ٹیگ کے محفوظات: باب

جو چاہیں آپ کہتے رہیں میرے باب میں

کہنا نہیں ہے جب مجھے کچھ بھی جواب میں
جو چاہیں آپ کہتے رہیں میرے باب میں
اب تو گنوا رہے ہو شب و روز خواب میں
پھر ڈھونڈتے پھرو گے جوانی خضاب میں
تھی روشنی کی جن کو ہوس راکھ ہو گئے
تھے بے خبر کہ آگ بھی ہے آفتاب میں
آنکھیں بُجھے ہوئے تو زمانہ ہوا مگر
دل کے لیے ہنوز کشش ہے سَراب میں
آؤ کہِگن سکوں گا نہ شامیں فراق کی
یہ انگلیاں تو ختم ہوئیں سب حساب میں
بیدار ہوں کہ سوئے رہیں اِس سے کیا غرض
رہنا ہے جب ہمیشہ ہمیں ایک خواب میں
ہم ہیں کہ بس سمیٹتے رہتے ہیں چاندنی
کچھ لوگ جا بسے ہیں دلِ ماہتاب میں
ہے مستقل سکون بھی اک وجہِ اضطراب
ممکن ہے کچھ سکون ملے اضطراب میں
آنکھیں بہانے ڈھونڈتی رہتی ہیں نیند کے
شاید وہ دلربا نظر آ جائے خواب میں
باصرِؔ کہاں تم اور کہاں اُس کی جستجو
بیٹھے بٹھائے پڑ گئے یہ کس عذاب میں
باصر کاظمی

کتابِ عمر میں لو یہ بھی ایک باب آیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 67
سرِ سپیدۂ مُو، پردۂ خضاب آیا
کتابِ عمر میں لو یہ بھی ایک باب آیا
گماں یہ ہے کہ ستارے زمیں پہ اُتریں گے
سرِ ورق جو کبھی دل کا اضطراب آیا
قدم اُکھڑنے تلک تھیں صلابتیں ساری
پھر اُس کے بعد تو ہر حادثہ شتاب آیا
کبھی اُٹھا کے نہ دیکھا خود آئنہ جس نے
وہ شخص پاس مرے بہرِ احتساب آیا
ملائے آنکھ نہ مجھ دشت سے جبھی ماجدؔ
برس کے پھر کسی دریا یہ ہے سحاب آیا
ماجد صدیقی

روز اک تازہ تلاطم ہے مرے اعصاب میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
گھِر گئی ہے رُوح اپنی جانے کس گرداب میں
روز اک تازہ تلاطم ہے مرے اعصاب میں
یاس کی خشکی، نمِ اُمید کی بہتات سے
ایک کائی سی جمی ہے دیدۂ بے خواب میں
میں کہ تنہائی میں تھا بے در حویلی کی طرح
بند کمرہ سا بنا بیٹھا ہوں اب احباب میں
دل کہ باغی لہر تھا اب پیرہن ذرّوں کا ہے
ڈھل گیا ہے یہ بھی آخر زیست کے آداب میں
اُکھڑے حرفوں کی کتابِ زیست کے اوراق پر
چیونٹیاں سی کسمساتی ہیں سکوں کے باب میں
کچھ ہَوا یا دھوپ ہی ماجدؔ مرے درپے نہ تھی
جانے کیا کچھ اور بربادی کے تھا اسباب میں
ماجد صدیقی

دن پھوٹنے کے ہیں یہی شاخِ گلاب کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
دیکھیں تو دِل میں ٹہنی تمّنا کی داب کے
دن پھوٹنے کے ہیں یہی شاخِ گلاب کے
کل جسکے چہچہے تھے منڈیروں پہ جا بہ جا
پنجے میں آج تھی وہی چڑیا عقاب کے
رہتا ہمیں ہے جن پہ گماں کائنات کا
منظر ہیں کچھ درونِ فضائے حباب کے
محوِ رقم قلم تھا مؤرخ کا جن پہ کل
اوراق تھے وہ میری ہزیمت کے باب کے
اُچھلے تھے ساحلوں سے کبھی ہم بھی موج موج
آئے تھے ہم پہ بھی کبھی کچھ دن شباب کے
ماجدؔ اُدھر تھا قوم کا نیلام اور اِدھر
اُڑتے بہ قصرِ خاص تھے ساغر شراب کے
ماجد صدیقی

