ٹیگ کے محفوظات: ایما

مرگِ مفاجات نے یہ کیا کیا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 34
یار کو محرومِ تماشا کیا
مرگِ مفاجات نے یہ کیا کیا
آپ جو ہنستے رہے شب بزم میں
جان کو دشمن کی میں رویا کیا
عرضِ تمنا سے رہا بے قرار
شب وہ مجھے، میں اسے چھیڑا کیا
سرد ہوا دل، وہ ہے غیروں سے گرم
شعلے نے الٹا مجھے ٹھنڈا کیا
مہرِ قمر کا ہے اب ان کو گمان
آہِ فلک سیر نے یہ کیا کیا
ان کو محبت ہی میں شک پڑ گیا
ڈر سے جو شکوہ نہ عدو کا کیا
دیکھئے اب کون ملے خاک میں
یار نے گردوں سے کچھ ایما کیا
حسرتِ آغوش ہے کیوں ہم کنار
غیر سے کب اس نے کنارا کیا
چشمِ عنایت سے بچی جاں مجھے
نرگسِ بیمار نے اچھا کیا
غیر ہی کو چاہیں گے اب شیفتہ
کچھ تو ہے جو یار نے ایسا کیا
مصطفٰی خان شیفتہ

ذرا سنا کہ ہے کچھ ذکر جس میں تیرا بھی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 59
جو ہو سکے تو مرے دل اب اک وہ قصہ بھی
ذرا سنا کہ ہے کچھ ذکر جس میں تیرا بھی
کبھی سفر ہی سفر میں جو عمرِ رفتہ کی سمت
پلٹ کے دیکھا تو اڑتی تھی گردِ فردا بھی
بڑے سلیقے سے دنیا نے میرے دل کو دیے
وہ گھاؤ، جن میں تھا سچائیوں کا چرکا بھی
کسی کی روح سے تھا ربط اور اپنے حصے میں تھی
وہ بےکلی جو ہے موجِ زماں کا حصہ بھی
یہ آنکھیں، ہنستی وفائیں، یہ پلکیں، جھکتے خلوص
کچھ اس سے بڑھ کے کسی نے کسی کو سمجھا بھی
یہ رسم، حاصلِ دنیا ہے اک یہ رسمِ سلوک
ہزار اس میں سہی نفرتوں کا ایما بھی
دلوں کی آنچ سے تھا برف کی سلوں پہ کبھی
سیاہ سانسوں میں لتھڑا ہوا پسینہ بھی
مجھے ڈھکی چھپی اَن بوجھی الجھنوں سے ملا
جچی تلی ہوئی اک سانس کا بھروسا بھی
کبھی کبھی انھی الھڑ ہواؤں میں امجد
سنا ہے دور کے اک دیس کا سندیسا بھی
مجید امجد