ٹیگ کے محفوظات: اڑایا

پھر اُس کے بعد پرندے نے گھر بنایا تھا

شبیہِ حُجرۂ وحشت بنا کے لایا تھا
پھر اُس کے بعد پرندے نے گھر بنایا تھا
لہو کا رنگ یقینا” سفید ہے بھائی!
کہ اُس ذلیل نے ماں پر بھی ہاتھ اُٹھایا تھا
ہوا سے باندھ کے بن میں گھسیٹ لایا ہوں
مرے چِراغ نے تیرا مذاق اُڑایا تھا
میں سینہ تان کے نکلا تھا جانبِ مقتل
کئی ہزار دعاؤں کا مجھ پہ سایہ تھا
یہاں پہ رقص کا مطلب ہے زندگی پیارے!
کہ اس جگہ مرے مُرشد نے سر جھُکایا تھا
مرے پڑوس میں رہتی ہے وہ پری پیکر
سُنا ہے جس نے محبت میں زہر کھایا تھا
حیا فروش محلّے کی عورتوں نے مجھے
تمھارے نام سے چھیڑا تھا ، ورغلایا تھا
مجھے تو آج بھی لگتا ہے میں پرندہ ہوں
کہ مجھ پہ بانجھ درختوں نے حق جتایا تھا
افتخار فلک

آپ نے اپنا وعدہ نبھایا نہیں ہم نہیں بولتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
اب کے بھی چاند چہرہ دکھایا نہیں ہم نہیں بولتے
آپ نے اپنا وعدہ نبھایا نہیں ہم نہیں بولتے
وہ کہ پہلے پہل سرخ ہونٹوں پہ تھا مژدۂ عید سا
کوئی مژدہ پھر ایسا سنایا نہیں ہم نہیں بولتے
چاہتوں کا جو سندیس لیکر گیا آپ تک آپ نے
بام سے وہ کبوتر اڑایانہیں ہم نہیں بولتے
مثل شعلوں کے لَو دے اٹھے جو بہ سطحِ نظرآپ نے
پیرہن وہ بدن پر سجایا نہیں ہم نہیں بولتے
وہ کہ مہکار جس کی بہ شدّت ہمیں بھی بلاتی کبھی
پھول انگناں میں ایسا کھلایا نہیں ہم نہیں بولتے
ماجد صدیقی

دِل میں جو بات ہے ہونٹوں پہ بھی لایا کیجے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
حدّتِ خوں کے تقاضے نہ چھپایا کیجے
دِل میں جو بات ہے ہونٹوں پہ بھی لایا کیجے
سرد مہری سا بُرا وار نہ کیجے ہم پر
جانبِ غیر ہی یہ تِیر چلایا کیجے
یہ جنہیں مطلعِٔ انوار سمجھتے ہیں سبھی
ان لبوں سے کوئی مژدہ بھی سُنایا کیجے
حاصلِ عمر ہے یہ حرف، میانِ لب و چشم
خواہش قرب نہ باتوں میں اُڑایا کیجے
تشنگی جس سے کبھی دیدۂ باطن کی مِٹے
ایسا منظر بھی کبھی کوئی دکھایا کیجے
سامنا پھر نہ کسی لمحۂ گُستاخ سے ہو
دل میں سوئے ہوئے ارماں نہ جگایا کیجے
ہم مصوّر تجھے ٹھہرائیں کہ شاعر ماجدؔ
عکسِ جاناں ہی بہ ہر حرف نہ لایا کیجے
ماجد صدیقی

