ٹیگ کے محفوظات: اڑان

خیمہ مگر اُڑا کسی چڑیا کی جان کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
شاہیں پہ بندھ رہا تھا نشانہ، کمان کا
خیمہ مگر اُڑا کسی چڑیا کی جان کا
آئے گی کب، کہاں سے، نجانے نمِ یقیں
ہٹتا نہیں نظر سے بگولا گمان کا
اونچا اُڑا، تو سمتِ سفر کھو کے رہ گئی
رُخ ہی بدل گیا، مری سیدھی اُڑان کا
کیا جانیے، ہَوا کے کہے پر بھی کب کھلے
مشتِ خسیس سا ہے چلن، بادبان کا
ہم پَو پَھٹے بھی، دھُند کے باعث نہ اُڑ سکے
یوں بھی کھُلا کِیا ہے، عناد آسمان کا
ماجدؔ نفس نفس ہے گراں بار اِس طرح
دورانیہ ہو جیسے کسی امتحان کا
ماجد صدیقی

جو برگ بھی تھا سلگتی زبان جیسا تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
گُماں بہار پہ دیپک کی تان جیسا تھا
جو برگ بھی تھا سلگتی زبان جیسا تھا
وُہ دن بھی تھے کہ نظر سے نظر کے ملنے پر
کسی کا سامنا جب امتحان جیسا تھا
یہ کیا ہُوا کہ سہارے تلاش کرتا ہے
وُہ پیڑ بھی کہ چمن میں چٹان جیسا تھا
کسی پہ کھولتے کیا حالِ آرزو، جس کا
کمال بِکھرے پروں کی اُڑان جیسا تھا
تنی تھی گرچہ سرِ ناؤ سائباں جیسی
سلوک موج کا لیکن کمان جیسا تھا
کہاں گیا ہے وُہ سرچشمۂ دُعا اپنا
کہ خاک پر تھا مگر آسمان جیسا تھا
نظر میں تھا ہُنرِ ناخُدا، جبھی ماجدؔ
یقین جو بھی تھا دل کو گمان جیسا تھا
ماجد صدیقی

عذاب کیا یہ مسلسل ہماری جان پہ ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
لبوں پہ گرد ہے اِک زنگ سا زبان پہ ہے
عذاب کیا یہ مسلسل ہماری جان پہ ہے
تمہاری ہاں میں ملائیں گے ہاں نہ کب تک ہم
کچھ اور کوٹئے لوہا ابھی تو سان پہ ہے
نہ اُس شجر کی خبر اِس شجر تلک پہنچے
اِسی خیال سے قدغن ہرِاک اڑان پہ ہے
اُسے یہ ناز ہمارے ہی عجز نے بخشا
بزعمِ خویش قدم جس کا آسمان پہ ہے
پتہ ہے اُس کو نشانوں کے زاویوں کا بھی
وہ جس کی ساری توجہ ابھی کمان پہ ہے
وہ شب کی اوٹ سے کچھ اور ہی نکالے گا
کہ جس کا دھیان دروں پر لگے نشان پہ ہے
اُتر کے دشت میں ماجدؔ رہے نہ یوں شاید
گمان اپنے تحفّظ کا جو مچان پہ ہے
ماجد صدیقی

بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پر

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 26
ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پر
آ کر گرا تھا ایک پرندہ لہو میں تر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر
پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ
دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر
یارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں
سایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر
کتنے ہی زخم ہیں مرے اک زخم میں چھپے
کتنے ہی تیر آنے لگے اِک نشان پر
جل تھل ہوئی تمام زمیں آس پاس کی
پانی کی بوند بھی نہ گری سائبان پر
ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے
چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر
سایہ نہیں تھا نیند کا آنکھوں میں دور تک
بکھرے تھے روشنی کے نگیں آسمان پر
حق بات آ کے رک سی گئی تھی کبھی شکیبؔ
چھالے پڑے ہوئے ہیں ابھی تک زبان پر
شکیب جلالی

بدن کے شہر میں دل کی دکان کیا کرتے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 521
فراق بیچتے کیسے، پلان کیا کرتے
بدن کے شہر میں دل کی دکان کیا کرتے
ہمیں خبر ہی نہ تھی رات کے اترنے کی
سو اپنے کمرے کا ہم بلب آن کیا کرتے
نکل رہی تھی قیامت کی دھوپ ایٹم سے
یہ کنکریٹ بھرے سائبان کیا کرتے
تھلوں کی ریت پہ ٹھہرے ہوئے سفینے پر
ہوا تو تھی ہی نہیں بادبان کیا کرتے
بدن کا روح سے تھا اختلاف لیکن ہم
خیال و واقعہ کے درمیان کیا کرتے
فلک نژاد تھے اور لوٹ کے بھی جانا تھا
زمیں کے کس طرح ہوتے، مکان کیا کرتے
نمازاوڑھ کے رکھتے تھے، حج پہنتے تھے
ترے ملنگ تھے ہم ،دو جہان کیا کرتے
دکانِ دین فروشی پہ بِک رہا تھا تُو
تجھے خریدتے کیسے ، گمان کیا کرتے
نہ ہوتی صبحِ محمدثبوتِ حق کیلئے
تو یہ چراغوں بھرے آسمان کیا کرتے
پھر اس کے بعد بلندی سے کیا ہمیں منصور
مقامِ عرش سے کوئی اڑان کیا کرتے
منصور آفاق