ٹیگ کے محفوظات: اڑا

ہم ہی کریں گے اُن سے کسی روز جا کے بات

بیٹھے رہیں گے وہ تو ہمیشہ دبا کے بات
ہم ہی کریں گے اُن سے کسی روز جا کے بات
کچھ بھی نکال سکتے ہیں مطلب وہ بات کا
کرتا ہوں اِس لیے میں بہت بچ بچا کے بات
پیچیدہ ہو گئے ہیں ہمارے تعلقات
کرنی پڑی ہے مجھ کو گھما کے پھرا کے بات
اک ہم کہ لے کے بیٹھ گئے ایک لفظ کو
اک وہ کہ چل دیے جو ہنسی میں اُڑا کے بات
کہتا ہوں دل کی بات گھٹا کر رقیب سے
کرتا ہے وہ جو آگے بڑھا کے چڑھا کے بات
وہ جو بنی ہوئی ہے رکاوٹ سی درمیاں
ملنا ہو اب ہمیں تو ملیں وہ ہٹا کے بات
مطلوب واعظوں کو ہیں شاید ہمارے اشک
ہنسنے کی بھی وہ کرتے ہیں اکثر رُلا کے بات
باصِرؔ بیانِ سادہ کو پایا ہے بے اثر
کیجے ذرا سنوار کے قدرے بنا کے بات
باصر کاظمی

مُسکرا کر ہمیں مِلا کیجے

آپ برہم نہ یوں ہوا کیجے
مُسکرا کر ہمیں مِلا کیجے
خوب صورت اگر دِکھائی دیں
ہم پہ پتھّر اُٹھا لیا کیجے
حُسن حیرت کا پیش خیمہ ہے
اِس عقیدے پہ سر دُھنا کیجے
ہم تکلّف کو بھول جاتے ہیں
آپ بھی دل ذرا بڑا کیجے
یہ ہے دنیا یہاں شکاری ہیں
اپنے اندر ہی اب اُڑا کیجے
سب درختوں پہ بُور آنے لگے
یار! ایسی کوئی دُعا کیجے
بات کرنا اگر نہیں آتا
خامشی کو ہرا بھرا کیجے
افتخار فلک

یہ بڑا چودھری، وہ بڑا چودھری، اُس سے آگے بھی ہے اِک بڑا چودھری

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
سر اُٹھانے کی رہ میں ہمارے لئے ہر کہیں ہے کڑے سے کڑا چودھری
یہ بڑا چودھری، وہ بڑا چودھری، اُس سے آگے بھی ہے اِک بڑا چودھری
ریوڑوں پر جھپٹتے ہوئے گُرگ سا آنگنوں گھونسلوں میں گُھسے سانپ سا
جھونپڑے جس جگہ بھی دکھائی دیئے، اُن میں دیکھا اکڑتا، کھڑا چودھری
سبزۂ زیرِ سنگِ گراں نے ذرا سر اُٹھایا جہاں اُس کا جی جل اٹھا
صورتِ حال ایسی جہاں بھی ملی، اُس سے ہے مخمصوں میں پڑا چودھری
نام سے اِک اسی کے تھی منسوب جو، لہلہاتی فضا میں، پتنگ اوج کی
ڈور ہاتھوں سے اُس کی نکلتے ہوئے دیکھ کر ہے زمیں میں گڑا چودھری
خوں میں اُترا نشہ چودھراہٹ کا وہ، دیکھ سکتا تھا کیسے بھلا ٹُوٹتے
لے کے پلٹا ہے وہ، انتقام اونٹ سا، ایسی ہٹ پر جہاں بھی اڑا چودھری
زیردستوں کو رن میں دھکیلا کِیا، آن سے، جان سے اُن کی کھیلا کیا
پر جو ماجدؔ ہوئے اُس سے روکش ذرا، اُن سے آخر تلک ہے لڑا چودھری
ماجد صدیقی

