ٹیگ کے محفوظات: ایام

پر دل کی اداسی نہ در و بام سے اترے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 115
آنکھوں میں ستارے تو کئی شام سے اترے
پر دل کی اداسی نہ در و بام سے اترے
کچھ رنگ تو ابھرے تری گل پیرہنی کا
کچھ زنگ تو آئینۂ ایام سے اترے
ہوتے رہے دل لمحہ بہ لمحہ تہہ و بالا
وہ زینہ بہ زینہ بڑے آرام سے اترے
جب تک ترے قدموں میں فروکش ہیں سبو کش
ساقی خط بادہ نہ لب جام سے اترے
احمد فراز

عالمِ گردشِ ایام بدل جاتا ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 136
مے کدے میں جو کوئی جام بدل جاتا ہے
عالمِ گردشِ ایام بدل جاتا ہے
شامِ فرقت وہ قیامت ہے کہ اللہ بچائے
صبح کو آدمی کا نام بدل جاتا ہے
ہم اسے پہلی محبت کی نظر کہتے ہیں
جس کے آغاز کا انجام بدل جاتا ہے
نامہ بر ان کی زباں کے تو یہ الفاظ نہیں
راستے میں کہیں پیغام بدل جاتا ہے
خواب میں رخ پہ آ جاتے ہیں ان کے گیسو
انتظامِ سحر و شام بدل جاتا ہے
تم جواں ہے کے وہی غنچہ دہن ہو یہ کیا
جب کلی کھلتی ہے تو نام بدل جاتا ہے
اے قمر ہجر کی شب کاٹ تو لیتا ہوں مگر
رنگ چہرے کا سرِ شام بدل جاتا ہے
قمر جلالوی

پوچھتے ہیں ملک الموت سے انجام اپنا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 7
بس کہ آغازِ محبت میں ہوا کام اپنا
پوچھتے ہیں ملک الموت سے انجام اپنا
عمر کٹتی ہے تصور میں رخ و کاکل کے
رات دن اور ہے، اے گردشِ ایام اپنا
واں یہ قدغن کہ نہ آوازِ فغاں بھی پہنچے
یاں یہ شورش کہ گزارا ہو لبِ بام اپنا
ان سے نازک کو کہاں گرمیِ صحبت کی تاب
بس کلیجا نہ پکا اے طمعِ خام اپنا
تپشِ دل کے سبب سے ہے مجھے خواہشِ مرگ
کون ہے جس کو نہ منظور ہو آرام اپنا
بادہ نوشی سے ہماری، جو لہو خشک ہوا
خونِ اغیار سے لبریز ہے کیا جام اپنا
لطف سمجھوں تو بجا، جور بھی سمجھوں تو درست
تم نے بھیجا ہے مرے پاس جو ہم نام اپنا
ذکرِ عشاق سے آتی ہے جو غیرت اس کو
آپ عاشق ہے مگر وہ بتِ خود کام اپنا
تاب بوسے کی کسے شیفتہ وہ دیں بھی اگر
کر چکی کام یہاں لذتِ دشنام اپنا
مصطفٰی خان شیفتہ

جپ نام اس کا صبح کو تا نام بھی چلے

دیوان ششم غزل 1914
سب کام سونپ اس کو جو کچھ کام بھی چلے
جپ نام اس کا صبح کو تا نام بھی چلے
گل بکھرے لال میرے قفس پر خزاں کی باؤ
شاید کہ اب بہار کے ایام بھی چلے
خط نکلے پر بھی یار نہ لکھتا تھا کوئی حرف
سو اس کو اب تو لوگوں کے پیغام بھی چلے
سایہ سی اس کے پیچھے لگی پھرتی ہے پری
وہ کیا جو آگے یار کے دوگام بھی چلے
پھر صعوہ کے خرام کی بے لطفی دیکھیو
جب راہ دو قدم وہ گل اندام بھی چلے
اب وہ نہیں کہ تھامے تھمے اضطرار ہے
اک عمر ہم تو ہاتھ سے دل تھام بھی چلے
یہ راہ دور عشق نہیں ہوتی میر طے
ہم صبح بھی چلے گئے ہیں شام بھی چلے
میر تقی میر