کہ کچھ حظ اٹھے سیرِ مہتاب کا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 17
پلا جام ساقی مے ناب کا
کہ کچھ حظ اٹھے سیرِ مہتاب کا
دلِ زار کا ماجرا کیا کہوں
فسانہ ہے مشہور سیماب کا
کہاں پھر وہ نایاب، پایا جسے
غلط شوق ہے جنسِ نایاب کا
نہ کیجو غل اے خوش نوایانِ صبح
یہ ہے وقت ان کی شکر خواب کا
محبت نہ ہرگز جتائی گئی
رہا ذکر کل اور ہر باب کا
دمِ سرد سے لا نہ طوفانِ باد
نہ سن ماجرا چشمِ پر آب کا
وہاں بے خودوں کی خبر کون لے
جہاں شغل ہو بادۂ ناب کا
وہاں تیرہ روزوں کی پروا کسے
جہاں شوق ہو سیرِ مہتاب کا
وہ تشخیصِ شخصی بھی جاتی رہی
کنارا الٹتے ہی جلباب کا
میں بے جرم رہتا ہوں خائف کہ واں
جفا میں نہیں دخل اسباب کا
پڑے صبر آرام کی جان پر
مری جانِ بے صبر و بے تاب کا
لبِ لعل کو کس کے جنبش ہوئی
ہوا میں ہے کچھ رنگ عناب کا
نہ کرنا خطا پر نظر شیفتہ
کہ اغماض شیوہ ہے احباب کا
مصطفٰی خان شیفتہ

کچھ اس کا بھی سدِّ باب یارو

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 31
تارے ہیں نہ ماہتاب یارو
کچھ اس کا بھی سدِّ باب یارو
آنکھوں میں چتائیں جل رہی ہیں
ہونٹوں پہ ہے آب آب یارو
تاحدِّ خیال ریگ صحرا
تاحدِّ نظر سراب یارو
رہبر ہی نہیں ہے ساتھ اپنے
رہزن بھی ہے ہم رکاب یارو
شعلے سے جہاں لپک رہے ہیں
برسے گا وہیں سحاب یارو
شکیب جلالی

نام کو بھی اب اِضطراب نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 130
سب چلے جاؤ مجھ میں تاب نہیں
نام کو بھی اب اِضطراب نہیں
خون کر دوں تیرے شباب کا میں
مجھ سا قاتل تیرا شباب نہیں
اِک کتابِ وجود ہے تو صحیح
شاید اُس میں دُعاء کا باب نہیں
تو جو پڑھتا ہے بو علی کی کتاب
کیا یہ الم کوئی کتاب نہیں
ہم کتابی صدا کے ہیں لیکن
حسبِ منشا کوئی کتاب نہیں
بھول جانا نہیں گناہ اُسے
یاد کرنا اُسے ثواب نہیں
پڑھ لیا اُس کی یاد کا نسخہ
اُس میں شہرت کا کوئی باب نہیں
جون ایلیا

اور پھر بند ہی یہ باب کیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 40
شکوہ اول تو بے حساب کیا
اور پھر بند ہی یہ باب کیا
جانتے تھے بدی عوام جسے
ہم نے اس سے بھی اجتناب کیا
تھی کسی شخص کی تلاش مجھے
میں نے خود کو ہی انتخاب کیا
اک طرف میں ہوں ، اک طرف تم ہو
جانے کس نے کسے خراب کیا
آخر اب کس کی بات مانوں میں
جو مِلا، اس نے لاجواب کیا
یوں سمجھ تجھ کہ مضطرب پا کر
میں نے اظہارِ اضطراب کیا
جون ایلیا