یہ تم خود ہو کہ مجھ کو آزمایا جا رہا ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 79
نظر کو پھر کوئی چہرہ دکھایا جا رہا ہے
یہ تم خود ہو کہ مجھ کو آزمایا جا رہا ہے
بہت آسودگی سے روز و شب کٹنے لگے ہیں
مجھے معلوم ہے مجھ کو گنوایا جا رہا ہے
سرِ مژگاں بگولے آ کے واپس جا رہے ہیں
عجب طوفان سینے سے اٹھایا جا رہا ہے
مرا غم ہے اگر کچھ مختلف تو اس بنا پر
مرے غم کو ہنسی میں کیوں اڑایا جا رہا ہے
بدن کس طور شامل تھا مرے کارِ جنوں میں
مرے دھوکے میں اس کو کیوں مٹایا جا رہا ہے
وہ دیوارِ انا جس نے مجھے تنہا کیا تھا
اسی دیوار کو مجھ میں گرایا جا رہا ہے
مری خوشیوں میں تیری اس خوشی کو کیا کہوں میں
چراغِ آرزو! تجھ کو بجھایا جا رہا ہے
خرد کی ساگی دیکھو کہ ظاہر حالتوں سے
مری وحشت کا اندازہ لگایا جا رہا ہے
ابھی اے بادِ وحشت اس طرف کا رخ نہ کرنا
یہاں مجھ کو بکھرنے سے بچایا جا رہا ہے
عرفان ستار

اس گریباں ہی سے اب ہاتھ اٹھایا ہم نے

دیوان اول غزل 610
چاک پر چاک ہوا جوں جوں سلایا ہم نے
اس گریباں ہی سے اب ہاتھ اٹھایا ہم نے
حسرت لطف عزیزان چمن جی میں رہی
سر پہ دیکھا نہ گل و سرو کا سایہ ہم نے
جی میں تھا عرش پہ جا باندھیے تکیہ لیکن
بسترا خاک ہی میں اب تو بچھایا ہم نے
بعدیک عمر کہیں تم کو جو تنہا پایا
ڈرتے ڈرتے ہی کچھ احوال سنایا ہم نے
یاں فقط ریختہ ہی کہنے نہ آئے تھے ہم
چار دن یہ بھی تماشا سا دکھایا ہم نے
بارے کل باغ میں جا مرغ چمن سے مل کر
خوبی گل کا مزہ خوب اڑایا ہم نے
تازگی داغ کی ہر شام کو بے ہیچ نہیں
آہ کیا جانے دیا کس کا بجھایا ہم نے
دشت و کہسار میں سر مار کے چندے تجھ بن
قیس و فرہاد کو پھر یاد دلایا ہم نے
بے کلی سے دل بیتاب کی مر گذرے تھے
سو تہ خاک بھی آرام نہ پایا ہم نے
یہ ستم تازہ ہوا اور کہ پائیز میں میر
دل خس و خار سے ناچار لگایا ہم نے
میر تقی میر

یہ کون شگوفہ سا چمن زار میں لایا

دیوان اول غزل 106
اس چہرے کی خوبی سے عبث گل کو جتایا
یہ کون شگوفہ سا چمن زار میں لایا
وہ آئینہ رخسار دم بازپس آیا
جب حس نہ رہا ہم کو تو دیدار دکھایا
کچھ ماہ میں اس میں نہ تفاوت ہوا ظاہر
سو بار نکالا اسے اور اس کو چھپایا
اک عمر مجھے خاک میں ملتے ہوئے گذری
کوچے میں ترے آن کے لوہو میں نہایا
سمجھا تو مجھے مرگ کے نزدیک پس از دیر
رحمت ہے مرے یار بہت دور سے آیا
یہ باغ رہا ہم سے ولے جا نہ سکے ہم
بے بال و پری نے بھی ہمیں خوب اڑایا
میں صید رمیدہ ہوں بیابان جنوں کا
رہتا ہے مرا موجب وحشت مرا سایا
یا قافلہ در قافلہ ان رستوں میں تھے لوگ
یا ایسے گئے یاں سے کہ پھر کھوج نہ پایا
رو میں نے رکھا ہے در ترسا بچگاں پر
رکھیو تو مری شرم بڑھاپے میں خدایا
ٹالا نہیں کچھ مجھ کو پتنگ آج اڑاتے
بہتوں کے تئیں بائو کا رخ ان نے بتایا
ایسے بت بے مہر سے ملتا ہے کوئی بھی
دل میر کو بھاری تھا جو پتھر سے لگایا
میر تقی میر