ٹیگ کے محفوظات: بادام

یار اگر ہے اہل تو ہے کام سہل

دیوان دوم غزل 850
مار بھی آسان ہے دشنام سہل
یار اگر ہے اہل تو ہے کام سہل
جوں نگیں میں کی جگرکاوی بہت
کیا نکلتا ہے کسو کا نام سہل
جان دی یاروں نے تب آنکھیں لگیں
کن نے پایا آہ یاں آرام سہل
مدعی ہو چشم شوخ یار کا
کیا نگاہوں میں ہوا بادام سہل
تم نے دیکھا ہو گا پکپن میر کا
ہم کو تو آیا نظر وہ خام سہل
میر تقی میر

خاطر سے ہی مجھ مست کی تائید دور جام کر

دیوان اول غزل 220
ہو آدمی اے چرخ ترک گردش ایام کر
خاطر سے ہی مجھ مست کی تائید دور جام کر
دنیا ہے بے صرفہ نہ ہو رونے میں یا کڑھنے میں تو
نالے کو ذکر صبح کر گریے کو ورد شام کر
مست جنوں رہ روز و شب شہرہ ہو شہر ودشت میں
مجلس میں اپنی نقل خوش زنجیر کا بادام کر
جتنی ہو ذلت خلق میں اتنی ہے عزت عشق میں
ناموس سے آ درگذر بے ننگ ہوکر نام کر
مر رہ کہیں بھی میر جا سرگشتہ پھرنا تا کجا
ظالم کسو کا سن کہا کوئی گھڑی آرام کر
میر تقی میر

جس کوچے میں وہ بت صد بدنام نہیں رکھتا

دیوان اول غزل 36
ایسی گلی اک شہر اسلام نہیں رکھتا
جس کوچے میں وہ بت صد بدنام نہیں رکھتا
آزار نہ دے اپنے کانوں کے تئیں اے گل
آغاز مرے غم کا انجام نہیں رکھتا
ناکامی صد حسرت خوش لگتی نہیں ورنہ
اب جی سے گذر جانا کچھ کام نہیں رکھتا
ہو خشک تو بہتر ہے وہ ہاتھ بہاراں میں
مانند نئے نرگس جو جام نہیں رکھتا
بن اس کی ہم آغوشی بیتاب نہیں اب ہے
مدت سے بغل میں دل آرام نہیں رکھتا
میں داڑھی تری واعظ مسجد ہی میں منڈواتا
پر کیا کروں ساتھ اپنے حجام نہیں رکھتا
وہ مفلس ان آنکھوں سے کیونکر کے بسر آوے
جو اپنی گرہ میں اک بادام نہیں رکھتا
کیا بات کروں اس سے مل جائے جو وہ میں تو
اس ناکسی سے روے دشنام نہیں رکھتا
یوں تو رہ و رسم اس کو اس شہر میں سب سے ہے
اک میر ہی سے خط و پیغام نہیں رکھتا
میر تقی میر

شاعرو! اونچے گھروں میں رتجگے کس کام کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 570
رات بھر نازل ہوں فٹ پاتھوں پہ چاند الہام کے
شاعرو! اونچے گھروں میں رتجگے کس کام کے
خواب گہ میں ایک آتش دان روشن تھا مگر
سرد لمحے کانپتے تھے جنوری کی شام کے
بانس کے کمرے میں دھڑکن بج رہی تھی گیت کی
لان میں چپ برف اوڑھے پیڑ تھے بادام کے
قید ہیں کتنے برس سے جانتا کوئی نہیں
دکھ کی غاروں میں مسافر منزلِ خوشگام کے
بن گئے اپنی محبت کی وہ شریں یادگار
جو نواحِ کوچہ ء گل میں شجر تھے آم کے
اپنا کیا تھا کس لئے ہوتے خدا کے ہم نفس
اپنے تو منصور سے بھی رابطے تھے نام کے
منصور آفاق