یہ بھی کوئی لطف بے ہنگام ہے

دیوان سوم غزل 1294
دشمنوں کے روبرو دشنام ہے
یہ بھی کوئی لطف بے ہنگام ہے
محو زلف یار ہے عالم تمام
حسن کا بھی شہرہ جوش شام ہے
عشق کی ہے راہ کیا مشکل گذر
سر کا جانا جس میں ہر اک گام ہے
گر کہا ناکام ملنے کو کبھی
تو یہ کہتا ہے کہ مجھ کو کام ہے
روز و شب پھرتا ہوں اس کوچے کے گرد
کیا کہوں کیا گردش ایام ہے
چین دن کو ہے نہ شب کو خواب ٹک
اس کی دوری میں کسے آرام ہے
بزم میں پوچھا تو یوں انجان ہو
میر ان لوگوں میں کس کا نام ہے
میر تقی میر

ہاتھ ملنا کام ہے اب عاشق بدنام کا

دیوان سوم غزل 1099
سطح جو ہاتھوں میں تھا اس کے رخ گلفام کا
ہاتھ ملنا کام ہے اب عاشق بدنام کا
کچھ نہیں عنقا صفت پر شہرئہ آفاق ہوں
سیر کے قابل ہے ہونا پہن میرے نام کا
ہجر کی راتیں بڑی چھوٹی جو ٹک ہوتیں کہیں
اس میں کچھ نقصان ہوتا تھا مگر ایام کا
روئوں یاد زلف میں اس کی تو پھر روتا رہوں
صبح تک جاتا نہیں ہے مینھ آیا شام کا
تاب کس کو اپنا کچا سوت کچھ الجھا ہے میر
گم ہے سررشتہ ہمارے خواب اور آرام کا
میر تقی میر

تا صبح دوصد نالہ سر انجام کریں گے

دیوان اول غزل 618
دن دوری چمن میں جو ہم شام کریں گے
تا صبح دوصد نالہ سر انجام کریں گے
ہو گا ستم و جور سے تیرے ہی کنایہ
دوشخص جہاں شکوئہ ایام کریں گے
آمیزش بے جا ہے تجھے جن سے ہمیشہ
وے لوگ ہی آخر تجھے بدنام کریں گے
نالوں سے مرے رات کے غافل نہ رہا کر
اک روز یہی دل میں ترے کام کریں گے
گر دل ہے یہی مضطرب الحال تو اے میر
ہم زیر زمیں بھی بہت آرام کریں گے
میر تقی میر

جنس تقویٰ کے تئیں صرف مئے خام کرو

دیوان اول غزل 394
شیخ جی آئو مصلیٰ گرو جام کرو
جنس تقویٰ کے تئیں صرف مئے خام کرو
فرش مستاں کرو سجادئہ بے تہ کے تئیں
مے کی تعظیم کرو شیشے کا اکرام کرو
دامن پاک کو آلودہ رکھو بادے سے
آپ کو مغبچوں کے قابل دشنام کرو
نیک نامی و تقاوت کو دعا جلد کہو
دین و دل پیش کش سادئہ خود کام کرو
ننگ و ناموس سے اب گذرو جوانوں کی طرح
پر فشانی کرو اور ساقی سے ابرام کرو
خوب اگر جرعۂ مے نوش نہیں کرسکتے
خاطر جمع مے آشام سے یہ کام کرو
اٹھ کھڑے ہو جو جھکے گردن میناے شراب
خدمت بادہ گساراں ہی سر انجام کرو
مطرب آکر جو کرے چنگ نوازی تو تم
پیرہن مستوں کی تقلید سے انعام کرو
خنکی اتنی بھی تو لازم نہیں اس موسم میں
پاس جوش گل و دل گرمی ایام کرو
سایۂ گل میں لب جو پہ گلابی رکھو
ہاتھ میں جام کو لو آپ کو بدنام کرو
آہ تا چند رہو خانقہ و مسجد میں
ایک تو صبح گلستان میں بھی شام کرو
رات تو ساری گئی سنتے پریشاں گوئی
میر جی کوئی گھڑی تم بھی تو آرام کرو
میر تقی میر

وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں

دیوان اول غزل 360
دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں
وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں
مثل عنقا مجھے تم دور سے سن لو ورنہ
ننگ ہستی ہوں مری جاے بجز نام نہیں
خطر راہ وفا بلکہ بہت دور کھنچا
عمر گذری کہ بہم نامہ و پیغام نہیں
راز پوشی محبت کے تئیں چاہیے ضبط
سو تو بیتابی دل بن مجھے آرام نہیں
بے قراری جو کوئی دیکھے ہے سو کہتا ہے
کچھ تو ہے میر کہ اک دم تجھے آرام نہیں
میر تقی میر