کسی اژدر سے جیسے سامنا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 93
درِ ہجراں وہ دل پر آ کھُلا ہے
کسی اژدر سے جیسے سامنا ہے
جدھر ہے زندگی اور موت بھی ہے
پرندہ پھر اُسی جانب اُڑا ہے
اُدھر مہتاب سا چہرہ ہے اُس کا
اِدھر بے چین ساگر شوق کا ہے
جلائے جسم و جاں کو دمبدم جو
پسِ خواہش وہ پیکر آگ سا ہے
گیا ہے اَب کے یُوں وہ داغ دے کر
کہ جیسے پیڑ سے پتا گرا ہے
یہ وہ جانیں جنہیں نسبت ہے اُس سے
ہمیں کیا وہ بُرا ہے یا بھلا ہے
زباں پر نام ہے اُس کا کہ ماجدؔ
سرِ مژگاں کوئی آنسو رُکا ہے
ماجد صدیقی

اُس پر کیا لکھا جانا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 160
کورا کاغذ سوچ رہا ہے
اُس پر کیا لکھا جانا ہے
نرخ نہیں گو ایک سے لیکن
ہر انسان یہاں بِکتا ہے
کون ہے گالی سُن کر جس کے
ہونٹوں سے امرت ٹپکا ہے
دشتِ طلب میں بِن کُتّوں کے
کس کے ہاتھ شکار لگا ہے
اپنی چال سلامت رکھنے
شیر ہرن پر ٹوٹ پڑا ہے
کُود کے جلتی آگ میں دیکھو
پروانہ گلزار بنا ہے
ٹھیک ہے گر بیٹا یہ سوچے
اُس نے باپ سے کیا پایا ہے
پکڑا جانے والا ہی کیوں
تنہا دم مجرم ٹھہرا ہے
جس نے بھی جاں بچتی دیکھی
تنکوں تک پر وہ اٹکا ہے
مجرم نے پچھلی پیشی پر
جو بھی کہا اُس سے مُکرا ہے
خالق اپنی خلق سے کھنچ کر
عرش پہ جانے کیا کرتا ہے
بہلانے مجھ بچّے کو وہ
جنت کا لالچ دیتا ہے
پیڑ زبانوں کو لٹکائے
دشت سے جانے کیا کہتا ہے
دیواروں سے ڈرتا ہو گا
کہنے والا کیوں ٹھٹکا ہے
موجِ الم نے کھول کے بازو
مجھ کو جیسے بھنچ لیا ہے
اُتنا ہی قد کاٹھ ہے اُس کا
جتنا جس کو ظرف ملا ہے
کس کو اَب لوٹانے جائیں
گردن میں جو طوق پڑا ہے
ٹہنی عاق کرے خود اُس کو
پھول وگرنہ کب جھڑتا ہے
جینے والا جانے کیونکر
موت کے در پر آن کھڑا ہے
صحرا کی بے درد ہوا نے
بادل کو کب رُکنے دیا ہے
دیکھوں اور بس دیکھو اُس کو
جانے اُس تصویر میں کیا ہے
کہنے کی باتیں ہیں ساری
زخمِ رگِ جاں کب بھرتا ہے
رُت کی خرمستی یہ جانے
پودا کیسے پیڑ بنا ہے
برق اور رعد کے لطف و کرم سے
گلشن کو کب فیض ملا ہے
لوٹایا اِک ڈنک میں سارا
سانپ نے جتنا دُودھ پیا ہے
ربط نہیں اُس سے اتنا بھی
شہر میں جتنا کچھ چرچا ہے
بند کلی چُپ رہنا اُس کا
لب کھولے تو پھولوں سا ہے
برگ و ثمر آنے سے پہلے
شاخ نے کیا کیا جبر سہا ہے
گُل برساتا ہے اوروں پر
وُہ جو زخم مجھے دیتا ہے
کوہِ قاف سے اِس جانب وہ
ڈھونڈوں بھی تو کب ملتا ہے
اُس کی دو رنگی مت پُوچھو
کالر پر جو پھول سجا ہے
رسّی کی شِشکار ہے پیچھے
کھیت کنارے جال بِچھا ہے
ڈس لیتا ہے سانپ جسے بھی
رَسّی تک سے وہ ڈرتا ہے
قبرپہ جل مرنے والے کی
ایک دیا اب تک جلتا ہے
بانس انار سے آنکھ ملائے
اپنی قامت ناپ رہا ہے
موسیٰ ہر فرعون کی خاطر
مشکل سے نت نت آتا ہے
سارے ہونٹ سلے ہیں پھر بھی
گلیوں میں اک حشر بپا ہے
دھڑکن دھرکن ساز جدا ہیں
کس نے کس کا دُکھ بانٹا ہے
کرنا آئے مکر جسے بھی
زر کے ساتھ وُہی تُلتا ہے
خون میں زہر نہیں اُترا تو
آنکھوں سے پھر کیا رِستا ہے
ہم اُس سے منہ موڑ نہ پائے
پیار سے جس نے بھی دیکھا ہے
کون ہے وہ جو محرومی کی
تہمت اپنے سر لیتا ہے
کھُلتی ہے ہر آنکھ اُسی پر
غنچہ جب سے پھول بنا ہے
انساں اپنا زور جتانے
چاند تلک پر جا نکلا ہے