یہ سُوء ظن ہے ساقئ کوثر کے باب میں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 169
کل کے لئے کر آج نہ خسّت شراب میں
یہ سُوء ظن ہے ساقئ کوثر کے باب میں
ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخئ فرشتہ ہماری جناب میں
جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماع
گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں
رَو میں ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بُعد ہے
جتنا کہ وہمِ غیر سے ہُوں پیچ و تاب میں
اصلِ شہود و شاہد و مشہود ایک ہے
حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں
ہے مشتمل نمُودِ صُوَر پر وجودِ بحر
یاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں
شرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہی
ہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یُوں حجاب میں
آرائشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوز
پیشِ نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں
ہے غیبِ غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
ہیں خواب میں ہنوز، جو جاگے ہیں خواب میں
غالب ندیمِ دوست سے آتی ہے بوئے دوست
مشغولِ حق ہوں، بندگئ بُو تراب میں
مرزا اسد اللہ خان غالب

شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 168
کب سے ہُوں، کیا بتاؤں جہانِ خراب میں
شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں
کافر ہوں گر نہ ملتی ہو راحت عزاب میں
تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر
آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں
قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دورِ جام
ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
جو منکرِ وفا ہو فریب اس پہ کیا چلے
کیوں بدگماں ہوں دوست سے دشمن کے باب میں
میں مضطرب ہُوں وصل میں خوفِ رقیب سے
ڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں
میں اور حظِّ وصل خدا ساز بات ہے
جاں نذر دینی بھول گیا اضطراب میں
ہے تیوری چڑھی ہوئی اندر نقاب کے
ہے اک شکن پڑی ہوئی طرفِ نقاب میں
لاکھوں لگاؤ ایک چُرانا نگاہ کا
لاکھوں بناؤ ایک بگڑنا عتاب میں
وہ نالہ دل میں خس کے برابر جگہ نہ پائے
جس نالے سے شگاف پڑے آفتاب میں
وہ سحر مدعا طلبی میں کام نہ آئے
جس سِحر سے سفینہ رواں ہو سراب میں
غالب چُھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی
پیتا ہوں روزِ ابر و شبِ ماہتاب میں
مرزا اسد اللہ خان غالب

تھا سپندِبزمِ وصلِ غیر ، گو بیتاب تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 94
نالۂ دل میں شب اندازِ اثر نایاب تھا
تھا سپندِبزمِ وصلِ غیر ، گو بیتاب تھا
مَقدمِ سیلاب سے دل کیا نشاط آہنگ ہے !
خانۂ عاشق مگر سازِ صدائے آب تھا
نازشِ ایّامِ خاکستر نشینی ، کیا کہوں
پہلوئے اندیشہ ، وقفِ بسترِ سنجاب تھا
کچھ نہ کی اپنے جُنونِ نارسا نے ، ورنہ یاں
ذرّہ ذرّہ روکشِ خُرشیدِ عالم تاب تھا
آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی تجھے ؟
کل تلک تیرا بھی دل مہرووفا کا باب تھا
یاد کر وہ دن کہ ہر یک حلقہ تیرے دام کا
انتظارِ صید میں اِک دیدۂ بیخواب تھا
میں نے روکا رات غالب کو ، وگرنہ دیکھتے
اُس کے سیلِ گریہ میں ، گردُوں کفِ سیلاب تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

شعلۂ جوّالہ ہر اک حلقۂ گرداب تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 91
شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا
شعلۂ جوّالہ ہر اک حلقۂ گرداب تھا
واں کرم کو عذرِ بارش تھا عناں گیرِ خرام
گریے سے یاں پنبۂ بالش کفِ سیلاب تھا
واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
یاں ہجومِ اشک میں تارِ نگہ نایاب تھا
جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آب جو
یاں رواں مژگانِ چشمِ تر سے خونِ ناب تھا
یاں سرِ پرشور بے خوابی سے تھا دیوار جو
واں وہ فرقِ ناز محوِ بالشِ کمخواب تھا
یاں نفَس کرتا تھا روشن، شمعِ بزمِ بےخودی
جلوۂ گل واں بساطِ صحبتِ احباب تھا
فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موجِ رنگ کا
یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
ناگہاں اس رنگ سے خوں نابہ ٹپکانے لگا
دل کہ ذوقِ کاوشِ ناخن سے لذت یاب تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