رونا آتا ہے مجھے ہر سحر و شام بہت

دیوان اول غزل 185
جی میں ہے یاد رخ و زلف سیہ فام بہت
رونا آتا ہے مجھے ہر سحر و شام بہت
دست صیاد تلک بھی نہ میں پہنچا جیتا
بے قراری نے لیا مجھ کو تہ دام بہت
ایک دو چشمک ادھر گردش ساغر کہ مدام
سر چڑھی رہتی ہے یہ گردش ایام بہت
دل خراشی و جگر چاکی و خون افشانی
ہوں تو ناکام پہ رہتے ہیں مجھے کام بہت
رہ گیا دیکھ کے تجھ چشم پہ یہ سطر مژہ
ساقیا یوں تو پڑھے تھے میں خط جام بہت
پھر نہ آئے جو ہوئے خاک میں جا آسودہ
غالباً زیر زمیں میر ہے آرام بہت
میر تقی میر

جیسے پشتِ دست پہ حرف کھدے ہوں نام کے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 59
ثبت ہیں دن کی راہ میں، نیلے سائے شام کے
جیسے پشتِ دست پہ حرف کھدے ہوں نام کے
انہونی سی آرزع، لپکے اٹھے ہاتھ سے
جاؤں اپنے دیس کو اڑتے بادل تھام کے
ڈیوڑھیوں کے بیچ سے، جاتا ہے یہ راستہ
بند کئے جا کھول کے، دروازے ایام کے
عمروں کے ملبوس پہ کل کے سکھ کی آس میں
کاڑھیں دکھ کی دیویاں سپنے عام عوام کے
کس تربیت کار نے پیدا کیں یہ سختیاں
کند ہوئے احساس پہ دندانے دشنام کے
جب سمتوں کی رات میں، میں بے حالت ہو گیا
چھلکے اک اک چیز سے لشکارے پیغام کے
آفتاب اقبال شمیم

دشنام تو نہیں ہے، یہ اکرام ہی تو ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 13
ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
دشنام تو نہیں ہے، یہ اکرام ہی تو ہے
کرتے ہیں جس پہ طعن کوئی جرم تو نہیں
شوقِ فضول و الفتِ ناکام ہی تو ہے
دل مدعی کے حرفِ ملامت سے شاد ہے
اے جانِ جاں یہ حرف ترا نام ہی تو ہے
دل ناامید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے
لبمی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
دستِ فلک میں گردشِ تقدیر تو نہیں
دستِ فلک میں گردشِ ایام ہی تو ہے
آخر تو ایک روز کرے گی نظر وفا
وہ یارِ خوش خصال سرِ بام ہی تو ہے
بھیگی ہے رات فیض غزل ابتدا کرو
وقتِ سرود، درد کا ہنگام ہی تو ہے
منٹگمری جیل
فیض احمد فیض

کیے میں نے ہر اک ایواں کی چوکھٹ تھام کے شکوے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 74
نہیں سنتا کوئی مجھ کشتۂ آلام کے شکوے
کیے میں نے ہر اک ایواں کی چوکھٹ تھام کے شکوے
شفق کے رنگ آنکھوں میں، سحر کی اوس پلکوں پر
نہ آئے پھر بھی لب پر چرخِ نیلی فام کے شکوے
یہ کیسا دور ہے جس میں مجھے سننے پڑے ساقی
وبالِ ہوش کے طعنے، شکستِ جام کے شکوے
اب ان بھولے ہوئے قصوں کو دہرانے سے کیا حاصل
یہ اب کیا آپ لے بیٹھے دلِ ناکام کے شکوے
تماشا ہے کہ جن کے واسطے گردش میں تھے عالم
انہیں بھی سوجھتے ہیں گردشِ ایام کے شکوے
مجید امجد

