ٹیگ کے محفوظات: اکتفا

اُس کے کم ہونے کا کفّارہ ادا کرنا تو ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 73
استطاعت سے زیادہ دل بڑا کرنا تو ہے
اُس کے کم ہونے کا کفّارہ ادا کرنا تو ہے
مت کہو، اِن دوریوں کے بعد بھی ہیں دوریاں
پُر کسی شے سے یہ آنکھوں کا خلا کرنا تو ہے
اس لئے اِس سے سلوکِ ناروا بھی ہے روا
زندگی کو ایک دن ہم سے دغا کرنا تو ہے
قتل کا الزام بھی مقتول پر ہی آئے گا
قاتلوں نے خود کو ثابت بے خطا کرنا تو ہے
ہم کہ ٹھہرے اپنی عادت میں تغیّر نا پسند
جو میسّر ہے اُسی پر اکتفا کرنا تو ہے
ہم کہ تنہائی کے اک پُرہول سنّاٹے میں ہیں
کچھ نہ کچھ، ایسے میں ہنگامہ بپا کرنا تو ہے
آفتاب اقبال شمیم