وہ ہی ناز و عتاب ہے سو ہے

دیوان پنجم غزل 1751
ہم پہ خشم و خطاب ہے سو ہے
وہ ہی ناز و عتاب ہے سو ہے
گرچہ گھبرا کے لب پہ آئی ولے
جان کو اضطراب ہے سو ہے
بس گئی جاں خراب مدت کی
حال اپنا خراب ہے سو ہے
خشکی لب کی ہے تری کیسی
چشم لیکن پرآب ہے سو ہے
خاک جل کر بدن ہوا ہے سب
دل جلا سا کباب ہے سو ہے
کر گئے کاروانیاں شب گیر
وہ گراں مجھ کو خواب ہے سو ہے
یاں تو رسوا ہیں کیسا پردئہ شرم
اس کو ہم سے حجاب ہے سو ہے
دشمن جاں تو ہے دلوں میں بہم
دوستی کا حساب ہے سو ہے
زلفیں اس کی ہوا کریں برہم
ہم کو بھی پیچ و تاب ہے سو ہے
خاک میں مل کے پست ہیں ہم تو
ان کی عالی جناب ہے سو ہے
شہر میں در بدر پھرے ہے عزیز
میر ذلت کا باب ہے سو ہے
میر تقی میر

سو سو قاصد جان سے جاویں یک کو ادھر سے جواب نہ ہو

دیوان پنجم غزل 1714
کیونکر مجھ کو نامہ نمط ہر حرف پہ پیچ و تاب نہ ہو
سو سو قاصد جان سے جاویں یک کو ادھر سے جواب نہ ہو
گل کو دیکھ کے گلشن کے دروازے ہی سے پھر آیا
کیا مل بیٹھیے اس سے بھلا جو صحبت ہی کا باب نہ ہو
مستی خرابی سر پر لائی کعبے سے اٹھ دیر گیا
جس کو خدا نے خراب کیا ہو پھر وہ کیونکے خراب نہ ہو
خلع بدن کرنے سے عاشق خوش رہتے ہیں اس خاطر
جان و جاناں ایک ہیں یعنی بیچ میں تن جو حساب نہ ہو
خشم و خطاب جبیں پر چیں تو حسن ہے گل رخساروں کا
وہ محبوب خنک ہوتا ہے جس میں ناز و عتاب نہ ہو
میں نے جو کچھ کہا کیا ہے حد و حساب سے افزوں ہے
روز شمار میں یارب میرے کہے کیے کا حساب نہ ہو
صبر بلا ہاے عشقی پر حوصلے والے کرتے ہیں
رحمت ہے اس خستہ جگر کو دل جس کا بیتاب نہ ہو
جس شب گل دیکھا ہے ہم نے صبح کو اس کا منھ دیکھا
خواب ہمارا ہوا ہوا ہے لوگوں کا سا خواب نہ ہو
نہریں چمن کی بھر رکھی ہیں گویا بادئہ لعلیں سے
بے عکس گل و لالہ الٰہی ان جویوں میں آب نہ ہو
اس دن میں تو مستانہ ہوتا ہوں کوئی کوچہ گدا
جس دن کاسۂ چوبیں میں میرے یک جرعہ بھی شراب نہ ہو
تہ داری کچھ دیدئہ تر کی میر نہیں کم دریا سے
جوشاں شور کناں آجاوے یہ شعلہ سیلاب نہ ہو
میر تقی میر

دل کو خیال صبر نہیں آنکھوں کو میل خواب نہیں

دیوان پنجم غزل 1694
عشق نے ہم کو مار رکھا ہے جی میں اپنے تاب نہیں
دل کو خیال صبر نہیں آنکھوں کو میل خواب نہیں
کوئی سبب ایسا ہو یارب جس سے عزت رہ جاوے
عالم میں اسباب کے ہیں پر پاس اپنے اسباب نہیں
قحط نہیں ہے دل کا اب من مارے تم کیوں پھرتے ہو
لینے والا چاہیے اس کا ایسا تو کمیاب نہیں
خط کا جواب نہ لکھنے کی کچھ وجہ نہ ظاہر ہم پہ ہوئی
دیر تلک قاصد سے پوچھا منھ میں اس کے جواب نہیں
رونا روز شمار کا مجھ کو آٹھ پہر اب رہتا ہے
یعنی میرے گناہوں کو کچھ حصر و حد وحساب نہیں
رنگ شکستہ دل ہے شکستہ سر ہے شکستہ مستی میں
حال کسو کا اپنا سا اس میخانے میں خراب نہیں
ٹھہریں میر کسو جاگہ ہم دل کو قرار جو ٹک آوے
ہوکے فقیر اس در پر بیٹھیں اس کے بھی ہم باب نہیں
میر تقی میر

