولا گمان کا
اونچا اُڑا، تو سمتِ سفر کھو کے رہ گئی
رُخ ہی بدل گیا، مری سیدھی اُڑان کا
کیا جانیے، ہَوا کے کہے پر بھی کب کھلے
مشتِ خسیس سا ہے چلن، بادبان کا
ہم پَو پَھٹے بھی، دھُند کے باعث نہ اُڑ سکے
یوں بھی کھُلا کِیا ہے، عناد آسمان کا
ماجدؔ نفس نفس ہے گراں بار اِس طرح
دورانیہ ہو جیسے کسی امتحان کا
ماجد صدیقی

کیا کیا سلوک ہم سے نہیں آسمان کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
دینے لگا ہے یہ بھی تأثر کمان کا
کیا کیا سلوک ہم سے نہیں آسمان کا
اُس کو کہ جس کے پہلوئے اَیواں میں داغ تھا
کیا کیا قلق نہ تھا مرے کچّے مکان کا
دریا میں زورِ آب کا عالم تھا وہ کہ تھا
اِک جیسا جبر موج کا اور بادبان کا
اپنے یہاں وہ کون سا ایسا ہے رہنما
ٹھہرا ہو جس کا ذِکر نہ چھالا زباں کا
آخر کو اُس کا جس کے نوالے تھے مِلکِ غیر
رشتہ نہ برقرار رہا جسم و جان کا
چاہے سے راہ سے نہ ہٹے جو نہ کھُر سکے
ماجدؔ ہے سامنا ہمیں ایسی چٹان کا
ماجد صدیقی

کب زمیں سے ہے آسمان ملا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
کیا ہے گر تُو نہ ہم سے آن ملا
کب زمیں سے ہے آسمان ملا
کھنچ کے اس سے گلا نہ گھونٹ اپنا
وقت سے تُو بھی اپنی تان ملا
ظلم سے حق طلب ہوا جو بھی
پھر نہ اُس شخص کا نشان ملا
ابنِ آدم سمجھ کے شیطاں بھی
جب ملا ہم سے بدگمان ملا
کچھ فلک مرتبت ہیں وہ بھی جنہیں
جو ملا وجۂ کسرِ شان ملا
دیر تھی منہ بھنور کا کھلنے کی
پھر نہ کشتی نہ بادبان ملا
جس پہ جھک کر ملا تھا اوج ہمیں
پھر نہ ماجدؔ وہ آستان ملا
ماجد صدیقی

بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پر

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 26
ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پر
آ کر گرا تھا ایک پرندہ لہو میں تر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر
پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ
دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر
یارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں
سایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر
کتنے ہی زخم ہیں مرے اک زخم میں چھپے
کتنے ہی تیر آنے لگے اِک نشان پر
جل تھل ہوئی تمام زمیں آس پاس کی
پانی کی بوند بھی نہ گری سائبان پر
ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے
چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر
سایہ نہیں تھا نیند کا آنکھوں میں دور تک
بکھرے تھے روشنی کے نگیں آسمان پر
حق بات آ کے رک سی گئی تھی کبھی شکیبؔ
چھالے پڑے ہوئے ہیں ابھی تک زبان پر
شکیب جلالی

وہ رینگنے لگی کشتی وہ بادبان کھلا

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 9
وہ دوریوں کا رہِ آب پر نشان کھلا
وہ رینگنے لگی کشتی وہ بادبان کھلا
مرے ہی کان میں سرگوشیاں سکوت نے کیں
مرے سوا کبھی کس سے یہ بے زبان کھلا
سمجھ رہا تھا ستارے جنہیں وہ آنکھیں ہیں
مری طرف نگران ہیں کئی جہان کھلا
مرا خزانہ ہے محفوظ میرے سینے میں
میں سو رہوں گا یونہی چھوڑ کر مکان کھلا
ہر آن میرا نیا رنگ ہے نیا چہرہ
وہ بھید ہوں جو کسی سے نہ میری جان کھلا
جزا کہیں کہ سزا اس کو بال و پر والے
زمیں سکڑتی گئی، جتنا آسمان کھلا
لہو لہو ہوں سلاخوں سے سر کو ٹکرا کر
شکیبؔ بابِ قفس کیا کہوں کس آن کھلا
شکیب جلالی

بحر بھی، بادبان بھی، ہم بھی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 230
خوف بھی، امتحان بھی، ہم بھی
بحر بھی، بادبان بھی، ہم بھی
آتے جاتے ہزارہا سیلاب!
ساحلوں پر مکان بھی، ہم بھی
ایک ہی دھوپ کی حفاظت میں
دشت بھی، سائبان بھی، ہم بھی
ہر جگہ ایک دوسرے کے حریف
بیکراں آسمان بھی، ہم بھی
آخرِ کار معرکہ فیصل
ریزہ ریزہ چٹان بھی، ہم بھی
سب کسی انتظار میں زندہ
رات بھی، داستان بھی، ہم بھی
عرفان صدیقی

ہم کو سب مہربان ملتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 185
در پئے جسم و جان ملتے ہیں
ہم کو سب مہربان ملتے ہیں
زندگی ہے تو دشمنان عزیز
پھر تہہ آسمان ملتے ہیں
حرج کیا ہے ہمارے ملنے میں
رات دن بھی تو آن ملتے ہیں
کیوں نہ تم میرے دل میں بس جاؤ
اس گلی میں مکان ملتے ہیں
سارے آئندگاں کو رستے ہیں
رفتگاں کو نشان ملتے ہیں
کشتیوں کا تو نام ہوتا ہے
شوق کو بادبان ملتے ہیں
عرفان صدیقی

بدن کے شہر میں دل کی دکان کیا کرتے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 521
فراق بیچتے کیسے، پلان کیا کرتے
بدن کے شہر میں دل کی دکان کیا کرتے
ہمیں خبر ہی نہ تھی رات کے اترنے کی
سو اپنے کمرے کا ہم بلب آن کیا کرتے
نکل رہی تھی قیامت کی دھوپ ایٹم سے
یہ کنکریٹ بھرے سائبان کیا کرتے
تھلوں کی ریت پہ ٹھہرے ہوئے سفینے پر
ہوا تو تھی ہی نہیں بادبان کیا کرتے
بدن کا روح سے تھا اختلاف لیکن ہم
خیال و واقعہ کے درمیان کیا کرتے
فلک نژاد تھے اور لوٹ کے بھی جانا تھا
زمیں کے کس طرح ہوتے، مکان کیا کرتے
نمازاوڑھ کے رکھتے تھے، حج پہنتے تھے
ترے ملنگ تھے ہم ،دو جہان کیا کرتے
دکانِ دین فروشی پہ بِک رہا تھا تُو
تجھے خریدتے کیسے ، گمان کیا کرتے
نہ ہوتی صبحِ محمدثبوتِ حق کیلئے
تو یہ چراغوں بھرے آسمان کیا کرتے
پھر اس کے بعد بلندی سے کیا ہمیں منصور
مقامِ عرش سے کوئی اڑان کیا کرتے
منصور آفاق