ٹیگ کے محفوظات: ایدھر

کیا کہوں میں آہ مجھ کو کام کس پتھر سے ہے

دیوان دوم غزل 1051
ربط دل کو اس بت بے مہر کینہ ور سے ہے
کیا کہوں میں آہ مجھ کو کام کس پتھر سے ہے
کس کو کہتے ہیں نہیں میں جانتا اسلام و کفر
دیر ہو یا کعبہ مطلب مجھ کو تیرے در سے ہے
کیوں نہ اے سید پسر دل کھینچے یہ موے دراز
اصل زلفوں کی تری گیسوے پیغمبرؐ سے ہے
کاغذ ابری پہ درد دل اسے لکھ بھیجیے
وہ بھی تو جانے کہ یاں آشوب چشم تر سے ہے
کیا کہیں دل کچھ کھنچے جاتے ہیں اودھر ہر گھڑی
کام ہم بے طاقتوں کو عشق زورآور سے ہے
رحم بھی دینا تھا تھوڑا ہائے اس خوبی کے ساتھ
تجھ سے کیا کل گفتگو یہ داورمحشر سے ہے
کیا کروں گا اب کے میں بے پر ہوس گلزار کی
لطف گل گشت اے نسیم صبح بال و پر سے ہے
مرنے کے اسباب پڑتے ہیں بہت عالم میں لیک
رشک اس پر ہے کہ جس کی موت اس خنجر سے ہے
ناز و خشم و بے دماغی اس طرف سے سب ہیں یہ
کچھ کسو بھی طور کی رنجش بھلا ایدھر سے ہے
دیکھ گل کو ٹک کہ ہر یک سر چڑھا لیتا ہے یاں
اس سے پیدا ہے کہ عزت اس چمن میں زر سے ہے
کانپتا ہوں میں تو تیرے ابروئوں کے خم ہوئے
قشعریرہ کیا مجھے تلوار کے کچھ ڈر سے ہے
اشک پے درپے چلے آتے تھے چشم زار سے
ہر نگہ کا تار مانا رشتۂ گوہر سے ہے
بادیے ہی میں پڑا پاتے ہیں جب تب تجھ کو میر
کیا خفا اے خانماں آباد کچھ تو گھر سے ہے
میر تقی میر

سو طرف جب دیکھ لیجے تب ٹک اودھر دیکھیے

دیوان دوم غزل 1015
انکھڑیوں کو اس کی خاطر خواہ کیونکر دیکھیے
سو طرف جب دیکھ لیجے تب ٹک اودھر دیکھیے
گرچہ زردی رنگ کی بھی ہجر ہی سے ہے ولے
منھ مرا دیکھو ہو کیا یہ کوفت جی پر دیکھیے
اب کے گل ہم بے پروں کی اور چشمک زن ہے زور
اور دل اپنا بھی جلتا ہے بہت پر دیکھیے
آتے ہو جب جان یاں آنکھوں میں آ رہتی ہے آہ
دیکھیے ہم کو تو یوں بیمار و مضطر دیکھیے
اشک پر سرخی ابھی سے ہے تو آگے ہم نشیں
رنگ لاوے کیسے کیسے دیدئہ تر دیکھیے
دیر و کعبہ سے بھی ٹک جھپکی نہ چشم شوخ یار
شوق کی افراط سے تاچند گھر گھر دیکھیے
مر رہے یوں صیدگہ کی کنج میں تو حسن کیا
عشق جب ہے تب گلے کو زیر خنجر دیکھیے
برسوں گذرے خاک ملتے منھ پر آئینے کے طور
کیا غضب ہے آنکھ اٹھاکر ٹک تو ایدھر دیکھیے
دیدنی ہے وجد کرنا میر کا بازار میں
یہ تماشا بھی کسو دن تو مقرر دیکھیے
میر تقی میر

کوفت گذرے ہے فراق یار میں جی پر بہت

دیوان دوم غزل 786
دیکھیے کب ہو وصال اب تو لگے ہے ڈر بہت
کوفت گذرے ہے فراق یار میں جی پر بہت
دل کی ویسی ہے خرابی کثرت اندوہ سے
جیسے رہ پڑتا ہے دشمن کا کہیں لشکر بہت
ہم نشیں جا بیٹھ محنت کش کوئی دل چاہیے
عشق تیرا کام ہے تو ہے بغل پرور بہت
بس نہیں مجھ ناتواں کا ہائے جو کچھ کرسکوں
مدعی پُرچَک سے اس کی پڑ گیا ہے ور بہت
سخت کر جی کیونکے یک باری کریں ہم ترک شہر
ان گلی کوچوں میں ہم نے کھائے ہیں پتھر بہت
دیکھ روے زرد پر بھی میرے آنسو کی ڈھلک
اے کہ تونے دیکھی ہے غلطانی گوہر بہت
ہم نفس کیا مجھ کو تو رویا کرے ہے روز و شب
رہ گئے ہیں مجھ سے کوے یار میں مرکر بہت
کم مجھی سے بولنا کم آنکھ مجھ پر کھولنا
اب عنایت یار کی رہتی ہے کچھ ایدھر بہت
کیا سبب ہے اب مکاں پر جو کوئی پاتا نہیں
میر صاحب آگے تو رہتے تھے اپنے گھر بہت
میر تقی میر