دل نے پھر گُل کھِل اُٹھنے پر
نام کسی کا دہرایا ہے
وقت صفائی مانگ کے ہم سے
کاہے کو مُنہ کھُلواتا ہے
ہم شبنم کے قطروں پرہی
سورج داتا کیوں جھپٹا ہے
فصلِ سکوں پر بُغض یہ کس کا
مکڑی بن کر آ ٹوٹا ہے
دل تتلی کا پیچھا کرتے
کن کانٹوں میں جا اُلجھا ہے
زخم اگر بھر جائے بھی تو
نقش کہاں اُس کا مٹتا ہے
انجانوں سا مجھ سے وُہ پوچھے
اُس سے مرا دل مانگتا کیاہے
پھول جھڑیں یا پتے سُوکھیں
موسم نے یہ کب دیکھا ہے
اَب تو دل کی بات اٹھاتے
لفظ بھی چھلنی سے چھنتاہے
تجھ بن جو منظر بھی دیکھیں
آنکھ میں کانٹوں سا چُبھتا ہے
کانوں کے دَر کھُل جائیں تو
پتھر تک گویا لگتا ہے
آنکھوں کی اِس جھیل میں جانے
کون کنول سا لہراتا ہے
دور فلک پر کاہکشاں کا
رنگ ترے سپنوں جیسا ہے
گلشن والے کب جانیں یہ
پنجرے میں دن کب ڈھلتا ہے
صبح اُسی کے صحن میں اُتری
جس کا دامن چاک ملا ہے
جانے کس خرمن پر پہنچے
تابہ اُفق جو کھیت ہرا ہے
مَیں وہ غار تمّنا کا ہوں
سورج جس سے رُوٹھ گیا ہے
جانے کیا کیا زہر نہ پی کر
انساں نے جینا سیکھا ہے
بحر پہ پُورے چاند کے ہوتے
پانی کیوں ٹھہرا ٹھہرا ہے
وہ کب سایہ سینت کے رکھے
رستے میں جو پیڑ اُگا ہے
اُس کا حسن برابر ہو تو
حرف زباں پر کب آتا ہے
دیکھنے پر اُس آئنہ رُو کے
پھولوں کا بھی رنگ اُڑا ہے
پھل اُترا جس ٹہنی پر بھی
پتھر اُس پر آن پڑا ہے
کب اوراق پُرانے پلٹے
وُہ کہ مجھے جو بھول چکا ہے
اپنی اپنی قبر ہے سب کی
کون کسی کے ساتھ چلا ہے
اَب تو اُس تک جانے والا
گستاخی کا ہی رستہ ہے
اُونٹ چلے ڈھلوان پہ جیسے
ایسا ہی کچھ حال اپنا ہے
لُٹ کے کہے یہ شہد کی مکھی
محنت میں بھی کیا رکھا ہے
کس نے آتا دیکھ کے مجھ کو
بارش میں در بھینچ لیا ہے
اُس سے حرفِ محبت کہنے
ہم نے کیا کیا کچھ لکھا ہے
دامن سے اُس شوخ نے مجھ کو
گرد سمجھ کر جھاڑ دیا ہے
فرق ہے کیوں انسانوں میں جب
سانس کا رشتہ اِک جیسا ہے
فرصت ہی کب پاس کسی کے
کون رُلانے بھی آتا ہے
یادوں کے اک ایک ورق پر
وُہ کلیوں سا کھِل اُٹھتا ہے
شیر بھی صید ہُوا تو آخر
دیواروں پر آ لٹکا ہے
نُچنے سے اِک برگ کے دیکھو
پیڑ ابھی تک کانپ رہا ہے
ایک ذرا سی چنگاری نے
سارا جنگل پھونک دیا ہے
لفظ سے پاگل سا برتاؤ
ساگر ناؤ سے کرتا ہے
بہلا ہے دل درد سے جیسے
بچہ کانچ سے کھیل رہا ہے
کڑوے پھل دینے والے کا
رشتہ باغ سے کب ملتا ہے
خدشوں میں پلنے والوں نے
سوچا ہے جو، وُہی دیکھا ہے
اپنے اپنے انت کو پانے
جس کو دیکھو دوڑ رہا ہے
زور آور سبزے نے دیکھو
بادل سے حق مانگ لیا ہے
کس رُت کے چھننے سے جانے
صحنِ گلستاں دشت ہوا ہے
ہونٹ گواہی دیں نہ کچھ اُس کی
دل میں جتنا زہر بھرا ہے
لفظ کے تیشے سے ابھرے جو
زخم وہی گہرا ہوتا ہے
آنکھ ٹھہرتی ہے جس پر بھی
منظر وُہ چھالوں جیسا ہے
بن کر کالی رات وہ دیکھو
کّوا چڑیا پر جھپٹا ہے
جتنا اپنے ساتھ ہے کوئی
اُتنا اُس کے ساتھ خُدا ہے
اونچی کر دے لو زخموں کی
پرسش وُہ بے رحم چِتا ہے
ساکت کر دے جو قدموں کو
جیون وُہ آسیب ہُوا ہے
دشت تھا اُس کا ہجر پہ ہم نے
یہ صحرا بھی پاٹ لیا ہے
مجھ سے اُس کا ذکر نہ چھیڑو
وہ جیسا بھی ہے اچّھا ہے
ساتھ ہمارے ہے وہ جب سے
اور بھی اُس کا رنگ کھُلا ہے
شاہی بھی قربان ہو اُس پر
ماجدؔ کو جو فقر ملا ہے
ماجد صدیقی

