ٹیگ کے محفوظات: باخبر

اِس میں لگ جائے گا جگر پورا

چاہتے ہو اگر ہنر پورا
اِس میں لگ جائے گا جگر پورا
یا تو ہو جائیں اِس میں پورے غرق
یا کریں عشق سے حذر پورا
جانتا ہوں کہ خیر خواہ ترے
تجھ کو رکھتے ہیں باخبر پورا
مشورہ اُس مشیر سے مت کر
ہو جو آدھا اِدھر اُدھر پورا
پھول خوشبو سے بھر گئے باصِرؔ
چاند چمکا ہے رات بھر پورا
باصر کاظمی

وہ بڑوں کو جو بڑا کچھ اور کر گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
دوسروں کے واسطے جیا تھا مر گیا
وہ بڑوں کو جو بڑا کچھ اور کر گیا
جگنوؤں تلک کی روشنی لگے فریب
رہبروں سے ہُوں کچھ اِس طرح کا ڈر گیا
ناز تھا کہ ہم سفیرِ انقلاب ہیں
پر یہ زعم بھی نشہ سا تھا اُتر گیا
خانۂ خدا سے بُت جہاں جہاں گئے
بار بار میں نجانے کیوں اُدھر گیا
پاؤں کے تلے کی خاک نے نگل لیا
میں تو تھا کنارِ آب باخبر گیا
لعل تھا اٹا تھا گرد سے، پہ جب دھُلا
ماجدِ حزیں کچھ اور بھی نکھر گیا
ماجد صدیقی

فصیلیں توڑتا رہتا ہوں ، در بناتا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 277
میں رابطوں کے مکاں معتبر بناتا ہوں
فصیلیں توڑتا رہتا ہوں ، در بناتا ہوں
اڑان دیکھ مرے آہنی پرندوں کی
مسیح میں بھی ہوں لوہے کے پر بناتا ہوں
فروغ دیدئہ ابلاغ کے وسیلے سے
یہ اپنے آپ کو کیا باخبر بناتا ہوں
خدا کی شکل بنانی پڑے گی کاغذ پر
میں اپنا باطنی چہرہ اگر بناتا ہوں
سمٹ گئے ہیں جہاں تو مرے ہتھیلی میں
سو اب میں ذات کے اندر سفر بناتا ہوں
یونہی یہ لفظ چمکتے نہیں اندھیرے میں
جلا جلا کے کتابیں شرر بناتا ہوں
نکل پڑے نہ زمانہ مرے تعاقب میں
سو نقش پا بھی بہت سوچ کر بناتا ہوں
بس ایک صرف سناتا ہوں آیتِ منسوخ
فروغ خیر سے تہذیبِ شر بناتا ہوں
مرے دماغ میں بس عنکبوت رہتے ہیں
میں وہم بنتا ہوں خوابوں میں ڈر بناتا ہوں
اکھیڑ دیتا ہوں نقطے حروف کے منصور
میں قوسیں کاٹ کے تازہ ہنر بناتا ہوں
منصور آفاق