ٹیگ کے محفوظات: اکائی

زمین ایک خلل ہے مری اکائی میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 87
میں کائنات کے مانند ہوں خدائی میں
زمین ایک خلل ہے مری اکائی میں
میں دل کا اتنا سخی ہوں، خدا معاف کرے
کہ ڈھونڈ سکتا ہوں نیکی، تری برائی میں
یہ جسم شخص لگے روح کے علاقے کا
عجیب لطفِ دو عالم ہے آشنائی میں
رکا ہوا کوئی لمحہ نہ مجھ کو روک سکے
خدا کرے کہ رہوں رات دن رہائی میں
ملا تھا نقدِ سرِ راہ اس کے جلوے کا
گزر بسر ہوئی اپنی اسی کمائی میں
میں روز جیتا رہا اور روز مرتا رہا
مرا بھی نام لکھو کل کی کارروائی میں
آفتاب اقبال شمیم

یہ عمل تو پارسائی میں نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 396
درد کیوں چہرہ نمائی میں نہیں
یہ عمل تو پارسائی میں نہیں
آسماں ہیں میرے اندر ہی کہیں
ہاں مگر میری رسائی میں نہیں
فاقہ مستی کائناتوں پر محیط
معجزہ کوئی گدائی میں نہیں
میرے بنجاروں تمہاری خیر ہو
ایک بھی چوڑی کلائی میں نہیں
وقت میری وحدتوں میں ہے مقیم
میں زمانے کی اکائی میں نہیں
صرف میں منصور اک موجود ہوں
کوئی بھی پوری خدائی میں نہیں
منصور آفاق

جو چار لوگوں کے گھر ہے وہ دو تہائی بانٹ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 242
گرفتِ زر کے گرفتاروں میں رہائی بانٹ
جو چار لوگوں کے گھر ہے وہ دو تہائی بانٹ
تُو مجھ کو چھوڑ، کسی اور سے تعلق رکھ
تمام شہر میں اپنی نہ بے وفائی بانٹ
مجھے بھی بخش تصرف کسی کے خوابوں پر
ذرا سی اپنے فقیروں میں بھی خدائی بانٹ
پلٹ پلٹ کے نہ دیکھ اُس کا دل ربا چہرہ
کسی فریب سے نکلا ہے جا مٹھائی بانٹ
یہ لوگ شعر کو دیکھیں تری بصارت سے
دیارِ حرف میں آنکھیں جلی جلائی بانٹ
کتابِ ذات کی بے چہرگی کو چہرہ دے
ہزار سال پہ تقریب رونمائی بانٹ
عجیب قحط ہے لوگوں کو عشق بھول گیا
تمام گاؤں میں گندم کٹی کٹائی بانٹ
سنا ہے شہر میں تیری کئی دکانیں ہیں
مرے امام! ذرا زہد کی کمائی بانٹ
ترے لیے تو ہے بد، سات کا عدد منصور
تُو آٹھ روز پہ تقویم کی اکائی بانٹ
منصور آفاق