ٹیگ کے محفوظات: ایندھن

خون جتنا بھی رگوں میں ہو وہ ایندھن بن جائے

آتشِ شوق سے جب دل کوئی گلخن بن جائے
خون جتنا بھی رگوں میں ہو وہ ایندھن بن جائے
مل گیا ہے تمہیں قسمت سے جو سونا سا خیال
دل میں رکھو اسے جب تک نہ یہ کندن بن جائے
درگزر کرنا جفاؤں کو تری میرے لیے
سہل ہو جائے جو تو دوست سے دشمن بن جائے
ہو عنایت مجھے وہ تیز تخیل یارب
جس سے زندان کی دیوار میں روزن بن جائے
خوب ہیں پھول جو دو چار کھِلے ہیں باصِرؔ
چار چھ اور بھی ایسے ہوں تو گلشن بن جائے
باصر کاظمی

آپڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا

دیوان اول غزل 15
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا
آپڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا
سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغ
ہوسکے تو شمع ساں دیجے رگ گردن جلا
بدرساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگ
ورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہ نو دامن جلا
کب تلک دھونی لگائے جوگیوں کی سی رہوں
بیٹھے بیٹھے در پہ تیرے تو مرا آسن جلا
گرمی اس آتش کے پرکالے سے رکھے چشم تب
جب کوئی میری طرح سے دیوے سب تن من جلا
ہو جو منت سے تو کیا وہ شب نشینی باغ کی
کاٹ اپنی رات کو خار و خس گلخن جلا
سوکھتے ہی آنسوئوں کے نور آنکھوں کا گیا
بجھ ہی جاتے ہیں دیے جس وقت سب روغن جلا
شعلہ افشانی نہیں یہ کچھ نئی اس آہ سے
دوں لگی ہے ایسی ایسی بھی کہ سارا بن جلا
آگ سی اک دل میں سلگے ہے کبھو بھڑکی تو میر
دے گی میری ہڈیوں کا ڈھیر جوں ایندھن جلا
میر تقی میر

ایندھن

ایک ٹھٹھرتی صبح کا منظر

کہرے کی وادی سے چل کر

شہر کے برفیلے چہرے پر …

آن رُکا ہے

سرد ہوائیں

پیڑوں کی گیلی باہوں سے

پھوٹ رہی ہیں

ایسے عالم میں کم سن ، محنت کش لڑکی

ناکافی کپڑوں میں سُکڑی بیٹھی ہے

قدموں میں تنکوں کی ڈھیری

ڈھیری پر اٹھلاتے شعلے

اکڑے ہاتھوں کو اِک بوند حرارت دیں گے

پر یہ سَن سَن کرتا لمحہ

پل دو پل میں تھم جائے گا

قطرہ قطرہ خون رگوں میں جم جائے گا

ایک ٹھٹھرتی صبح کا منظر

شب خانے کی اس کھڑکی سے دیکھ رہی ہوں

سوچ رہی ہوں

میرے اپنے کمرے میں بھی

صدیوں سے برفیلا موسم رُکا ہوا

جمی ہوئی اک سوچ کی ڈھیری

برسوں سے حرفوں کا ایندھن نگل رہی ہے

سوچ رہی ہوں

جمی ہوئی ڈھیری سے چنگاری نہ نکلی

تو بھی کیا ہے

یہ انبار کتابوں کے ایندھن کی خاطر

کم سن لڑکی کو دے ڈالوں

گلناز کوثر

جاڑے میں رنگ و نور کا ایندھن تھا کون شخص

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 193
دھکے ہوئے لحاف کا دامن تھا کون شخص
جاڑے میں رنگ و نور کا ایندھن تھا کون شخص
خود ہی میں گھیر لایا تھا اڑتا ہوا وہ تیر
میرے علاوہ زخم کا ساجن تھا کون شخص
کچھ یاد آرہا ہے محبت مجھے بھی تھی
مری نظر تھا کون وہ دھڑکن تھا کون شخص
ممکن نہیں ہے پھینکے وہ پتھر مری طرف
کھڑکی میں یار کی مرا دشمن تھا کون شخص
منصور بزمِ یار میں میری طرح وجیہہ
برخاستن سے پہلے وہ گفتن تھا کون شخص
منصور آفاق