داغِ برہنگی یہ اُسی نے دیا نہ ہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 47
شاخ و شجر سے ابرِ کرم ہی خفا نہ ہو
داغِ برہنگی یہ اُسی نے دیا نہ ہو
ہاں ہاں فتُور یہ بھی مرے عجز کا نہ ہو
سائل ہوں جس کا خود کو سمجھتا خدا نہ ہو
موجِ صبا ہی ہو نہ کہیں در پے فساد
پتّوں کے درمیاں وہی شورش بپا نہ ہو
یہ تھر تھری سی کیوں ہے ابھی روئے آب پر
ڈوبا ہے جو اُسی کی پریشاں صدا نہ ہو
جس میں ہوئی تھیں میری تمنّائیں جاگزیں
بُغضِ ہوا سے پھر وہی خیمہ اُڑا نہ ہو
یارانِ ہم بساط سے بے زار تھا بہت
ماجدؔ بساطِ شوق اُلٹ ہی گیا نہ ہو
ماجد صدیقی

کل تو اک احساس نے میرے سامنے آ کر رقص کیا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 16
تیری یاد کی خوشبو نے بانہیں پھیلا کر رقص کیا
کل تو اک احساس نے میرے سامنے آ کر رقص کیا
اپنی ویرانی کا سارا رنج بُھلا کر صحرا نے
میری دل جوئی کی خاطر خاک اڑا کر رقص کیا
پہلے میں نے خوابوں میں پھیلائی درد کی تاریکی
پھر اُس میں اک جھلمل روشن یاد سجا کر رقص کیا
دیواروں کے سائے آ کر میرے جلو میں ناچ اٹھے
میں نے اُس پُر ہول گلی میں جب بھی جا کر رقص کیا
اُس کی آنکھوں میں کل شب ایک تلاش مجسم تھی
میں نے بھی کیسے بازو لہرا لہرا کر رقص کیا
اُس کا عالم دیکھنے والا تھا جس دم اک ہُو گونجی
پہلے پہل تو اُس نے کچھ شرما شرما کر رقص کیا
رات گئے جب سناٹا سر گرم ہوا تنہائی میں
دل کی ویرانی نے دل سے باہر آ کر رقص کیا
دن بھر ضبط کا دامن تھامے رکھا خوش اسلوبی سے
رات کو تنہا ہوتے ہی کیا وجد میں آ کر رقص کیا
مجھ کو دیکھ کے ناچ اٹھی اک موج بھنور کے حلقے میں
نرم ہوا نے ساحل پر اک نقش بنا کر رقص کیا
بے خوابی کے سائے میں جب دو آنکھیں بے عکس ہوئیں
خاموشی نے وحشت کی تصویر اٹھا کر رقص کیا
کل عرفانؔ کا ذکر ہوا جب محفل میں تو دیکھو گے
یاروں نے ان مصرعوں کو دہرا دہرا کر رقص کیا
عرفان ستار

