ٹیگ کے محفوظات: اگل

وُہ کہ ڈسا جانے والا ہے، سنبھل جاتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
سانپ کہاں ہے اِتنا پتہ جب چل جاتا ہے
وُہ کہ ڈسا جانے والا ہے، سنبھل جاتا ہے
اُس کی غرض تو بس سانسیں پی جانے تک ہے
جس کو نگلے دریا اُسے، اُگل جاتا ہے
گود کھلاتی خاک بھی کھسکے پَیروں تلے سے
سرپر ٹھہرا بپھرا امبر بھی ڈھل جاتا ہے
پانی پر لہروں کے نقش کہاں ٹھہرے ہیں
منظر آتی جاتی پل میں بدل جاتا ہے
دُشمن میں یہ نقص ہے جب بھی دکھائی دے تو
رگ رگ میں اِک تُند الاؤ جل جاتا ہے
جس کا تخت ہِلا ہے ذرا سا اپنی جگہ سے
آج نہیں جاتا وہ شخص تو کل جاتا ہے
اِس جانب سے ماجد اُس جانب کے افق تک
ساکن چاند بھی چُپ چُپ دُور نکل جاتا ہے
ماجد صدیقی

چڑیا کے بچّوں کو سانپ، نِگل جائے گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
خاص ہے اُس سے جو اِک داؤ چل جائے گا
چڑیا کے بچّوں کو سانپ، نِگل جائے گا
ایک شڑاپ سے پانی صید دبوچ کے اپنا
بے دم کر کے اُس کو، دُور اُگل جائے گا
اُس کے تلے کی مٹی تک، بے فیض رہے گی
اِس دُنیا سے جو بھی درخت اَپَھل جائے گا
خوف دلائے گا اندھیارا مارِ سیہ کا
مینڈک سا، پیروں کو چھُو کے اُچھل جائے گا
سُورج اپنے ساتھ سحر تو لائے گا پر
کُٹیا کُٹیا ایک الاؤ جل جائے گا
کب تک عرضِ تمنّا پر کھائے گا طمانچے
لا وارث بچّوں سا دل بھی سبنھل جائے گا
ماجد کی جو خواہش بھی ہے بچّوں سی ہے
تتلی کو دیکھے گا اور مچل جائے گا
ماجد صدیقی

رات جو تھی چاند سا گھر سے نکل کر رہ گیا

دیوان دوم غزل 720
مکث طالع دیکھ وہ ایدھر کو چل کر رہ گیا
رات جو تھی چاند سا گھر سے نکل کر رہ گیا
خواب میں کل پائوں اپنے دوست کے ملتا تھا میں
آنکھ دشمن کھل گئی سو ہاتھ مل کر رہ گیا
ہم تو تھے سرگرم پابوسی خدا نے خیر کی
نیمچہ کل خوش غلاف اس کا اگل کر رہ گیا
ہم بھی دنیا کی طلب میں سر کے بل ہوتے کھڑے
بارے اپنا پائوں اس رہ میں بچل کر رہ گیا
کیا کہوں بیتابی شب سے کہ ناچار اس بغیر
دل مرے سینے میں دو دو ہاتھ اچھل کر رہ گیا
کیا ہمیں کو یار کے تیغے نے کھاکر دم لیا
ایسے بہتیروں کو یہ اژدر نگل کر رہ گیا
دو قدم ساتھ اس جفا جو کے چلا جاتا ہے جی
بوالہوس عیار تھا دیکھا نہ ٹل کر رہ گیا
آنکھ کچھ اپنی ہی اس کے سامنے ہوتی نہیں
جن نے وہ خونخوار سج دیکھی دہل کر رہ گیا
ایک ڈھیری راکھ کی تھی صبح جاے میر پر
برسوں سے جلتا تھا شاید رات جل کر رہ گیا
میر تقی میر

مجلس میں سن سپند یکایک اچھل پڑا

دیوان دوم غزل 679
مذکور میری سوختگی کا جو چل پڑا
مجلس میں سن سپند یکایک اچھل پڑا
پہنچے ہے کوئی اس تن نازک کے لطف کو
گل گو چمن میں جامے سے اپنے نکل پڑا
میں جو کہا اک آگ سی سلگے ہے دل کے بیچ
کہنے لگا کہ یوں ہی کوئی دن تو جل پڑا
بل کیوں نہ کھائیے کہ لگا رہنے اب تو واں
بالوں میں اور پیچ میں پگڑی کے بل پڑا
تھے اختلال اگرچہ مزاجوں میں کب سے لیک
ہلنے میں اس پلک کے نہایت خلل پڑا
رہتا نہیں ہے آنکھ سے آنسو ترے لیے
دیکھی جو اچھی شے تو یہ لڑکا مچل پڑا
سر اس کے پائوں سے نہیں اٹھتے ستم ہے میر
گر خوش غلاف نیمچہ اس کا اگل پڑا
میر تقی میر

بجھ بجھ کے چراغ جل رہے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 131
اشکوں میں خیال ڈھل رہے ہیں
بجھ بجھ کے چراغ جل رہے ہیں
آداب چمن بھی سیکھ لیں گے
زنداں سے ابھی نکل رہے ہیں
پھولوں کو شرار کہنے والو
کانٹوں پہ بھی لوگ چل رہے ہیں
ہے جھوٹ کہ سچ کسے خبر ہے
سنتے ہیں کہ ہم سنبھل رہے ہیں
آرام کریں کہاں مسافر
سائے بھی شرر اگل رہے ہیں
حالات سے بے نیاز ہو کر
حالات کا رُخ بدل رہے ہیں
کہتے ہیں اسے نصیب باقیؔ
پانی سے چراغ جل رہے ہیں
باقی صدیقی