ہو چہرہ اس کے لب سے یاقوت ناب کیونکر

دیوان پنجم غزل 1615
لاوے جھمکتے رخ کی آئینہ تاب کیونکر
ہو چہرہ اس کے لب سے یاقوت ناب کیونکر
ہے شعر و شاعری گو کب سے شعار اپنا
حرف و سخن سے کریے اب اجتناب کیونکر
جوں ابر اگر نہ روویں وادی و کوہ پر ہم
تو شہروں شہروں آوے نہروں میں آب کیونکر
اب بھی نہیں ہے ہم کو اے عشق ناامیدی
دیکھیں خراب ہووے حال خراب کیونکر
اڑ اڑ کے جا لگے ہے وہ تیر مار کاکل
کھاتا رہے نہ افعی پھر پیچ تاب کیونکر
چشمے محیط سے جو ہووے نہ چشم تر کے
تو سیر ہو ہوا پر پھیلے سحاب کیونکر
اب تو طپش نے دل کی اودھم مچا رکھا ہے
تسکین پاوے دیکھوں یہ اضطراب کیونکر
رو چاہیے ہے اس کے در پر بھی بیٹھنے کو
ہم تو ذلیل اس کے ہوں میر باب کیونکر
میر تقی میر

بہت ہی حال برا ہے اب اضطراب نہیں

دیوان چہارم غزل 1454
بھلا ہوا کہ دل مضطرب میں تاب نہیں
بہت ہی حال برا ہے اب اضطراب نہیں
جگر کا لوہو جو پانی ہو بہ نکلتا تھا
سو ہو چکا کہ مری چشم اب پرآب نہیں
دیار حسن میں دل کی نہیں خریداری
وفا متاع ہے اچھی پہ یاں کے باب نہیں
حساب پاک ہو روز شمار میں تو عجب
گناہ اتنے ہیں میرے کہ کچھ حساب نہیں
گذر ہے عشق کی بے طاقتی سے مشکل آہ
دنوں کو چین نہیں ہے شبوں کو خواب نہیں
جہاں کے باغ کا یہ عیش ہے کہ گل کے رنگ
ہمارے جام میں لوہو ہے سب شراب نہیں
تلاش میر کی اب میکدوں میں کاش کریں
کہ مسجدوں میں تو وہ خانماں خراب نہیں
میر تقی میر

ضائع ہے جیب و دامن جوں جنس آب دیدہ

دیوان سوم غزل 1249
کب تک رہیں گے یارب ہر دم ہم آبدیدہ
ضائع ہے جیب و دامن جوں جنس آب دیدہ
اس حور سے شبوں کا ملنا گیا سو چپ ہوں
جاتا نہیں کہا کچھ جوں گنگ خواب دیدہ
راز محبت اپنا رسوا نہ اس قدر ہو
گر ہو نہ اشک افشاں خانہ خراب دیدہ
جب دیکھو لگ رہا ہے در کی طرف اسی کے
ہے جیسے کہیے ویسے ذلت کا باب دیدہ
دوزخ میں میر ہوں میں یار بہشت رو بن
جاں ہے ستم رسیدہ دل ہے عذاب دیدہ
میر تقی میر

رہا ہے کیا دل بے تاب میں اب

دیوان سوم غزل 1110
پڑا ہے فرق خورد و خواب میں اب
رہا ہے کیا دل بے تاب میں اب
جنوں میں اب کے نے دامن ہے نے جیب
کمی آئی بہت اسباب میں اب
ہوا ہے خواب ملنا اس سے شب کا
کبھو آتا ہے وہ مہ خواب میں اب
گدائی لی ہے میں نے اس کے در کی
کہے کیا دیکھوں میرے باب میں اب
گلے لگنے بن اس کے اتنا روئے
کہ ہم ہیں گے گلے تک آب میں اب
کہاں بل کھائے بال اس کے کہاں یہ
عبث سنبل ہے پیچ وتاب میں اب
بلا چرچا ہے میرے عشق کا میر
یہی ہے ذکر شیخ و شاب میں اب
میر تقی میر