یہ وہیں ہیں لوگ شاید جو فریب کھا گئے ہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 74
سرِ شام تجھ سے ملنے ترے در پہ آ گئے ہیں
یہ وہیں ہیں لوگ شاید جو فریب کھا گئے ہیں
میں اگر قفس سے چھوٹا تو چلے گی باغباں سے
جہاں میرا آشیاں تھا وہاں پھول آ گئے ہیں
کوئی ان سے جا کہ کہہ دے سرِ بام پھر تجلی
جنہیں کر چکے ہو بے خود انھیں ہوش آ گئے ہیں
یہ پتہ بتا رہے ہیں رہِ عشق کے بگولے
کہ ہزاروں تم سے پہلے یہاں خاک اڑا گئے ہیں
شبِ ہجرِ شمع گل ہے مجھے اس سے کیا تعلق
قمر آسماں کے تارے کہاں منہ چھپا گئے ہیں
قمر جلالوی

کوئی دن ہی میں خاک سی یاں اڑا دی

دیوان دوم غزل 963
متاع دل اس عشق نے سب جلا دی
کوئی دن ہی میں خاک سی یاں اڑا دی
دلیل اس بیاباں میں دل ہی ہے اپنا
نہ خضر و بلد یاں نہ رہبر نہ ہادی
مزاجوں میں یاس آگئی ہے ہمارے
نہ مرنے کا غم ہے نہ جینے کی شادی
نہ پوچھو کہ چھاتی کے جلنے نے آخر
عجب آگ دل میں جگر میں لگا دی
وفا لوگ آپس میں کرتے تھے آگے
یہ رسم کہن آہ تم نے اٹھا دی
جدا ان غزالان شہری سے ہوکر
پھرے ہم بگولے سے وادی بہ وادی
صبا اس طرف کو چلی جل گئے ہم
ہوا یہ سبب اپنے مرنے کا بادی
وہ نسخہ جو دیکھا بڑھا روگ دل کا
طبیب محبت نے کیسی دوا دی
ملے قصر جنت میں پیر مغاں کو
ہمیں زیر دیوار میخانہ جا دی
نہ ہو عشق کا شور تا میر ہرگز
چلے بس تو شہروں میں کریے منادی
میر تقی میر

الم جو یہ ہے تو دردمندو کہاں تلک تم دوا کروگے

دیوان اول غزل 612
کرو توکل کہ عاشقی میں نہ یوں کروگے تو کیا کروگے
الم جو یہ ہے تو دردمندو کہاں تلک تم دوا کروگے
جگر میں طاقت کہاں ہے اتنی کہ درد ہجراں سے مرتے رہیے
ہزاروں وعدے وصال کے تھے کوئی بھی جیتے وفا کروگے
جہاں کی مسلخ تمام حسرت نہیں ہے تس پر نگہ کی فرصت
نظر پڑے گی بسان بسمل کبھو جو مژگاں کو وا کروگے
اخیر الفت یہی نہیں ہے کہ جل کے آخر ہوئے پتنگے
ہوا جو یاں کی یہ ہے تو یارو غبار ہوکر اڑا کروگے
بلا ہے ایسا طپیدن دل کہ صبر اس پر ہے سخت مشکل
دماغ اتنا کہاں رہے گا کہ دست بر دل رہا کروگے
عدم میں ہم کو یہ غم رہے گا کہ اوروں پر اب ستم رہے گا
تمھیں تو لت ہے ستانے ہی کی کسو پر آخر جفا کروگے
اگرچہ اب تو خفا ہو لیکن موئے گئے پر کبھو ہمارے
جو یاد ہم کو کروگے پیارے تو ہاتھ اپنے ملا کروگے
سحر کو محراب تیغ قاتل کبھو جو یارو ادھر ہو مائل
تو ایک سجدہ بسان بسمل مری طرف سے ادا کروگے
غم محبت سے میر صاحب بتنگ ہوں میں فقیر ہو تم
جو وقت ہو گا کبھو مساعد تو میرے حق میں دعا کروگے
میر تقی میر