ہم لب سے لگا کر جام، ہوئے بدنام، بڑے بدنام

مجید امجد ۔ غزل نمبر 64
ایک ایک جھروکا خندہ بہ لب، ایک ایک گلی کہرام
ہم لب سے لگا کر جام، ہوئے بدنام، بڑے بدنام
رت بدلی کہ صدیاں لوٹ آئیں، اف یاد، کسی کی یاد
پھر سیلِ زماں میں تیر گیا اک نام، کسی کا نام
دل ہے کہ اک اجنبیِ حیراں، تم ہو کہ پرایا دیس
نظروں کی کہانی بن نہ سکیں ہونٹوں پہ رکے پیغام
روندیں تو یہ کلیاں نیشِ بلا، چومیں تو یہ شعلے پھول
یہ غم یہ کسی کی دین بھی ہے، انعام، عجب انعام
اے تیرگیوں کی گھومتی رو، کوئی تو رسیلی صبح
اے روشنیوں کی ڈولتی لو، اک شام، نشیلی شام
رہ رہ کے جیالے راہیوں کو دیتا ہے یہ کون آواز
کونین کی ہنستی منڈیروں پر، تم ہو کہ غمِ ایام
بے برگ شجر گردوں کی طرف پھیلائیں ہمکتے ہات
پھولوں سے بھری ڈھلوان پہ سوکھے پات کریں بسرام
ہم فکر میں ہیں اس عالم کا دستور ہے کیا دستور
یہ کس کو خبر اس فکر کا ہے دستورِ دو عالم نام
مجید امجد

مارا نہ جاؤں میں بھی کہیں نام کے سبب

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 137
منصور پر خدائی کے الزام کے سبب
مارا نہ جاؤں میں بھی کہیں نام کے سبب
بس رہ گئی ہے یاد میں بجھتی سی ریل کار
میں لیٹ ہو گیا تھا کسی کام کے سبب
مہکا ہوا ہے دیر سے میری گلی کا موڑ
خوشبو پہن کے چلتی ہوئی شام کے سبب
کر لوں گا آسمانوں پہ آباد بستیاں
میں پُر یقیں ہوں زینہء ایام کے سبب
چہرے تک آ گئی تھیں شعاعوں کی ٹہنیاں
جاگا ہوں آفتابِ لبِ بام کے سبب
کتنے سفید کتنے حسین و جمیل لوگ
چھوڑ آیا ایک حسن سیہ فام کے سبب
انجامِ گفتگو ہوا پھولوں کے درمیان
آغازِ گفتگو ہوا دشنام کے سبب
بیٹھا ہوں کوہِ سرخ کے پتھر تراشتا
دریائے سندھ ! آپ کے پیغام کے سبب
صحرا نے صادقین کی تصویر اوڑھ لی
اک نظمِ گردباد کے الہام کے سبب
جس کی مجھے تلاش تھی وہ درد مل گیا
ہوں کامیاب صحبتِ ناکام کے سبب
سورج پلٹ گیا ہے ملاقات کے بغیر
زلف سیہ کے بسترِ بدنام کے سبب
پروردگارِ اول و آخر سے پانچ وقت
ملتے ہیں لوگ کمرئہ اصنام کے سبب
شب ہائے زخم زخم گزارے خوشی کے ساتھ
لندن کی ایک غم زدہ مادام کے سبب
دینا پڑے گا شیخ کو میرا حساب بھی
کافر ہوا ہوں چہرئہ اسلام کے سبب
منصور آفاق

یاد ہے وصل کی سبز اتوار تھی شام کا پیڑ تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 97
ناریل کے درختوں کی شاخوں میں بادام کا پیڑ تھا
یاد ہے وصل کی سبز اتوار تھی شام کا پیڑ تھا
قمقموں سے پرویا ہوا، روشنی سے بھگویا ہوا
برف کے ڈھیر میں سرخ سا زخمِ ناکام کا پیڑ تھا
شاعری نہر کے ساتھ چلتی ہوئی چاپ تھی خواب کی
رات نظموں کی فٹ پاتھ تھی چاند الہام کا پیڑ تھا
میں ثمر باریوں کی توقع لئے دیکھتا تھا اسے
جو کرائے کے گھر میں لگایا ابھی آم کا پیڑ تھا
ایک دہکی ہوئی آگ کے تھے شمالی پہاڑوں پہ پھول
اک دہکتے چناروں میں کشمیر کے نام کا پیڑ تھا
جس کے پتوں سے تصویر کھینچی گئی میرے کردار کی
ٹہنیوں سے کئی جھوٹ لٹکے تھے، الزام کا پیڑ تھا
اک طرف نیکیوں کا شجر تھا سفیدی پھری قبر سا
اک طرف لمس افزا گناہِ سیہ فام کا پیڑ تھا
زلزلے بھی وبائیں بھی سیلاب بھی شاخ درشاخ تھے
ساری بستی پہ پھیلا ہوا کوئی آلام کا پیڑ تھا
سب پھلوں کے مگر مختلف ذائقے ، مختلف رنگ تھے
اپنی تفہیم کے باغ میں تازہ افہام کا پیڑ تھا
جس شجر کی جوانی کومیں چھوڑ آیا بہاروں کے بیچ
گالیاں چھاؤں میں چہچہاتی تھیں دشنام کا پیڑ تھا
کوئی انبوہ تھا اہلِ اسباب کا اس کی آغوش میں
کیا ہوس کار گلزار میں درہم و دام کا پیڑ تھا
برگ و بار اس پہ آئے ہوئے تھے نئی شاعری کے بہت
ایک دریا کے مبہم کنارے پہ ابہام کا پیڑ تھا
آگ ہی آگ تھی اس کی شاخوں میں پھیلی ہوئی لمس کی
باغِ فردوس میں ایک ممنوعہ مادام کا پیڑ تھا
اک جڑوں سے لپیٹی ہوئی موت کی بیل کی چیخ تھی
زندگی ، شورِ واہی تباہی تھی ، سرسام کا پیڑ تھا
جس سے منصور گنتے پرندے پھریں اپنی تنہائیاں
حسنِ تقویم کے صحن میں ایک ایام کا پیڑ تھا
منصور آفاق

