ٹیگ کے محفوظات: ایک دوست کی حق تلفی پر

ایک دوست کی حق تلفی پر

گویا کہ جدا سب سے ترا ساز ہے پیارے

اعزاز نہ ملنا بھی تو اعزاز ہے پیارے

ہوتی ہے تری بات نمایاں سرِ محفل

ہر چند کہ دھیمی تری آواز ہے پیارے

ہم جانتے ہیں تیرے ارادوں کو بخوبی

پہچانتے ہیں جو ترا انداز ہے پیارے

تو دوست ہے چپکے سے بتا دیتے ہیں تجھ کو

جو حرف زمانے کے لیے راز ہے پیارے

ہوتے نظر آتے ہیں جہاں راستے مسدود

تیرے لیے اک باب نیا باز ہے پیارے

کچھ آج ہی اونچا نہیں سر فخر سے اپنا

تجھ پر تو ہمیشہ سے ہمیں ناز ہے پیارے

باصر کاظمی