یوں پھونک کرکے خاک مری سب اڑا گئی

دیوان اول غزل 442
کیسے قدم سے اس کی گلی میں صبا گئی
یوں پھونک کرکے خاک مری سب اڑا گئی
کچھ تھی طپش جگر کی تو بارے مزاج داں
پر دل کی بے قراری مری جان کھا گئی
کس پاس جا کے بیٹھوں خرابے میں اب میں ہائے
مجنوں کو موت کیسی شتابی سے آگئی
کون اس ہوا میں زخمی نہیں میری آہ کا
بجلی رہی تھی سو بھی تو سینہ دکھا گئی
سودا جو اس کے سر سے گیا زلف یار کا
تو تو بڑی ہی میر کے سر سے بلا گئی
میر تقی میر

اس بائو نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا

دیوان اول غزل 144
آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا
اس بائو نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا
سمجھی نہ باد صبح کہ آکر اٹھا دیا
اس فتنۂ زمانہ کو ناحق جگا دیا
پوشیدہ راز عشق چلا جائے تھا سو آج
بے طاقتی نے دل کی وہ پردہ اٹھا دیا
اس موج خیز دہر میں ہم کو قضا نے آہ
پانی کے بلبلے کی طرح سے مٹا دیا
تھی لاگ اس کی تیغ کو ہم سے سو عشق نے
دونوں کو معرکے میں گلے سے ملا دیا
سب شور ما ومن کو لیے سر میں مر گئے
یاروں کو اس فسانے نے آخر سلا دیا
آوارگان عشق کا پوچھا جو میں نشاں
مشت غبار لے کے صبا نے اڑا دیا
اجزا بدن کے جتنے تھے پانی ہو بہ گئے
آخر گداز عشق نے ہم کو بہا دیا
کیا کچھ نہ تھا ازل میں نہ طالع جو تھے درست
ہم کو دل شکستہ قضا نے دلا دیا
گویا محاسبہ مجھے دینا تھا عشق کا
اس طور دل سی چیز کو میں نے لگا دیا
مدت رہے گی یاد ترے چہرے کی جھلک
جلوے کو جس نے ماہ کے جی سے بھلا دیا
ہم نے تو سادگی سے کیا جی کا بھی زیاں
دل جو دیا تھا سو تو دیا سر جدا دیا
بوے کباب سوختہ آئی دماغ میں
شاید جگر بھی آتش غم نے جلا دیا
تکلیف درد دل کی عبث ہم نشیں نے کی
درد سخن نے میرے سبھوں کو رلا دیا
ان نے تو تیغ کھینچی تھی پر جی چلا کے میر
ہم نے بھی ایک دم میں تماشا دکھا دیا
میر تقی میر

ان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھا

دیوان اول غزل 140
کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا
ان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھا
جلوہ ہے اسی کا سب گلشن میں زمانے کے
گل پھول کو ہے ان نے پردہ سا بنا رکھا
جوں برگ خزاں دیدہ سب زرد ہوئے ہم تو
گرمی نے ہمیں دل کی آخر کو جلا رکھا
کہیے جو تمیز اس کو کچھ اچھے برے کی ہو
دل جس کسو کا پایا چٹ ان نے اڑا رکھا
تھی مسلک الفت کی مشہور خطرناکی
میں دیدہ و دانستہ کس راہ میں پا رکھا
خورشید و قمر پیارے رہتے ہیں چھپے کوئی
رخساروں کو گو تونے برقع سے چھپا رکھا
چشمک ہی نہیں تازی شیوے یہ اسی کے ہیں
جھمکی سی دکھا دے کر عالم کو لگا رکھا
لگنے کے لیے دل کے چھڑکا تھا نمک میں نے
سو چھاتی کے زخموں نے کل دیر مزہ رکھا
کشتے کو اس ابرو کے کیا میل ہو ہستی کی
میں طاق بلند اوپر جینے کو اٹھا رکھا
قطعی ہے دلیل اے میر اس تیغ کی بے آبی
رحم ان نے مرے حق میں مطلق نہ روا رکھا
میر تقی میر