دل داغ گشتہ کباب ہے جگر گداختہ آب ہے

دیوان اول غزل 571
رمق ایک جان وبال ہے کوئی دم جو ہے تو عذاب ہے
دل داغ گشتہ کباب ہے جگر گداختہ آب ہے
مری خلق محو کلام سب مجھے چھوڑتے ہیں خموش کب
مرا حرف رشک کتاب ہے مری بات لکھنے کا باب ہے
جو وہ لکھتا کچھ بھی تو نامہ بر کوئی رہتی منھ میں ترے نہاں
تری خامشی سے یہ نکلے ہے کہ جواب خط کا جواب ہے
رہے حال دل کا جو ایک سا تو رجوع کرتے کہیں بھلا
سو تو یہ کبھو ہمہ داغ ہے کبھو نیم سوز کباب ہے
کہیں گے کہو تمھیں لوگ کیا یہی آرسی یہی تم سدا
نہ کسو کی تم کو ہے ٹک حیا نہ ہمارے منھ سے حجاب ہے
چلو میکدے میں بسر کریں کہ رہی ہے کچھ برکت وہیں
لب ناں تو واں کا کباب ہے دم آب واں کا شراب ہے
نہیں کھلتیں آنکھیں تمھاری ٹک کہ مآل پر بھی نظر کرو
یہ جو وہم کی سی نمود ہے اسے خوب دیکھو تو خواب ہے
گئے وقت آتے ہیں ہاتھ کب ہوئے ہیں گنوا کے خراب سب
تجھے کرنا ہو وے سو کر تو اب کہ یہ عمر برق شتاب ہے
کبھو لطف سے نہ سخن کیا کبھو بات کہہ نہ لگا لیا
یہی لحظہ لحظہ خطاب ہے وہی لمحہ لمحہ عتاب ہے
تو جہاں کے بحر عمیق میں سرپرہوا نہ بلند کر
کہ یہ پنج روزہ جو بود ہے کسو موج پر کا حباب ہے
رکھو آرزو مئے خام کی کرو گفتگو خط جام کی
کہ سیاہ کاروں سے حشر میں نہ حساب ہے نہ کتاب ہے
مرا شور سن کے جو لوگوں نے کیا پوچھنا تو کہے ہے کیا
جسے میر کہتے ہیں صاحبو یہ وہی تو خانہ خراب ہے
میر تقی میر

پر تمامی عتاب ہیں دونوں

دیوان اول غزل 366
لب ترے لعل ناب ہیں دونوں
پر تمامی عتاب ہیں دونوں
رونا آنکھوں کا رویئے کب تک
پھوٹنے ہی کے باب ہیں دونوں
ہے تکلف نقاب وے رخسار
کیا چھپیں آفتاب ہیں دونوں
تن کے معمورے میں یہی دل و چشم
گھر تھے دو سو خراب ہیں دونوں
کچھ نہ پوچھو کہ آتش غم سے
جگر و دل کباب ہیں دونوں
سو جگہ اس کی آنکھیں پڑتی ہیں
جیسے مست شراب ہیں دونوں
پائوں میں وہ نشہ طلب کا نہیں
اب تو سرمست خواب ہیں دونوں
ایک سب آگ ایک سب پانی
دیدہ و دل عذاب ہیں دونوں
بحث کاہے کو لعل و مرجاں سے
اس کے لب ہی جواب ہیں دونوں
آگے دریا تھے دیدۂ تر میر
اب جو دیکھو سراب ہیں دونوں
میر تقی میر

