ٹیگ کے محفوظات: اہتمام

کہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ

ہوا میں جونہی دعا و سلام سے فارغ
کہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ
قضا کو سونپ کے بستی کے انتظامی امور
جو منتظم تھے ہوئے انتظام سے فارغ
تھے منتظر مرے دو اور بھی ضروری کام
ہوا نہ تھا میں ابھی ایک کام سے فارغ
وہ جن کو ہونا تھا رخصت بڑی خموشی سے
کیے گئے ہیں بڑی دھوم دھام سے فارغ
کہانی قیس کی سننے سے پہلے وہ بولے
مجھے تو لگتا ہے یہ شخص نام سے فارغ
مرے لیے کوئی مصروفیت نہیں باقی
کیا گیا ہوں کچھ اِس اہتمام سے فارغ
باصر کاظمی

نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 20
تمھارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ کام کس نے کیا ہے، یہ کام کس کا تھا
وفا کریں گے، نباہیں گے، بات مانیں گے
تمھیں بھی یاد ہے کچھ، یہ کلام کس کا تھا
رہا نہ دل میں وہ بےدرد اور درد رہا
مقیم کون ہوا ہے، مقام کس کا تھا
نہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگت
تمھاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا
تمام بزم جسے سن کے رہ گئی مشتاق
کہو، وہ تذکرۂ نا تمام کس کا تھا
گزر گیا وہ زمانہ، کہوں تو کس سے کہوں
خیال دل کو مرے صبح و شام کس کا تھا
ہر اک سے کہتے ہیں کیا داغ بے وفا نکلا
یہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا
داغ دہلوی

زندگی لمسِ رنگ عام کرے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 531
بادِ خوشبو کو ہم کلام کرے
زندگی لمسِ رنگ عام کرے
رزق میرا بھی کچھ کشادہ ہو
کوئی میرے بھی گھر قیام کرے
میں کہ رومانیت کا پیغمبر
کون کافر مجھے امام کرے
ایک شاعرکی حیثیت کیا ہے
اس سے کہہ دو کہ کوئی کام کرے
سندھ دریا کے ٹھنڈے پانی میں
میری خاطر وہ سرد آم کرے
دشت کی آتشیں شعاعوں پر
شامِ قوسِ قزح خرام کرے
غم سے کہنا کہ آج پلکوں پر
محفلِ شب کا اہتمام کرے
کوئی منصور روز و شب میرے
اپنی آسودگی کے نام کرے
منصور آفاق

ادھورے گیت سے حاصل دوام کیا کرتے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 520
زمیں سے عرش پہ نازل کلام کیا کرتے
ادھورے گیت سے حاصل دوام کیا کرتے
اُدھر بلاوا تھا اُس کا کہ میں اکیلی ہوں
اِدھر ادھورے تھے دفتر کے کام کیا کرتے
ہر آسماں سے نیا آسماں دکھائی دے
جہاز عرش کا رستہ تمام کیا کرتے
ازل تھا میز پہ جن کی، ابد تھا جیب کے بیچ
حیات و موت کا وہ احترام کیا کرتے
ہوا نے رنگ بکھیرے نہ پھول نے خوشبو
ترے بغیر ادھوری تھی شام کیا کرتے
زمین ہوتی توہم بھی کہیں قدم رکھتے
مقام ہی نہ تھا کوئی، قیام کیا کرتے
ہم اپنی ذات کی سڑکوں کے گم شدہ منصور
وصال و فاصلہ کا اہتمام کیا کرتے
منصور آفاق

اسے تھا مسئلہ محفل کے اہتمام پہ بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 475
کسی کے ساتھ چلا آیا اختتام پہ بھی
اسے تھا مسئلہ محفل کے اہتمام پہ بھی
اثر پذیری کے قصے میں کتنی باتیں ہیں
کلام پہ بھی ہے موقوف ہم کلام پہ بھی
دورد آیتِ الہام پہ کروڑوں ہوں
سلامتی ہو مرے مصرعِ دوام پہ بھی
مرے وجود میں مدغم وجود کیا کرتا
وہ میرے ساتھ جھگڑتا رہا ہے نام پہ بھی
رواں ہے اشہبِ دوراں خدا کی مرضی سے
ہیں پا رکاب میں اور ہاتھ ہیں لگام پہ بھی
ہے جنگ فلسفۂ فکر کے پہاڑوں پر
تصادم ایک نئے عالمی نظام پہ بھی
بپا ہے وادئ تاریخ میں بھی آویزش
لڑائی محنت و سرمایہ کے مقام پہ بھی
وطن بھی میرے ملالوں کی داستاں منصور
اداسیوں کی حکومت خرامِ شام پہ بھی
منصور آفاق

پانیوں پر خرام کرلوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 332
آسماں ہم کلام کر لوں میں
پانیوں پر خرام کرلوں میں
تم گلی سے سنا ہے گزرو گے
گھر میں کچھ اہتمام کرلوں میں
چاہتا ہوں کہ سایۂ گل میں
دھوپ اپنی تمام کرلوں میں
پھر کریں گے بہار کی باتیں
پہلے تھوڑاسا کام کرلوں میں
تیرے رخسار سے چرا کے شفق
سرخ رو اپنی شام کرلوں میں
بخش اتنی اجازتیں منصور
تیرے دل میں قیام کرلوں میں
منصور آفاق

مجھے بھی اپنا کوئی انتظام کرنا تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 87
اسے بھی ربطِ رہائش تمام کرنا تھا
مجھے بھی اپنا کوئی انتظام کرنا تھا
نگار خانے سے اس نے بھی رنگ لینے تھے
مجھے بھی شام کا کچھ اہتمام کرنا تھا
اسے بھی عارض و لب کے دئیے جلانے تھے
مجھے بھی چاند سے کوئی کلام کرنا تھا
بس ایک لنچ ہی ممکن تھا اتنی جلدی میں
اسے بھی جانا تھا میں نے بھی کام کرنا تھا
مراقبہ کسی بگلے کا دیکھنا تھا مجھے
کنارِ آبِ رواں کچھ خرام کرنا تھا
گلی کے لڑکوں کو سچائیاں بتانی تھیں
کوئی چراغ اندھیروں میں عام کرنا تھا
یہ کیا کہ بہتا چلا جا رہا ہوں گلیوں میں
کہیں تو غم کا مجھے اختتام کرنا تھا
بلانے آیا تھا اقبال بزمِ رومی میں
سو حکم نامے کا کچھ احترام کرنا تھا
گزر سکی نہ وہاں ایک رات بھی منصور
جہاں جہاں مجھے برسوں قیام کرنا تھا
منصور آفاق