اور پھر ایک دن دل کی ساری زمیں درد کی مملکت میں ملا لی گئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 216
لشکرِ عشق نے جب سے خیمے کیے کچھ نہ کچھ روز سرحد بڑھا لی گئی
اور پھر ایک دن دل کی ساری زمیں درد کی مملکت میں ملا لی گئی
رات کو رک کے صحرا جگایا گیا جب تھکن سے بدن کی طنابیں گریں
اپنے ہاتھوں کے تکیے بنائے گئے اپنی مٹی کی چادر بچھالی گئی
ایک چڑیا کی آواز آتی رہی میرے بچوں کو مجھ سے چھڑایا گیا
میری بستی سے مجھ کو نکالا گیا میرے جنگل میں بستی بسا لی گئی
دستِ خالی پہ کیا حوصلہ کیجئے کیسے جینے کی قیمت ادا کیجئے
اب کے دربار میں نذرِ سر بھیج کر بچ نکلنے کی صورت نکالی گئی
کوچۂ رہزناں سے گزرتے ہوئے کچھ بچانا بھی تھا کچھ لٹانا بھی تھا
اپنی صدیوں کا سونا لٹایا گیا اپنے خوابوں کی دُنیا بچالی گئی
ختم ہوتا ہے اس رات کا ماجرا اب یہ کیا پوچھتے ہو کہ پھر کیا ہوا
پھر چراغوں کی آنکھیں بجھا دی گئیں پھر گلوں کی زباں کاٹ ڈالی گئی
سارے منظر غبارِ پسِ کارواں ہو گئے بام و در سب دھواں ہو گئے
اب مناجات کا وقت ہے گھر چلو سیر کی جاچکی خاک اڑا لی گئی
عرفان صدیقی

جس گھر سے سر اٹھایا اس کو بٹھا کے چھوڑا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 3
اے عشق تو نے اکثر قوموں کو کھا کے چھوڑا
جس گھر سے سر اٹھایا اس کو بٹھا کے چھوڑا
رایوں کے راج چھینے شاہونکے تاج چھینے
گردن کشوں کو اکثر نیچا دکھا کے چھوڑا
فرہاد کوہکن کی لی تو نے جان شیریں
اور قیس عامری کو مجنوں بنا کے چھوڑا
یعقوب سے بشر کو دی تو نے ناصبوری
یوسف سے پارسا پر بہتان لگا کے چھوڑا
عقل و خرد نے تجھ سے کچھ چپقلش جہاں کی
عقل و خرد کا تو نے خاکہ اڑا کے چھوڑا
افسانہ تیرا رنگین، روداد تیری دلکش
شعر و سخن کا تو نے جادو بنا کے چھوڑا
اک دسترس سے تیری حالیؔ بچا ہوا تھا
اس کے بھی دل پہ آخر چرکا لگا کے چھوڑا
الطاف حسین حالی

دشت کیسا پڑا ہے رستے میں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 116
وقت چپ سا کھڑا ہے رستے میں
دشت کیسا پڑا ہے رستے میں
آپ کا غم ہو یا زمانے کا
کوس جو ہے کڑا ہے رستے میں
سنگ ریزوں کو دیکھنے والو
دل سا ہیرا پڑا ہے رستے میں
کوئی کانٹا ہے یا کوئی گل ہے
دل کا دامن اڑا ہے رستے میں
اس طرح چپ کھڑے ہیں ہم جیسے
ایک پتھر گڑا ہے رستے میں
دل اگر بجھ گیا تو پھر باقیؔ
ایک کانٹا بڑا ہے رستے میں
باقی صدیقی