جاتا ہے جی چلا ہی مرا اضطراب میں

دیوان اول غزل 288
آیا کمال نقص مرے دل کی تاب میں
جاتا ہے جی چلا ہی مرا اضطراب میں
دوزخ کیا ہے سینہ مرا سوز عشق سے
اس دل جلے ہوئے کے سبب ہوں عذاب میں
مت کر نگاہ خشم یہی موت ہے مری
ساقی نہ زہر دے تو مجھے تو شراب میں
بیدار شور حشر نے سب کو کیا ولے
ہیں خون خفتہ اس کے شہیدوں کے خواب میں
دل لے کے رو بھی ٹک نہیں دیتے کہیں گے کیا
خوبان بد معاملہ یوم الحساب میں
جاکر در طبیب پہ بھی میں گرا ولے
جز آہ ان نے کچھ نہ کیا میرے باب میں
عیش و خوشی ہے شیب میں ہو گوپہ وہ کہاں
لذت جو ہے جوانی کے رنج و عتاب میں
دیں عمر خضر موسم پیری میں تو نہ لے
مرنا ہی اس سے خوب ہے عہد شباب میں
آنکلے تھے جو حضرت میر اس طرف کہیں
میں نے کیا سوال یہ ان کی جناب میں
حضرت سنو تو میں بھی تعلق کروں کہیں
فرمانے لاگے روکے یہ اس کے جواب میں
تو جان لیک تجھ سے بھی آئے جو کل تھے یاں
ہیں آج صرف خاک جہان خراب میں
میر تقی میر

اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 34
آئے کچھ ابر، کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے
بامِ مینا سے ماہتاب اُترے
دستِ ساقی میں، آفتاب آئے
ہر رگِ خوں میں پھر چراغاں ہو
سامنے پھر وہ بے نقاب آئے
عمر کے ہر ورق پہ دل کو نظر
تیری مہر و وفا کے باب آئے
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
نہ گئی تیرے غم کی سرداری
دل میں یوں روز انقلاب آئے
جل اُٹھے بزم غیر کے دروبام
جب بھی ہم خانماں خراب آئے
اس طرح اپنی خامشی گونجی
گویا ہر سمت سے جواب آئے
فیض تھی راہ سربسر منزل
ہم جہاں پہنچے، کامیاب آئے
فیض احمد فیض

تو ورد کرنے لگے لہو میں نزول زندہ کتاب والے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 555
نماز لمحوں میں آئے مجھ کو خیال عالی جناب والے
تو ورد کرنے لگے لہو میں نزول زندہ کتاب والے
خدا بھی محشر میں منتظر ہے اسی کی پلکوں کی جنبشوں کا
وہ جس کی رحمت کو دیکھتے ہیں تمام عیب و صواب والے
لبوں پہ مہکیں دلوں میں چہکیں جو قرآئتوں کی ہرے پرندے
دھنک دھنک رنگ سرسرائیں نظرنظر میں گلاب والے
جنابِ غالب یہ کہہ گئے ہیں بہت مسائل سہی جہاں کے
بہت ہیں کوثر کی نہر والے بہت ہیں حوضِ شراب والے
مرے مکاں میں کھلے ہوئے ہیں مری دعامیں ملے ہوئے ہیں
وہ نیکیوں والے سبز پتے وہ پھول باغِ ثواب والے
مری نظر کو سویردے بس حسیں تبسم بکھیرے دے بس
نئے زمانوں کے خواب والے نئی بہاروں کے باب والے
منصور آفاق

نیند آتی تو کوئی خواب دکھائی دیتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 25
کوئی چہرہ کوئی مہتاب دکھائی دیتا
نیند آتی تو کوئی خواب دکھائی دیتا
خواہشیں خالی گھڑے سر پہ اٹھا لائی ہیں
کوئی دریا کوئی تالاب دکھائی دیتا
ڈوبنے کو نہ سمندر نہ کوئی چشمِ سیہ
جام ہی میں کوئی گرداب دکھائی دیتا
تُو وہ ریشم کہ مرا ٹاٹ کا معمولی بدن
تیرے پیوند سے کمخواب دکھائی دیتا
دوستو آگ بھری رات کہاں لے جاؤں
کوئی خس خانہ و برفاب دکھائی دیتا
میرا کردار کہانی میں جہاں ہیرو ہے
تیرے ناول کا وہی باب دکھائی دیتا
دل میں چونا پھری قبروں کی شبہیں منصور
کیسے میں زندہ و شاداب دکھائی دیتا
منصور آفاق

باب

تافیاں دے پہلے باب چوں

دوجا باب جدوں نکلے تے

دھرتی اُتے

ڈاہڈا اوجھا بھم آوندا اے

ایس توں بچن لئی تے

قوماں دے دل وچ ای

زلزلے دی سونہہ رکھن والا

کوئی مرکز ہونا چاہی دا

پر ایہدی تنصیب

ذار اوکھی ہوندی اے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)