اور معرکۂ گردش ایام ہے درپیش

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 11
غفلت ہے کہ گھیر ے ہوئے ہے چار طرف سے
اور معرکۂ گردش ایام ہے درپیش
گو صبح بھی تھی روز مصیبت کی قیامت
پر صبح تو جوں توں کٹی اب شام ہے درپیش
وہ وقت گیا نشہ تھا جب زوروں پہ اپنا
اب وقت خمار مئے گلفام ہے درپیش
امید شفا کا تو جواب آ ہی چکا ہے
اب موت کا سننا ہمیں پیغام ہے درپیش
جی اس کا کسی کام میں لگتا نہیں زنہار
ظاہر ہے کہ حالیؔ کو کوئی کام ہے درپیش
الطاف حسین حالی

بے تابیاں سمٹ کے ترا نام بن گئیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 108
دل کے لئے حیات کا پیغام بن گئیں
بے تابیاں سمٹ کے ترا نام بن گئیں
کچھ لغزشوں سے کام جہاں کے سنور گئے
کچھ جراتیں حیات پر الزام بن گئیں
ہر چند وہ نگاہیں ہمارے لئے نہ تھیں
پھر بھی حریف گردش ایام بن گئیں
آنے لگا حیات کو انجام کا خیال
جب آرزوئیں پھیل کے اک دام بن گئیں
کچھ کم نہیں جہاں سے جہاں کی مسرتیں
جب پاس آئیں دشمن آرام بن گئیں
باقیؔ جہاں کرے گا مری میکشی پہ رشک
ان کی حسیں نگاہیں اگر جام بن گئیں
باقیؔ مال شوق کا آنے لگا خیال
جب آرزوئیں پھیل کے اک دام بن گئیں
باقی صدیقی

اور بھی ہیں دنیا کے کام

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 15
یاد نہ آؤ صبح و شام
اور بھی ہیں دنیا کے کام
ایسی پیاس کا کیا ہو گا
جب بھی دیکھو تشنہ کام
کوئی تیری بات کرے
ہم پر آتا ہے الزام
کتنے فسانوں کا عنواں
میری نظریں تیرا بام
چپکے چپکے دل سے گزر
دیکھ نہ لے دور ایام
اتنا جرم نہ تھا باقیؔ
جتنے ہوئے ہیں ہم بدنام
باقی صدیقی

ستارے جھلملا اٹھے سر شام

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 14
لیا کس نے ابھی سے صبح کا نام
ستارے جھلملا اٹھے سر شام
فسون آرزو ٹوٹے نہ ٹوٹے
ہمارے سامنے ہے دل کا انجام
چلے جائیں گے خالی ہاتھ بھی ہم۔۔
مگر آئے تھے سن کر آپ کا نام
جو ہم بدلے تو کوئی بھی نہ بدلا
جو تم بدلے تو بدلا دور ایام
محبت اور اطوار زمانہ
کیا اپنی وفا کو ہم نے بدنام
تمنا داغ دے جائے نہ باقیؔ
ستارا ایک ٹوٹا ہے سرشام
باقی صدیقی